رانا ثناء اللہ کیخلاف’’ ٹارگٹ کلنگ گینگ‘‘ کیس کھولنے کی تیاریاں


فیصل آباد(احمد یٰسین) پی ٹی آئی حکومت نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کیخلاف ٹارگٹ کلنگ گینگ کیس کھولنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ رانا ثناء اللہ پر الزام ہے کہ وہ فیصل آباد میں ٹارگٹ کلنگ گینگ چلاتے رہے ہیں ۔ اس گینگ کے ذریعے انہوں نے دو درجن سے زائد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کروائی۔ ایک پولیس انسپکٹر رانا فرخ وحیداس گینگ کا سربراہ تھا۔ جبکہ گینگ رانا ثناء اللہ کی سرپرستی اور زیر کنٹرول چلائے جانے کی رپورٹس ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خاں طویل عرصہ سے الزامات کی زد میں ہیں کہ وہ فیصل آباد میں ٹارگٹ کلنگ گینگ چلاتے ہیں اور انہوں نے دو درجن سے زائد افراد کو سیاسی اور ذاتی مخالفت پر موت کے گھاٹ اتروا دیا ۔ اس حوالے سے پولیس انسپکٹر رانا فرخ وحید کا نام بھی تواتر سے سامنے آتا رہا ہے ۔ اس گینگ کا’’ بھانڈا بیچ چوراہے اس وقت پھوٹا ‘‘جب مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق چیئرمین مارکیٹ کمیٹی علی اصغر بھولا گجر کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا ۔ اس حوالے سے پولیس کی رپورٹ میں سامنے آیا کہ انہیں کسی اجرتی قاتل نے ’’شوٹ ‘‘ کیا ہے اور قاتل کوئی انتہائی پروفیشنل قسم کا بندہ ہے۔ مزید تحقیقات پر انسپکٹر فرخ وحید ٹارگٹ کلنگ گینگ کا نام سامنے آیا۔ فیصل آباد کے متعدد تھانوں میں سب انسپکٹر ہوتے ہوئے بھی ایس ایچ رہنے والے فرخ وحید کو رانا ثناء اللہ کی پشت پناہی حاصل ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آچکی ہیں۔ بھولا گجر قتل کیس میں براہ راست ملوث ملزم علی کمانڈو(نوید کمانڈو) بعد ازاں پکڑا گیا۔ پولیس نے تحقیقات کیں تو مزید سامنے آیا کہ پکڑا جانیوالا قاتل ’’کمانڈو‘‘ بہترین شوٹر ہے اور پولیس مقابلوں کے حوالے سے شہرت رکھنے والے انسپکٹر فرخ وحید کا دست راست ہے۔ پرائیویٹ فرد ہونے کے بوجود تھانوں میں فرخ وحید کے تمام معاملات ’’کمانڈو‘‘ ہی دیکھتا تھا جبکہ تمام پولیس مقابلوں میں بھی گمنام ’’کمانڈو‘‘ کے طور پر فرخ وحید کے ساتھ ہی ہوتا تھا جبکہ پولیس کا سرکاری اسلحہ بھی وہ کھلے عام استعمال کرتا تھا۔ اس وقت کے سی پی او فیصل آباد سہیل حبیب تاجک نے معاملے کی سنگینی دیکھتے ہوئے خود تحقیقات کیں۔ اس دوران سامنے آیا کہ انسپکٹر فرخ وحید اکیلا نہیں تھا ۔ وہ رانا ثناء اللہ کے ساتھ مل کر ٹارگٹ کلنگ گینگ چلا رہا تھا۔ اس کے کئے ہوئے متعدد پولیس مقابلے بھی جعلی تھے اور ان مقابلوں میں مارے جانیوالوں کی اکثریت ایسے افراد کی تھی جن سے رانا ثناء اللہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر خطرہ تھا جبکہ بہت سے افراد کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا۔ ایسی ہی ٹارگٹ کلنگ میں جھمرہ کے سابق یو سی ناظم اور سابق سپیکر افضل ساہی کے ساتھی خرم باجوہ کا نام بھی شامل تھا جبکہ بھولا گجر کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا ہی نشانہ بنایا گیا۔ اس میں بھی رانا ثناء اللہ کا نام سامنے آگیا تھا ۔ رپورٹس میں سامنے آیا کہ بھولا گجر قتل کیس کی وجہ ایک جعلی پولیس مقابلہ ہی بنا تھا ۔ جو کہ انسپکٹر فرخ وحید ہی نے کیا تھا۔ اس تمام جعلی مقابلوں کے علاوہ سمن آباد کے دو بھائیوں کے قتل کی ذمہ داری بھی اس کے لواحقین رانا ثناء اللہ پر ڈالتے رہے ہیں۔انہوں نے رانا ثناء اللہ کیخلاف متعدد مرتبہ احتجاج بھی کیا مگر مسلم لیگ ن کی حکومت میں پنجاب کے طاقتور ترین وزیر کیخلاف کسی نے کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کی۔ سابق وزیر قانون کے قتل کی دو درجن وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام سابق میئر فیصل آباد چوہدری شیر علی بھی تواتر سے دہراتے رہے ہیں ۔ چوہدری شیر علی نے متعدد مرتبہ پریس کانفرنس میں یہ الزام دہرایا اور رانا ثناء اللہ کیخلاف غیرجانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ وہ کھلے عام کہتے تھے کہ میاں شہباز شریف نے فیصل آباد کو ایک قاتل کے سپرد کیا ہوا ہے۔ مگر ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل بیرون ملک فرار ہو جانیوالے انسپکٹر فرخ وحید کا ایک وڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے رانا ثناء اللہ پر لگنے والے الزامات کی تصدیق کی اور کہا کہ رانا ثناء اللہ ان کی سرپرستی کرتے تھے اور گینگ انہی کا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کیخلاف’’ ٹھپ‘‘کی گئی تمام انکوائریاں دوبارہ اوپن کی جارہی ہیں۔ اس حوالے سے پولیس حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ فیصل آباد میں ایسا پولیس آفیسر لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو اس معاملے میں کسی کا دباؤ قبول نہ کرے۔

Related posts