رانا ثناء اللہ کی سیاست: مریم نواز سے محترمہ مریم نواز تک

ملک سے مشرف کا اقتدار ختم ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ میاں شہباز شریف کو ہوا۔ ملک کے ساٹھ فیصد حصے پر بلاشرکت غیرے میاں شہباز شریف دس سال تک برسراقتدار رہے۔ کوئی ان کے مقابل نہیں تھا۔ کوئی ان کیلئے اس عرصے میں چیلنج نہیں تھا۔ ان کا سگا بھائی میاں نواز شریف بھی نہیں۔ دونوں بھائیوں میں بہت پہلے خاموش مفاہمت ہوچکی تھی کہ پنجاب شہباز شریف کے حوالے اور مرکز کی سیاست نواز شریف کریں گے۔ اپوزیشن نام کی کوئی چیز پنجاب میں تھی ہی کہاں۔ دس برس تک پنجاب میں میاں شہباز شریف کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ دور دور تک کوئی مقابل نہیں تھا ان کا۔ ایک دہائی کے اس اقتدار میں میاں شہباز شریف کا کوئی شریک اقتدار بنا تو وہ ان کا اپنا ہی ایک انتہائی قریبی ساتھی رانا ثناء اللہ خاں تھا۔ فیصل آباد ڈویژن کی حد تک وزیر اعلیٰ رانا ثناء اللہ خاں ہی تھے۔ مسلم لیگ ن کے اس ایک دہائی کے اقتدار میں اقتدار کی غلام گردشیں میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی اور مسلم لیگ ن کے بزرگ رہنما اور مشرف کے دور اقتدار میں کئی سال تک نیب کی جیلیں بھگتنے والے چوہدری شیر علی کیلئے بھی بیگانی ہوگئیں۔فیصل آباد سے چوہدری شیرعلی وہ واحد لیڈر تھے جس نے مشرف کی نیب کا سامنا کیا۔ کئی سال جیل میں رہے۔ مگر اقتدار کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ جب مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو شیر علی کی بجائے اقتدار کا ہما رانا ثناء اللہ کے سر پر بٹھا دیا گیا۔


اقتدار کا ہما رانا ثناء اللہ کے سر پربیٹھا نہیں بلکہ میاں شہباز شریف نے زبردستی پکڑ کر اقتدار کے پرندے کو رانا ثناء اللہ کے سرپربٹھادیا۔ رانا ثناء اللہ سال 2008میں ہونیوالا الیکشن جیتے بھی نہیں تھے کہ میاں شہباز شریف نے انہیں صوبائی وزارت قانون اور غیراعلانیہ نائب وزیراعلیٰ بنادیا۔ شائد اس وقت وزارت نہ ملتی تو رانا ثناء اللہ ضمنی الیکشن میں بھی کامیابی نہ سمیٹ پاتے۔ مگر اقتدار کی غلام گردشوں میں پہنچتے ہی رانا ثناء اللہ نے وہ کھیل کھیلنا شروع کیا کہ اقتدار ان کے قدموں میں سمٹنے لگا۔
اقتدار کی غلام گردشوں میں گھومتے ہوئے رانا ثناء اللہ کے مقابل جو بھی آیا۔ ایک ایک کرکے راستے سے ہٹتے گئے۔ سب کی موت طبعی نہیں تھی۔ جانے یہ قدرت کا ہی کھیل تھا یا قدرت کے نام پر کسی دوسرے کا۔ مگر رانا ثناء اللہ کیلئے راستے صاف ہوتے گئے۔ دس سال کے اقتدار کے بعد اچانک اقتدار مسلم لیگ سے ن سے روٹھا تو میاں شہباز شریف کو بھی پنجاب کو الوداع کہہ کر مرکز میں جانا پڑا اور رانا ثنا ء اللہ کو بھی اقتدارکی غلام گردشوں سے باہر نکلنا پڑا۔ ایسے ہی وقت میں رانا ثناء اللہ کے خلاف دبی دبی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ موت کا رقص رچانے کے الزامات پہلے بھی تھے مگر یہ آواز اٹھانے والے ہی خاموش کروا دئیے جاتے تھے۔ میاں شہباز شریف کے دور اقتدار میں اگر رانا ثناء اللہ کیخلاف کوئی آواز سنائی دیتی تھی تو وہ چوہدری شیر علی کی تھی۔ چوہدری شیر علی نے ببانگ دہل نعرہ لگایا کہ رانا ثناء اللہ دو درجن سے زائد افراد کو قتل کروا چکا ہے۔ کئی ایک نام بھی وہ دہراتے رہے۔ مگر ایکشن لینے والے تمام ادارے تو خود رانا ثناء اللہ کے ماتحت تھے۔چوہدری شیر علی کے نعرے اور مطالبات آج اس لئے یاد آئے کہ ایک روز ہی گزرا ہے کہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے رانا ثناء اللہ کی منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتاری کیخلاف احتجاج کیلئے اور رانا ثناء اللہ کی فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سج دھج کے ساتھ فیصل آباد کا دورہ کیا ہے۔ مریم نواز کی رانا ثناء اللہ کے حق میں ریلی نکالنے اور ان کی رہائش گاہ پر جا نے سے ماضی کے کئی دریچے کھلے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے حوالے سے مریم نواز کا نام پہلی بار تو نہیں آیا۔نوے کی دہائی میں جب رانا ثناء اللہ کو میاں شہباز شریف مسلم لیگ ن میں لے کر آئے تھے تو اس کو بھی سیاسی تجزیہ کار ن لیگ کی اندر کی جنگ قرار دیتے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار تو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ رانا ثناء اللہ کے پیپلزپارٹی سے دیس نکالا دئیے جانے کے بعد مسلم لیگ ن میں ان کی انٹری کی وجہ بھی مریم نواز ہی تھیں‘ جب انہیں پیپلزپارٹی نے دیس نکالا دیدیا تھا تو محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی وجہ سے نہیں محترمہ مریم نواز کی وجہ سے رانا ثناء اللہ کو مسلم لیگ ن میں لایا گیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کے بارے میں بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ پہلی بار پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی میں پہنچے تھے۔نوے کی دہائی کا آغاز ہی تھا کہ عام انتخابات میں چوہدری شیر علی قومی کے ساتھ صوبائی نشست پر بھی کامیاب ہوگئے۔ا نہوں نے قومی اسمبلی میں رہنا قبول کیا تو ان کی صوبائی اسمبلی کی چھوڑی ہوئی نشست پر اپ سیٹ یوں ہوا کہ پیپلزپارٹی کے نشان تیر کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے والے رانا ثناء اللہ پنجاب اسمبلی میں پہنچ گئے۔اقتدار کا ہما شریف برادران کے ہاتھ میں ہو اور پی پی پی کا ایک جیالا ضمنی الیکشن میں پنجاب اسمبلی پہنچ جائے۔ اس کا کوئی سوچ بھی نہیں رہا تھا مگر یہ انہونی ہوچکی تھی۔ اس غیر متوقع رزلٹ نے مسلم لیگ ن کو بیک فٹ پر دھکیلا مگر رانا ثناء اللہ کوبھی جیالے سے شیر بنا دیا۔
ایسے ہی وقت میں رانا ثناء اللہ نے اپنی وہ تاریخی تقریر کی جس پر پی پی پی کی لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو نے تاریخی الفاظ کے ساتھ رانا ثناء اللہ کو پی پی پی سے بے دخلی کا پروانہ تھما دیا۔ ہوا کچھ یوں کہ پیپلزپارٹی کا چنیوٹ میں جلسہ عام تھا۔ مقررین میں نئے نئے پنجاب اسمبلی میں پہنچے جیالے رانا ثناء اللہ خاں بھی تھے۔ اور یہیں رانا ثناء اللہ اپنا تاریخی خطاب کرتے ہوئے تاریخی غلطی کر گئے۔سیاست کے کھیل کو پرانا جاننے والوں کے ذہنوں میں شائد آج بھی رانا ثناء اللہ کے اس وقت نئی نئی دلہن بن کر پیا گھر سدھارنے والی مریم نواز کی شادی کا حوالہ دے کر کہے الفاظ آج بھی محفوظ ہوں۔رانا ثناء اللہ نے بھرے مجمع میں جو الفاظ کہے اس کا ثبوت آج بھی چنیوٹ میں درج ایف آئی آر موجود ہے۔ ”کیپٹن صفدر ڈبل شفٹ چلاتا رہا ہے“ اس کے ساتھ مریم نواز اور کلثوم نواز کا نام لے کر اور اشارے کرکر کے جو رانا ثناء اللہ نے کہا اور عوام کو سمجھانے کی کوشش کی۔ کوئی اخلاقیات اجازت نہیں دیتی کے اسے دہرایا جاسکے۔پی پی پی کے ایک سرگرم جیالے نے یہ اب کچھ اس اپوزیشن لیڈر کی اہلیہ اور بیٹی کیلئے کہے تھے جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹوکی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ مگر شہید بی بی نے اس کا الٹا اثر لیا، فوری رانا ثناء اللہ کو پارٹی سے فارغ کردیا۔ پنجاب اسمبلی کے ممبر کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی میں اپنی ایک نشست کھو دی۔ موقع اچھا تھا ن لیگ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور میاں شہباز شریف نے خود کوششیں کرکے رانا ثناء اللہ کو مسلم لیگ ن میں شامل کرلیا۔ اور اگلے ہی الیکشن میں چوہدری شیر علی کو صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ سے محروم کرکے رانا ثناء اللہ کو ان کی جگہ دیدی گئی۔ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ کیخلاف تقریر پر فارغ ہونے والا اسی لیڈر شپ کی آنکھ کا تارہ بن گیا۔


وقت کا کھیل بہت بے رحم ہے۔ مشرف کے آنے سے پہلے مسلم لیگ ن کی آخری حکومت میں مرکز میاں نواز شریف کے پاس تھا تو ملک کے ساٹھ فیصد حصے پر میاں شہباز شریف براجمان ہوئے۔ پہلے سے جاری سرد جنگ تیز ہوگئی اور مسلم لیگ ن میں اندر کھاتے نواز‘ شہباز کے الگ الگ دھڑے بننے لگے تو فیصل آباد میں شہباز شریف کے دھڑے کی قیادت رانا ثناء اللہ کے سپرد کردی گئی۔ نواز شریف کے دھڑے کی قیادت چوہدری شیر علی کے سپرد ہوئی۔ یہ تقسیم ابھی تک ہے۔ مگر ستم ظریفی کہ پنجاب میں نواز شریف کے دھڑے کو اقتدار میں کبھی شیئر نہیں ملا۔ 2008کے بعد پانچ سال کا دورانیہ نواز شریف کے دھڑے نے اپوزیشن کی طرح ہی کاٹا۔2013کے بعد پنجاب کے ساتھ مرکز میں بھی مسلم لیگ ن کی حکومت بنی مگر پنجاب نواز شریف کے دھڑے کیلئے اپوزیشن ہی بنا رہا۔ عابد شیر علی وفاق میں وزیر تھا مگر پنجاب کے تمام محکموں میں یہی حکم تھا کہ اسے نظر انداز کرنا ہے۔


وقت نے ایک اور پلٹا کھایااور مسلم لیگ ن کو 2018کے الیکشن کے بعد ہر طرح کے اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ پی ٹی آئی کی پنجاب اور مرکز میں حکومت بن گئی اور دس ماہ کا دورانیہ شریف فیملی کے خوب احتساب کا تھا۔ رانا ثناء اللہ خاں کے حوالے سے بھی اطلاعات گردش میں تھیں کہ انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ بھولا گجر قتل کیس‘ پولیس انسپکٹر ٹارگٹ کلنگ گینگ میں گرفتار کرلیا جائے گا۔ اچانک ہی ایک دن رانا ثناء اللہ 15کلو ہیروئن سمگل کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ دونوں اطراف سے مختلف مؤقف آرہا ہے مگر یہ تو موضوع ہی نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر میاں شہباز شریف فوری ہی اظہار یکجہتی کیلئے رانا ثناء اللہ کے لاہور والے گھر گئے۔ رانا ثناء اللہ کے اتنے بڑے کیس میں پکڑے جانے پر فیصل آباد میں ن لیگی حلقوں میں سراسیمگی پھیل گئی تھی۔ توڑ پھوڑ کا آغاز ہونے لگا تھا۔ کئی ڈر کر ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی سیاست اور دھڑا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا ہے۔ کہ مریم نواز میدان میں آگئی۔ مریم نواز صرف آتی اورفیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرکے چلی جاتی تو کوئی اعتراض بھی نہ کرتا۔ مگر مریم نے اپنی اور پارٹی کی سیاست بچانے کے ساتھ رانا ثناء اللہ کی سیاسی پوزیشن کو بھی بچانے والا فیصلہ کیا۔ چوہدری شیر علی گروپ کی مخالفت کے باوجود مریم نواز لاہور سے ڈیڑھ سو کے قریب گاڑیوں کا قافلہ لے کر ریلی کی شکل میں فیصل آباد آئی۔ مریم نواز کی ریلی نے فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے ورکر کو چارج کردیا۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر قاسم فارق‘ سٹی صدر شیخ اعجاز‘ موجودہ و سابق ارکان اسمبلی اور دیگر مقامی رہنماؤں نواز ملک‘ رانا افضل‘مہر حامد رشید‘ اکرم انصاری‘ میاں منان‘ اعجاز ورک‘ حاجی خالد سعید‘ منے خان‘ خالدہ منصور‘ مدیحہ رانا‘ شعیب ادریس‘ آزاد علی تبسم‘ میاں فاروق اور کی نااہلی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد اکٹھی نہ کی جاسکی۔ مریم کی تاریخ ساز ریلی کے تاریخی فیصلے کو عوامی ایونٹ نہ بنا سکے مگر ورکر کی حد تک مریم کی ریلی شاندار رہی۔ مریم نواز کی لاہور سے آنیوالی ریلی نے ہی ایسا رنگ جما دیا کہ مقامی قائدین کی نااہلی کا پارٹی کو بڑا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑا۔ مریم نواز کی ریلی نے نہ صرف مسلم لیگ ن کو فائدہ دیا بلکہ رانا ثناء اللہ کو بھی سیاسی موت کا شکار ہونے سے بچا لیا۔ مریم نواز کیخلاف تقریر سے مسلم لیگ میں سفر شروع کرنے والے رانا ثناء اللہ کی سیاست بچی بھی تو محترمہ مریم نواز کی ریلی سے بچی۔ جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھا رانا ثناء اللہ اکیلے میں سوچے گا تو ضرور مریم نواز نے محترمہ مریم نواز بن کر اس کے ساتھ کر کیا دیا ہے۔

Related posts