شوگر ملوں میں گنے کی کم نرخوں پر خرید اور کاشتکاروں سے حلف نامے


فیصل آباد(عاطف چوہدری )پنجاب بھر میں گنا کم نرخوں پر خریدنے کا سلسلہ جاری ہے اور کاشتکار شوگر ملز مالکان کے ظلم کا شکار ہیں ۔ مگر حکومتی ادارے بااثر ملز مالکان کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہیں۔ کم نرخوں پر گنا خریدنے والے شوگر ملز مالکان نے عدالتی اور حکومتی کارروائی سے بچنے کیلئے کاشتکاروں سے حلف لینا شروع کردئیے۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب بھر میں شوگر ملز مالکان کنڈے پر120روپے سے 130روپے فی من تک گنا خرید رہے ہیں۔ ملز گیٹ پر گنا 140سے 150روپے فی من کے حساب سے خریدا جارہا ہے۔ جبکہ حکومت نے گنے کے نرخ 180روپے فی من مقرر کررکھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب بھر میں کوئی ایک بھی شوگر ملز گنا 180روپے فی من کے حساب سے گنا نہیں خرید رہی۔ فیصل آباد ریجن میں معروف صنعتکار میاں حنیف اور میاں رشید کی ملکیتی شوگر ملز گنا 140روپے فی من کے حساب سے خرید کر کاشتکاروں سے 180روپے فی من کی رسید لے رہی ہے۔مدینہ شوگر ملز کے علاوہ بھی پنجاب بھر کی شوگر ملز کے حالات ایسے ہی ہیں۔ شوگر ملز انتظامیہ کاشتکار سے کم نرخوں پر گنا خرید کر رسید 180روپے کی وصول کررہے ہیں۔ رسید کے علاوہ کاشتکاروں سے حلفیہ بیان بھی لئے جارہے ہیں کہ وہ کم نرخوں پر گنا خریدنے کے حوالے سے کسی قسم کی عدالتی یا حکومتی کارروائی نہیں کریں گے اور تادیبی کارروائی کیلئے عدالت اور انتظامیہ سے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ ؂ کریسنٹ شوگر ملز اور شریف برادران کی رمضان شوگر ملز کے حالات بھی ایسے ہی بتائے جارہے ہیں۔اور ان کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ وہ بھی کاشتکاروں سے کم نرخوں کیخلاف تادیبی کارروائی کیلئے عدالت اور انتظامیہ سے رجوع نہیں کریں گے۔نیوزلائن کے مطابق پنجاب بھر کی شوگر ملز کاشتکاروں کا استحصال کرنے اور ظلم ڈھانے کیلئے سرگرم ہیں۔ مگر پنجاب حکومت اس حوالے سے کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کوئی بھی اقدام کرنے میں ناکام ہے۔

Related posts