زمینی پانی کے تحفظ کیلئے واٹر ایکٹ 2018ء کا مسودہ تیار


فیصل آباد(نیوز لائن) حکومت پنجاب نے فیصل آباد سمیت پانچ بڑے شہروں کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسیز کو بااختیار بنانے کیلئے میونسپل واٹر ایکٹ 2018ء کا مسودہ قانون تیار کر لیا۔جس کے تحت تمام سرکاری و نجی اداروں کو زمینی پانی کے حصول کیلئے پرمٹ حاصل کرنا لازم ہو گا۔ فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، لاہور اور گوجرانوالہ کے آبی اداروں کو میونسپل واٹر، گراؤنڈ واٹر، بارشیپانی اور سر فس واٹر کا مکمل محافظ بنا دیا جائیگا۔ آبی سرگرمیوں کو کنٹرول و مانیٹرنگ کیلئے صوبائی سطح پر واٹر کمیشن کی تشکیل کی جائیگی۔ جس کی پیشگی اجازت حاصل کئے بغیر کمرشل، زرعی اور انڈسٹریل مقاصد کیلئے پانی حاصل کرنے سے قبل نہ تو کنواں کھودا جائیگا اور نہ ہی ٹیوب ویلز کیلئے بورنگ کی جا سکے گی۔گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کئے بغیر ندی نالوں اور دریاؤں میں ڈالنے کی اجازت نہ ہو گی۔ ایکٹ کے نفاذ کے بعد تمام ضلعی حکومتیں تین سال کے اندر واٹر اینڈ سینی ٹیشن ماسٹر پلان بنانے کی پابند ہوں گی۔ نجی واٹر کمپنیوں کو کاروبار کرنے سے قبل منظوری فارم حاصل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ پانی کے نرخوں کی وصولی کا تعین واٹر کمیشن کریگا۔ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 50ہزار جرمانہ اور ایک سال کی سزا ہو گی۔

Related posts