سچ کا پرچار کرنیوالے جھوٹ کے علمبرداروں کا احتساب کون کریگا


احمد یٰسین کی صحافتی سچائیاں
صرف فیصل آباد ہی کیا پاکستان بھر میں ٹی وی چینلوں پر اور اخبارات میں سچ سچ سچ کی گردان مل رہی ہے۔ میڈیا احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے لگا لگا کر سیاسی جماعتوں ‘ حکومتوں اور عوام کا جینا دوبھر کئے ہوئے ہے۔ پی ٹی آئی کرپشن کے خلاف اور احتساب کے حق میں سب سے زیادہ نعرہ زن ہے اور اسی نعرے کیساتھ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکی ہے ۔مگر سچ ہے کہ کہیں نظر ہی نہیں آرہا۔ پی ٹی آئی کے سچ کے نعرے بھی صرف زبانی جمع خرچ ہی ثابت ہو رہے ہیں ۔ پاکستان میں شائد ہی کوئی میڈیا ’’آؤٹ لیٹ ‘‘ایسا ہو جس کی بنیاد جھوٹ پر نہیں رکھی گئی ہو۔ سچ کے نعرے لگانے والے خود سچ سے انتہائی دور نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے تمام میڈیا مالکان جھوٹ کے سب سے بڑے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ کوئی اخبار اور ٹی وی چینل مالک اپنے میڈیا آؤٹ لیٹ کے بارے میں سچ بولنے کی ہمت کرپارہا۔
پاکستان کا سب سے پسا ہوا مزدور ’’اخباری ورکر‘‘ ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس مزدور کی کوئی آواز نہیں ۔ پاکستان کا کوئی’’ میڈیاآؤٹ لیٹ‘‘ اخباری اور چینل ورکرز کی آواز نہیں بنتا۔ دنیا بھر کے محنت کشوں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بننے کا دعویدار پاکستانی میڈیا اپنے ہی ورکر کو آواز دینے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان میں میڈیا ورکر اپنے مالکان کے گھناؤنے روئیے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے خودکشی بھی کرلیتا ہے مگر پھر بھی پاکستانی میڈیا پر اس کی ایک لائن کی خبر نہیں چلتی۔ میڈیا ورکرز اسلام آباد میں دھرنا دئیے بیٹھے ہوتے ہیں مگر اخبارات اور ٹی وی چینل پر اس کا مکمل بائیکاٹ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی اخبار اپنے کارکنوں کو لیبر قوانین کے مطابق ان کا حق نہیں دیتا۔ کسی اخبار نے اپنے ورکرز کی سوشل سکیورٹی رجسٹریشن نہیں کروائی ۔پاکستان کے کسی اخبار کی لیبر انسپکشن کبھی نہیں ہوئی ۔ ضیاء الحق یا بھٹو کے دور میں یا اس سے پہلے کبھی ہوئی ہو تو کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر ہمارے شعوری دور میں تو ایساکچھ نظر نہیں آیا جبکہ قانون کی رو سے لیبر انسپکشن ہو سکتی ہے اور جتنی شکایات اخبارات کے دفاتر میں مزدور دشمنی اور ورکر کشی کی ہیں شائد ہی پاکستان بھر میں کسی دوسری انڈسٹری میں اتنی شکایات ہوں۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے پسا ہوا مزدور اخبارات کا ورکر ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان بھر میں اخبارات جھوٹ کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ دوسروں کے سچ کی تلاش میں سرگرداں پاکستان کا کوئی ایک بھی اخبار ایسا نہیں جواپنے بارے میں سچ لکھ رہا ہو۔ جو اپنا سچ بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہا اس کے بارے میں یہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں سچ چھاپنے اور بولنے میں جھوٹ کا سہارا نہیں لے گا۔پاکستان کے تمام اخبارات اپنے ڈیکلریشن کے وقت سے ہی جھوٹ کا آغاز کر دیتے ہیں۔ ڈیکلریشن کیساتھ ایڈیٹر کانام دینا ضروری ہے اور ایڈیٹر بدلتے ہی اس بارے متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اخبارات پابند ہیں کہ اپنی سرکولیشن اور تعداد اشاعت سے پی آئی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کو آگاہ رکھیں مگر اس تمام معاملے میں جھوٹ جھوٹ اور بس جھوٹ پاکستانی اخبارات کی واحد پالیسی ہے ۔ یہاں سچ کا دور دور تک بھی شائبہ نہیں ہے۔ پاکستان کے تمام اخبار (کسی ایک کو بھی اس میں استثنیٰ نہیں ہے) اپنی سرکولیشن کے حوالے سے کھلے بندوں جھوٹ بولتے ہیں۔ اخبارات کی تعداد اشاعت سے پانچ چھے گنا اور بعض کیسز میں تو دس‘ بارہ گنا اور کئی ایک تو ایسے جھوٹے بھی ہیں کہ بیس پچیس گنا زائد اشاعت بتا کر اپنی سرکولیشن رجسٹرڈ کرواتے ہیں۔ پاکستانی اخبارات کی پی آئی ڈی میں رجسٹرڈ’’اے بی سی‘‘ اور اخبارات کی اصلی سرکولیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔جبکہ اخباری مالکان مراعات اورنرخ اس سرکاری رجسٹرڈ اے بی سی سرٹیفائیڈ سرکولیشن کی بنیاد پر ہی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے تمام اخبارات اس معاملے میں جھوٹے ہیں اور کسی ایک کو بھی اس جھوٹ میں استثناء حاصل نہیں ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان بلاامتیاز احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے ہیں۔ ان کے اقتدار میں آتے ہی اخباری مالکان کے بھی ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں مگر پورے سچ کی تلاش پی ٹی آئی سے بھی نہیں ہو پا رہی۔ پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو اس حوالے سے شکایات بھی مل چکی ہیں جبکہ پی آئی ڈی کا عملہ اس معاملے کی تمام باریکیاں بھی جانتا ہے مگر اس کے باوجود اخباری مالکان کے اس جھوٹ کا پول کھولنے کی ہمت عمرا ن خان‘ پی ٹی آئی ‘ وزیر اطلاعات سمیت کوئی نہیں کررہا۔ وزیر اعظم عمران خان کے ’’سب کا احتساب ‘‘کے نعرے لگاتے اور مکمل سچ کی گردان کرتے زبان ہیں تھکتی تھی مگر اب جبکہ انہیں اقتدار مل چکا ہے وہ ملک بھر میں لوٹ مار کا بازار گرم کرنیوالے اخباری مالکان کا احتساب کرنے کی ہمت ہی نہیں کرپارہے ۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت 2013میں ہی پی ٹی آئی کو مل گئی تھی مگروہاں بھی پی ٹی آئی اخباری مالکان کا سچ سامنے لانے اور ان کا بلاامتیاز اور بغیر کسی رعائت کے احتساب کرنے میں مکمل ناکام رہی۔ سچ تو یہ ہے کہ کرپشن خیبر پختونخواہ کے اخبارات میں بھی اتنی ہی رہی جتنی باقی پاکستان میں ہے۔ پشاور اور خیبر پختونخواہ کے دیگر تمام اخبارات کی سرکولیشن میں اتنے ہی گھپلے اور جھوٹ رہے جتنے پاکستان کے باقی تمام شہروں اور صوبوں میں ہیں۔پی ٹی آئی کے لوگ یہ بھی کہتے پائے گئے کہ سرکولیشن اور اس کی رجسٹریشن وفاق کا معاملہ ہے مگر اب تو وفاق میں بھی پی ٹی آئی کو اقتدار مل گیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ صرف وفاقی حکومت ہی نہیں صوبائی حکومت بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اخبارات کی غلط اور جھوٹی رجسٹریشن کا جرم تو وفاقی حکومت اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات میں کیا جاتا ہے مگر اس جرم میں صوبائی حکومت کے متعدد محکمے بھی برابر کے مجرم ہیں۔ اگرچہ سرکولیشن کی رجسٹریشن وفاق کا کام ہے۔ مگر اشاعت اور پرنٹنگ کے معاملات دیکھنا تو صوبائی حکومت بلکہ ضلعی انتظامیہ کا کام ہے۔ پرنٹنگ اور پرنٹنگ پریسوں کی کرپشن تو صوبائی حکومت بھی پکڑ سکتی ہے ۔پرنٹنگ پریس اور پرنٹنگ کی کرپشن پکڑی جائے تو اخبارات کی سرکولیشن کی رجسٹریشن خودبخود بے نقاب ہو جائے گی۔
حکومت ڈیکلریشن ہولڈرز سے ان کے سٹاف کی تعداد ان کی تنخواہ اور دیگر معلومات ڈیکلریشن کی فائل میں لگوا دیں کسی کیلئے بھاگنے کا راستہ ہی نہیں رہے گا۔اخبارات کو پابند کریں کہ اپنے سٹاف میں ردوبدل لیبر قوانین کے تحت کریں۔ اخبارات کی لیبر انسپکشن کریں۔ اخبارات کو پابند کریں کہ اپنے سٹاف میں ہونیوالے ہر ردوبدل بارے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے آفس کو آگاہ کرے اور تمام معلومات اس اخبار کی فائل میں لگائیں ۔ کرپشن کا راستہ خود بخود بند ہو جائے گا اور ورکر کو اس کے حقوق بھی ملنے لگیں گے۔اخبارات کی پرنٹنگ کرنے والوں کو پابند کریں کہ روزانہ چھپنے والے اخبارات کی تعداد اشاعت بارے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس میں اس بارے میں تعینات کلرک کومعلومات روزانہ کی بنیاد پر فراہم کریں اخبارات کیلئے سرکولیشن کا جھوٹ بولنا ہی ممکن نہیں رہے گا۔
ٹرانسپرنسی کے بلند بانگ دعوے کرنیوالے نام نہاد ’’خادم اعلیٰ ‘‘میاں شہباز شریف بھی اپنے دس سالوں میں اخباری کارکنوں کو انکے حقوق دینے میں مکمل ناکام رہے ۔ انہوں نے اس معاملے میں کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔ اخبارات کے معاملات میں شفافیت لانے کیلئے انہوں نے دس سالوں میں کوئی اقدام سرے سے اٹھایا ہی نہیں۔پنجاب کے اخبارات میں سرکاری اشتہارات پر بہت بڑی ڈکیتی کا سکینڈل پہلے ہی سامنے آچکا ہے ۔اخبارات اور اخباری مالکان کے حوالے سے شفافیت نام کی کوئی چیز شہباز شریف کے دس برس کے اقتدار میں کہیں نظر نہیں آئی ۔ پرنٹنگ پریس قانون کے تابع ہیں اور نہ لیبر قوانین پر کہیں عمل ہو رہا ہے۔ معاملات بہتر بنانے کیلئے ان سے بھی کچھ نہیں ہو سکا۔صرف لاہور میں اخبارات کے معاملات انتہائی دگرگوں ہیں۔ کوئی اخبارقوانین پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آئے روز اخباری کارکن اپنے ساتھیوں کو غیرقانونی فارغ کئے جانے کیخلاف سڑکوں پر ہوتے ہیں۔لیبر قوانین اخباری دفاتر سے دور دور سے گزر جاتے ہیں۔ کنٹریکٹ سسٹم کی بیماری تو تھی ہی مگر پنجاب کے اخبارات میں ٹھیکیداری نظام کی بیماری نے بھی انتہائی سرعت کیساتھ جڑ پکڑی ہے ۔ قوانین ان دونوں چیزوں کی اجازت نہیں دیتے مگر یہ ہو رہا ہے‘ کھلے عام ہو رہا ہے اور حکومتی ادارے یہ سب جانتے ہوئے بھی اس غیرقانونی کام کیخلاف کچھ نہیں کر پا رہے۔

فیصل آباد لوکل اخبارات کامرکز ہے ۔ پاکستان میں سب سے زیادہ لوکل اخبارات فیصل آباد میں چھپتے ہیں۔دو سے زائد روزناموں کیساتھ ٹیکسٹائل سٹی کہلانے والے اس شہر سے پانچ سو سے زائد جرائد کے ڈیکلریشن ہیں۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ اخباری جرائم میں بھی فیصل آباد پہلے نمبر پر ہے۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ سینکڑوں اخبار کسی خلائی مخلوق سے ہی تیار کروا لئے جاتے ہیں۔ ان کے دفاتر ہیں اور نہ وہاں کوئی کام ہوتا ہے۔ مہینوں اخبار چھپتا نہیں مگر سرکاری اشتہارات مسلسل دئیے جاتے ہیں اور اخبار ٹریسنگ پیپر کی مدد سے پرانی تاریخوں کے اخبار چھاپ چھاپ کر پی آئی ڈی کے بزر جمہروں کی شان بے نیازی کی نذر کردئیے جاتے ہیں۔ فیصل آباد میں کمرشل کام کرنے والے بڑے سائزکے چار ہی پرنٹنگ پریس ہیں اور مقامی روزنامے ‘ہفت روزے ‘ ماہنامے سب کے سب یہیں سے چھپتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اے بی سی میں رجسٹریشن اتنی ہے کہ یہ تمام پرنٹنگ مشینیں چوبیس گھنٹے بھی چلتی رہیں تو جتنی تعداد میں اے بی سی رجسٹریشن کی جاچکی ہے ‘ اسکا 20فیصد بھی نہیں چھاپ سکتیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے سامنے اخبارات اور پرنٹنگ پریس مالکان کی تمام سچائیاں دم توڑ دیتی ہیں۔روزنامہ ایکسپریس شہر کا سب سے بڑا اخبار ہے اورایکسپریس کے علاوہ شہر میں شائد ہی کوئی اخبار نظر بھی آئے مگر اس سے بھی زائد رجسٹریشن اور زائد سرکاری نرخ رکھنے والے اخبارات بھی ہیں۔ یہ زائد نرخ رکھنے والے اخبار شائد ہی کبھی 50سے زائد تعداد میں شائع کئے گئے ہوں۔ پی آئی ڈی والوں سے سنا ہے کہ فیصل آباد میں کوئی ’’روزنامہ طاقت فیصل آباد‘‘ نام کا بھی اخبار رجسٹرڈ ہے مگر شائد ہی کبھی فیصل آباد میں کسی شہری نے’’ روزنامہ طاقت فیصل آباد‘‘دیکھا ہو۔ فیصل آباد میں تو کبھی ’’روزنامہ طاقت لاہور‘‘ بھی نظر نہیں آیا۔ فیصل آباد کے اخبارات میں سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات ’’روزنامہ پیغام‘‘ کو ملتے ہیں اور اس کے تین ڈیکلریشنز کی مجموعی تعداد دو لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ روزنامہ پیغام کے تینوں ڈیکلریشنز مجموعی طور پر بھی کبھی ایک ہزار سے زائد شائع نہیں ہوئے ۔ ایک ہزار اخبار چھاپ کر دو لاکھ کی رجسٹریشن کیسے ہوئی یہ ایک الگ کہانی ہے اور اس کے تمام کرداروں کا احتساب ہونا چاہئے مگر اس کے ساتھ یہ بھی بے نقاب کیا جائے کہ ریکارڈ سرکاری اشتہارات لینے والے اخبار کا حقیقی معنوں میں آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا۔ ایسی ہی کہانیاں باقی اخبارات کی ہیں ۔ فیصل آباد کے اخبارات میں ورکرز ظاہر کرنے کا رواج ہی نہیں ہے۔ ڈیکلریشن کیساتھ ظاہر کئے گئے ایڈیٹر کا بھی اس اخبار سے دور دور تک کاتعلق نہیں ہوتا۔ کئی اخبارات کے ڈیکلریشن میں ظاہر کئے گئے ایڈیٹر دنیا فانی سے مدت ہوئی کوچ کر چکے مگر ریکارڈ میں وہ اب بھی کام کرتے پائے جاتے ہیں۔سرکاری ملازمین اخبارات کے مالک ہیں اور سرکاری ملازمین ایڈیٹر بھی ۔ ایسے میں شفافیت نام کی کوئی چیز کہاں پائی جا سکتی ہے۔
سرکولیشن کیلئے ہر قسم کاجھوٹ بولنا اخبارات کی سب سے بڑی ضرورت اس لئے بن چکی ہے کہ سرکولیشن کے ذریعے ہی اس کو سرکاری اشتہارات کا ریٹ ملے گا اور اس کے بل بوتے پر ہی تو ان کا کاروبار ہے۔ سرکاری اخبارات کے اشتہارات کیلئے اخبارات کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں‘پی آئی ڈی‘ پی اور سی پی این ای کا ا س تمام کاروبار میں کیا کیا کردار ہے۔ اے بی سی کی انسپکشن میں کیسے ’’سب اچھا ہے ‘‘ کی رپورٹ بن جاتی ہے اور صحافتی و اخباری کارکنوں کی تنظیمیں اس تمام سلسلے میں کیوں مجبور ہوگئی ہیں۔ یہ سب بہت لمبا موضوع ہے اس پر بعد میں کسی وقت روشنی ڈالوں گا۔حقیقت تو یہ بھی ہے کہ صرف’’201‘‘اخبارات کو اپنا ممبر بنا کر ’’ اے پی این ایس‘‘ ملک بھر کے اخبارات کی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کیلئے یہ ایک بڑی حقیقت ہونی چاہئے کہ اے پی این ایس میں صرف 201اخبارات کا ووٹ ہے۔ دو سو اخبارات کی ممبرشپ کیساتھ کیسے اے پی این ایس ملک بھر کے دس ہزار سے زائد اخبارات کی نمائندگی کی دعویدار ہو سکتی ہے۔ اے پی این ایس کو اپنے مطالبات اور دعووں کیساتھ واضح کرنا چاہئے کہ وہ صرف اپنے ممبران کیلئے مطالبہ یا دعویٰ کررہی ہے۔ ملک بھر کے باقی دس ہزار اخبارات کے اس مطالبے یا دعوے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ میڈیا ورکر مجبور محض بنے ہوئے ہیں۔مزدور قلم کا ہو یا جسمانی مشقت کرنیوالا۔ اس کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت اور سرکاری اداروں کا فریضہ ہے۔ مگر میڈیامالکان کے سامنے حکمران بے بس ہیں صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کو حقوق دینے کا نام لیا جائے تو حکمران ٹولہ چپ سادھ لیتا ہے۔میڈیا دفاتر میں قانون کا اطلاق کرنے پر کوئی حکمران تیار نہیں۔ سچ کاساتھ دینے کی ہمت کوئی بھی نہیں کرپا رہا۔ مسلم لیگ ن نے تو خاص طور پر میڈیا مالکان کے سرپرستوں کا کردار ادا کیا اور ورکر کے حقوق غصب کرنے میں ان کاساتھ دیا۔ اب تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ا ب تک کے حالات یہی بتا رہے ہیں کہ اے پی این ایس کا حکومت کو دباؤمیں رکھنے کا پلان کامیاب ہونے جا رہا ہے اور یہ حکومت بھی چکی کو دونوں پاٹوں میں پسنے والے میڈیا ورکر کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے بااثر میڈیا مالکان کو مزید مراعات دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہوگی۔دوسروں کی سچ سچ سچ کی گردان کیساتھ گمراہ کرنے مگر ہمیشہ خود سچ سے دور بھاگنے والے اورہمیشہ قانون کی حکمرانی کا شور مچانے مگر خود قانون کیساتھ کھلے عام کھلواڑ کرنیوالے میڈیا مالکان کا احتساب کون کرے گا۔ یہ سوال پاکستان کے ہر حکمران کا پیچھا کرتا رہے گا

Related posts