فیصل آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں کو جنسی ہراساں کرنے کا انکشاف


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں کو پولیس افسران کی طرف سے جنسی ہراساں کئے جانے اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ کانسٹیبل سے ڈی ایس پی تک کے مرد پولیس اہلکار اس معاملے میں براہ راست ملوث بتائے جارہے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں خواتین اہلکاروں کو مختلف طریقوں سے جنسی ہراساں کئے جانے کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ پنجاب پولیس میں بھرتی ہونے والی نئی لیڈی کانسٹیبل اس صورتحال کا خاص نشانہ بنتی ہیں۔ تاہم پرانی اہلکاروں کو بھی افسران کی طرف سے معافی نہیں ملتی۔ذرائع کے مطابق ناصرف پولیس لائنز بلکہ چوکی تھانوں میں تعینات خواتین اہلکاروں کو بھی جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم ڈسپلن نوکری کی شرائط کے باعث افسروں اور ساتھی اہلکاروں کی ان غیرقانونی اور غیراخلاقی حرکتوں کیخلاف آوازنہ اٹھانے اور سب کچھ خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں نئی بھرتی اہلکاروں کو ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ‘ او ایس آئی اور لائن آفیسر کی طرف سے جنسی ہراساں کرنے اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر نے خواتین اہلکاروں کو اپنے آفس کے سامنے ٹینٹ لگوا کر کئی روز دن رات وہاں رکھا اور چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت ان کے کیمپ میں آدھمکتے جبکہ اکثر ا ن کی چیکنگ نما ہراسانی رات کے وقت ہوتی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران خواتین اہلکاروں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔ خواتین اہلکاروں کو پولیس ہسپتال میں بھی مرد ڈاکٹرز اور مرد عملے سے چیک اپ کروانا پڑتا ۔ خواتین اہلکاروں کو پریڈ کروانے والے عملے کی طرف سے بھی ہراساں کئے جانے کی صورتحال رہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوکی تھانوں میں تعینات اہلکاروں کو بھی ساتھی عملے اور خاص طور ر تھانیداروں کی طرف سے جنسی ہراساں کئے جانے کی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں مگر ان پر متعلقہ اہلکاروں کیخلاف ایکشن لینے کی بجائے اعلیٰ افسران معاملے کو رفع دفع کرنے کی ہی کوشش کرتے ہیں۔

Related posts