سیان کی اعلیٰ کارکردگی: تاریخی سکول ”بچوں کا مدرسہ” صفحہ ہستی سے غائب

فیصل آباد (احمد یٰسین) سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان کی بدانتظامی اور ناقص حکمت عملی کی بناء پر فیصل آباد کا تاریخی سکول ”بچوں کا مدرسہ” صفحہ ہستی سے غائب ہو گیا۔ استاد نصرت فتح علی خاں سمیت نامور شخصیات کی مادر علمی کا درجہ رکھنے والے ”بچوں کا مدرسہ” کو صفحہ ہستی سے غائب کرکے اسکی اراضی پر غیرقانونی قبضہ بھی کروا دیا گیا ہے۔ نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد میں بیرون سرکلر روڈ ایک سکول ”بچوں کا مدرسہ ” کے نام سے قائم تھا۔ لائل پور جتنی تاریخ کا حامل یہ سکول کئی نامور شخصیات کا مادر علمی رہا ہے۔ ایک صدی کی تاریخ کے حامل اس سکول میں موسیقی کی دنیا شہنشاہ استاد نصرت فتح علی خاں’ ہاکی کی لیونگ لیجنڈ خالد بشیر سمیت متعدد نامور شخصیات علم حاصل کرتے رہے۔ سٹی مسلم ہائی سکول عید گاہ روڈ اور ایم سی ہائی سکول کوتوالی روڈ کے بیرون واقع اس سکول کی اراضی پر غیرقانونی طریقے سے ایک دوسرے سکول نے قبضہ جما رکھا ہے۔ سکول کی بلڈنگ بھی اسی سکول کے قبضے میں ہے اور اس کا سٹاف بھی اسی سکول کے حوالے کیا جا چکا ہے مگراس میں بچوں کا داخلہ کیا جا رہا ہے نہ تدریسی عمل جاری ہے۔ نیوز لائن کے مطابق ”بچوں کا مدرسہ” کی اراضی موجود’ سٹاف موجود ہونے کے باوجود اس میں ایک بھی بچہ داخل نہیں ہے۔ سکول کا تمام ریکارڈ فائلوں میں دفن ہو چکا ہے۔ نیوز لائن کے مطابق ”بچوں کا مدرسہ” کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اس کی اراضی و اثاثہ جات پر غیرقانونی قبضہ جمانے میں سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان ‘ ایم سی ہائی سکول کوتوالی روڈ کے پرنسپل راؤ اقبال اور سابق ای ڈی او ایجوکیشن صہیب اور متعدد دیگر افسران ملوث پائے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے مؤقف جاننے کیلئے سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان سے مسلسل رابطہ کیا گیا مگر وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

Related posts