زرعی ماہرین کی طرف سے کماد کی بوائی کیلئے کاشتکاروں کو ہدایات جاری


فیصل آباد (نیوز لائن)محکمہ زراعت کے زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو کہا ہے کہ وہ بہاریہ کماد کی کاشت آخر مارچ تک مکمل کرلیں۔ کماد کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے میرا اوربھاری میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اور نامیاتی مادہ زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہو موزوں ہے ۔زمین کی تیاری سے پہلے اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد ڈالیں اور روٹا ویٹر دو دفعہ ، چزل ہل ایک دوسرے کے مخالف رخ اور 3سے4دفعہ عام ہل بمعہ سہاگہ سے زمین تیار کریں۔ گنے کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام کاشت کریں ۔ گنے کی زیادہ اور بھر پور پیداوار کے حصول کے لیے 2آنکھوں والے 30ہزار سمے یا 3آنکھوں والے 20ہزار سمے فی ایکڑ ڈالیں یہ تعداد موٹی اقسام میں تقریباً 100سے120من جبکہ باریک اقسام میں 80سے100من بیج سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مخصوص رجر کے ذریعے 8سے10انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں جس سے کھیلی میں تقریباً 9انچ کے فاصلہ پر دو چھوٹے سیاڑ بن جاتے ہیں جس میں الگ الگ بیج صحیح پوزیشن میں رکھا جاسکتا ہے۔ان کھیلیوں میں پہلے سفارش کردہ فاسفورس اورپوٹاش کی کھاد ڈالیں اور پھر بیج ڈال کر مٹی کی ہلکی تہہ سے مٹی ڈال دیں اور پھر ہلکا پانی اس طرح لگائیں کہ کھیلی کاایک تھائی حصہ ہی سیراب ہو ۔ جب کھیلیاں خشک ہونے لگیں تو پھر پانی لگا دیں اور کماد کے اگنے تک حسب ضرورت پانی لگاتے رہیں۔ گنے کی اچھی پیداوار کے حصول کے لیے تقریباً 69کلوگرام نائٹروجن ،46کلوگرام فاسفورس اور 46کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔ تمام فاسفورس اور پوٹاش والی کھاد کاشت کے وقت سیاڑوں میں ڈالیں جبکہ نائٹروجن کھاد کو 3برابر حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ فصل کا اگاؤ مکمل ہونے پر ، ایک حصہ شگوفے نکلنے پر اور ایک حصہ مٹی چڑھانے سے پہلے فصل کو ڈالیں۔بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ نائٹروجن کھاد کی پوری مقدار اپریل کے آخر تک ڈال دیں۔ کماد کو سالانہ 16سے 20دفعہ آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے ۔موسم کے مطابق کماد کی فصل کو آبپاشی کرتے رہیں۔

Related posts