زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں خلاف میرٹ سیاسی بھرتیوں کا انکشاف


فیصل آباد(احمد یٰسین)میاں شہباز شریف کو دور اقتدار میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر سیاسی سیاسی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ سیاسی بھرتیوں میں بہت بڑی تعداد میں سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کی’’ چٹوں‘‘پر بندے رکھے گئے۔ جبکہ ن لیگ کے دیگر رہنماؤں کو حصہ بقدر جثہ نوازا گیا۔سیاسی بھرتیوں کیلئے ن لیگی رہنماؤں نے سیاسی پشت پناہی پر خلاف میرٹ لگنے والے سابق وائس چانسلر رانا اقرار احمد خاں کو استعمال کیا۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی لوگ اب بھی یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہیں اور صورتحال کا علم ہونے کے باوجود میرٹ روند کر بھرتیاں کرنے والوں اور سیاسی پشت پناہی پر رکھے گئے افراد کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ۔ نیوزلائن کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے دس سالہ دور اقتدار کے دوران زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر خلاف میرٹ اور سیاسی سفارشوں پر بھرتیاں کی جاتی رہیں۔ ایڈمنسٹریشن سمیت یونیورسٹی کے ہر شعبہ میں سیاسی بھرتیوں کی بھرمار رہی۔ شہباز شریف کے دور اقتدار کے دوران یونیورسٹی میں سیاسی بنیادوں پر رکھے گئے افراد کی تعداد ایک ہزار سے بھی زائد بتائی جارہی ہے۔ شہباز شریف دور میں 9سال تک یونیورسٹی کے سب سے بڑے عہدے ’’وائس چانسلر ‘‘ پر براجمان رہنے والے سابق وی سی رانا اقرار احمد خاں کی تعیناتی بھی خلاف میرٹ اور سیاسی بنیادوں پر ہوئی۔ رانا اقرار کے دو مرتبہ وی سی بنائے جانے کا واحد میرٹ رانا ثناء اللہ کی سفارش تھی۔ رانا اقرار کو وی سی بنانے کیلئے تین مرتبہ وائس چانسلر کیلئے دیا گیا میرٹ بدلا گیا۔ ذرائع کے مطابق جامعہ زرعیہ کے ایف ایم ریڈیو کا تمام سٹاف خلاف میرٹ اور سفارش ہر رکھا گیا۔ آئی ٹی سیکشن میں بھی خلاف میرٹ افراد رکھنے کی بھرمار رہی۔ فوڈ سائنس میں بھی خلاف میرٹ بھرتیاں ہوئیں ۔ رجسٹرارآفس کا نصف سے زائد عملہ سفارشی ہے۔ رجسٹرار محمد حسین کو خلاف میرٹ ایکسٹینشن دی جاتی رہی۔ کنٹرولر ایگزامینیشن آفس بھی خلاف میرٹ تعیناتیوں کی آماجگاہ رہا۔اورک اور پی آر پی بھی سفارشی تعیناتیوں سے نہ بچ سکے۔ یونیورسٹی میں ایسے افراد کو کوچ اور منیجر رکھا گیا جن کا کوئی تجربہ ہی نہ تھا۔ یونیورسٹی کے سٹیٹ مینجمنٹ آفس میں ایک بھی فرد میرٹ پر نہیں رکھا گیا۔ جامعہ کے کھاد تجزیاتی سنٹر اور عالمی زرعی سنٹر میں بھی سفارشیوں کا ڈیرہ ہے۔وٹرنری سائنس‘ اینیمل ڈیپارٹمنٹ‘ سوشل سائنس ‘ زرعی انجنیئرنگ ‘ فوڈ سائنس ‘ انٹومالوجی‘ ہوم سائنس‘ سوئیل سائنس‘ ماحولیاتی سائنس‘ ڈیری سائنس‘ مائیکروبیالوجی ‘ فارمیسی اور ایگری ایکسٹینشن میں خلاف قواعد بھرتیوں اور تعیناتیوں کی بھرمار ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے سابق قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر اقبال ظفرنے اس معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال کرائی تو ہوشربا انکشافات ہوئے اور بڑے بڑے شرفاء بے نقاب ہوئے مگر یونیورسٹی پر قابض ن لیگی مافیاز نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔ بعد ازاں ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ رانا اقرار کے بعد سے یونیورسٹی وائس چانسلر سے محروم ہے ۔ جامعہ کے انتظامات اب پرووائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا کے سپرد ہیں تا ہم اہم عہدوں پر سفارشیوں پر رکھے جانے کے معاملے نے انہیں بھی چکرا رکھا ہے۔

Related posts