سال2018: خواتین پر ظلم وتشدد کے983 مقدمات درج


فیصل آباد (نیوز لائن) سال 2018کے دوران فیصل آباد میں خواتین کے حقوق کی پامالی اور ان پر ظلم وتشدد کا سلسلہ جاری رہا،اور ریاستی قوانین کے مطابق دئیے گئے حقوق کی فراہمی کے وعدوں پر عملدرآمد کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق100 سے زائدخواتین کو قتل کر دیا گیا، سیکڑوں خواتین اغواء ہوئیں،درجنوں کوجنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا،جبکہ متعددکو جنسی طور پر ہراساں کیا اورجان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔سال 2018 کے دوران خواتین کے خلاف جرائم کے سرکاری سطح پر رپورٹ کیے گئے واقعات کی تعداد ہی خطرناک حد تک زیادہ ہے، جبکہ معاشرتی مسائل، خاندانی دباؤ سمیت مختلف وجوہات کی بناء پر سیکڑوں کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے گئے۔خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم عوام پاکستان کے مطابق گزشتہ سال کے دوران فیصل آباد میں مجموعی طور پر خواتین کے خلاف جرائم کے 983 مقدمات رجسٹرڈ ہوئے جن میں جنسی زیادتی کے174،جنسی زیادتی کی کوشش کے 42، اجتماعی زیادتی کے 30، قتل کے 80، اقدام قتل کے 1، کاروکاری /غیرت کے نام پر قتل کے 23، اغواء کے 467، اغواء کی کوشش کے 36، جلنے اور تیزاب پھینکنے کے 19، زبردستی شادی کے 8، تشدد کے 73، خواتین کی سمگلنگ کے 1، زبردستی حمل ضائع کروانے کے 12، جنسی ہراسانی کے 16، اور اعضاء کاٹنے کا ایک کیس شامل ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کی موجودہ صورتحال پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم” عوام” کی ایگزیکٹو دائریکٹر نازیہ سردار کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25,34 اور35 کے مطابق خواتین کو مردوں کے مقابلے میں یکساں حقوق حاصل ہیں، اور وہ ریاست کی آزاد شہری ہونے کی رو سے اپنے معاملات میں بااختیار ہیں۔مزید ان قوانین کو موثر بنانے اور ان پر عملدرآمد کے لیے عدلیہ کے فیصلہ جات بھی موجود ہیں، لیکن ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے مامور ادارے اور سوسائٹی ان حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی قوانین بنانا اہم اور مثبت عمل ہے۔مزیدیہ کہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی بیخ کنی ،طے شدہ اہداف اور مقاصد کے حصول کے لئے ایک مضبوط اور موثر عملدرآمدی نظام ناگزیر ہے۔

Related posts