سرمایہ داروں کی باہمی سرد جنگ : فیصل آباد ڈرائی پورٹ اجڑ گئی


فیصل آباد(ندیم جاوید) صنعتکاروں کے گروپوں کے مابین سرد جنگ کی وجہ سے فیصل آباد ڈرائی پورٹ اجڑ گئی۔ متحارب گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے فیصل آباد اور فیصل آباد ڈرائی پورٹ کو قربان کرنے کیلئے سرگرم ہیں۔ سرد جنگ کی گروپنگ میں بڑے بڑے سرمایہ داروں‘صنعتکاروں اور ایکسپورٹرز کے نام سامنے آرہے ہیں۔ سرد جنگ اور مفادات کی لڑائی کے شعلوں کو ہوا دینے کیلئے ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے جبکہ اختلافی معاملات کو حل کرنے اور صلح کیلئے کوئی ایک بھی کوشش کرنے کو تیار نہیں ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے ممبران کی باہمی لڑائی اور سرد جنگ کی وجہ سے فیصل آباد کی ایکسپورٹ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ فیصل آباد کے ایکسپورٹراو رامپورٹر متعد دگروپوں میں منقسم ہیں ۔ سرمایہ داروں کے مابین سرد جنگ اور مفادات کی لڑائی انتہا کو چھو رہی ہے اور کوئی بھی ذاتی مخاصمت کو پس پشت ڈال کر فیصل آباد اور فیصل آباد ڈرائی پورٹ کے مفاد کو ترجیح دینے کو تیار نہیں ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کے ممبران اور ان کے ساتھیوں کی سرد جنگ میں بڑے بڑے نام سامنے آرہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی اور ملک کے معروف صنعتکار میاں منشاء کا نام بھی اس حوالے سے سامنے آتا رہا ہے۔ میاں منشاء کے ایک قریبی عزیز شیخ خرم مختار اور شیخ مختار کا نام فیصل آباد ڈرائی پورٹ ٹرسٹ کی سیاست میں انتہائی اہم گردانہ جاتا ہے۔ فیصل آباد ڈویلپمنٹ ٹرسٹ کے چیئرمین عمر نذر شاہ کا نام بھی اس سرد جنگ کا سامنے آرہا ہے۔ یونیورسٹی آف فیصل آباد کے سی ای او اور معروف صنعتکار میاں محمد حنیف کا نام بھی اس سرد جنگ کا اہم کردار بتایا جاتا ہے۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین سہیل پاشا‘ سابق وفاقی وزیر ٹیکسٹائل مشتاق علی چیمہ ‘فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے سابق صدر میاں محمد ادریس ‘ آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمدسعید شیخ ‘ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر مزمل سلطان‘ معروف صنعتکار نسیم سہگل ‘ پی ٹی آئی رہنما اسد معظم کے والد محمد معظم‘ تحریک انصاف کے ایم این اے شیخ خرم شہزاد کے بھائی اور سابق چیئرمین پی ٹی ای اے اصغر علی‘ شہزاد صدیق اور متعدد دیگر صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کے نام اس حوالے سے سامنے آرہے ہیں۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد ڈرائی پورٹ سے ماضی میں سو سے ڈیڑھ سو تک کنٹینر جاتے رہے ہیں کئی دوسرے شہروں کی شپمنٹ بھی یہاں سے ہوتی تھی مگر اب پوزیشن یہ ہو چکی ہے کہ کنٹینرز کی تعداد ڈبل فگرز میں بھی نہیں جارہی ۔ روزانہ پانچ سے چھے کنٹینرز کی اوسط ہے جس سے ڈرائی پورٹ کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں ہو رہا۔