سی پی او آفس شکایات سیل کا اہلکار منشیات فروش کا سفارشی بن گیا


فیصل آباد(نیوزلائن) منشیات فروش کو مقدمہ سے بچانے کیلئے سی پی او آفس میں تعینات ملازم سفارشی بن گیا۔تھانے جا کر ایس ایچ او اور عملے کو شدید نوعیت کی دھمکیاں دیں۔تاہم منشیات فروش کا زیر قبضہ موٹر سائیکل اور موبائل فون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔منشیات فروش کو بغیر کارروائی نہ چھوڑنے پر حوالدار درخواستیں دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے رفو چکر ہو گیا ۔ سمندری پولیس نے اپنے ہی پیٹی بھائی کیخلاف رپٹ درج کر لی۔ نیوز لائن کے مطابق ایس ایچ او سٹی سمندری رانا مغفور احمد نے گزشتہ روز منشیات کا دھندہ کرنے والے ریکارڈ یافتہ کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے نعیم عرف ننھا کو دو سو 30 لیٹر شراب موٹر سائیکل پر لے جاتے ہوئے گرفتار کیا تو سی پی او آفس کی شکایت سیل میں تعینات حوالدار عبدالکریم منشیات فروش کا سفارشی بن کر تھانہ پہنچ گیا۔ جس نے ایس ایچ او کو مقدمہ درج سے روکتے ہوئے سرکاری کام میں مداخلت کی اس دوران عبدالکریم منشیات فروش کی موٹر سائیکل اور موبائل فون پولیس سے حاصل کر کے درخواستیں دلوانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے واپس آ گیا۔ پولیس نے منشیات فروش کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ اس سلسلہ میں جب ایس ایچ او سٹی سمندری رانا مغفور سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حوالدار خود تھانہ آیا تھا جس سے نعیم عرف ننھا کو رہا کرنے کیلئے دباؤ ڈالا، کام نہ کرنے کی صورت میں دھمکیاں دیں جس کے خلاف تھانہ کے روز نامچہ میں رپٹ درج کر کے افسران کو بھجوا دی گئی ہے۔ تھانہ جا کر ایس ایچ او سے سفارش اور دھمکیاں دینے کے حوالے سے عبدالکریم کا کہنا ہے کہ میں تھانہ نہیں گیا اور نہ ہی سفارش کی، ایس ایچ او انتظامی کارروائی کر رہا ہے۔

Related posts