شہبازشریف کے حکم پر 7ہزار درختوں کا قتل عام:ہرمحکمہ خاموش تماشائی


فیصل آباد(احمد یٰسین) مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ایک دس کلومیٹر کی سڑک کیلئے سات ہزار قدیم درختوں کا قتل عام کردیا۔ شہباز شریف کے اس معاشرتی اور موسمیاتی جرم میں سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں اور سابق ڈی سی فیصل آباد نور الامین مینگل بھی برابر کے شریک جرم ہیں۔ شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے صرف یہی نہیں کیا معاشرتی اور موسمیاتی جرم کیساتھ اس معاملے میں کروڑوں روپے کی کرپشن بھی کی گئی۔ اور قومی خزانے کو لوٹنے کی نئی روشن مثال قائم کردی۔ نیوزلائن کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی خصوصی نگرانی میں فیصل آباد میں کنال ایکسپریس وے بنائی گئی۔ کنال ایکسپریس وے بنانے کو کریڈٹ خود میاں شہبازشریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں لیتے نہیں تھکتے۔ کنال ایکسپریس وے کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اس سے ٹریفک کی روانی میں تو آسانی ہوئی اور موٹر وے تک رسائی بھی آسان ہوئی مگر اسے بنانے کیلئے ن لیگی حکومت نے سات درختوں کا بھی قتل عام کیا۔ نہر کے ساتھ ساتھ سڑک بنانے کیلئے جگہ دستیاب ہونے کے باوجود سڑک کو بنانے کیلئے درختوں بچانے پر غور ہی نہیں کیا گیا ۔ ماہرین کے مطابق سڑک کو ایسے بنایا جا سکتا تھا کہ درختوں کو نقصان نہ پہنچتا مگر اس طرف کسی نے توجہ ہی نہیں کی اور درختوں کا بے دریغ قتل عام کرکے پوری سڑک اور نہر کو سائے سے محروم اور شہر کو صاف ستھری فضاء سے محروم کردیا گیا۔ شہباز شریف حکومت کی غلط منصوبہ بندی کا شکار ہونے والے درختوں میں سے بہت بڑی تعداد ایسے کئی دہائیوں کے اتار چڑھاؤ کی امین تھی ۔شہباز شریف نے صرف یہ معاشرتی اور موسمیاتی جرم ہی نہیں کیا بلکہ اس میں کرپشن بھی شامل کردی۔ سات ہزار درخت نہر نارے سے کاٹے ہی گئے تھے کہ مگر ان کے کاٹنے کا خرچہ بھی قومی خزانے پر ڈال دیا گیا۔ درختوں کو کاٹنے پر 76لاکھ 79ہزار روپے خرچ کردئےے گئے۔ جبکہ درختوں کو کاٹ کر ایسے ہی پھینک دیا گیا اور بعد ازاں کسی کو علم ہی نہ ہوسکا کہ درخت کہاں گئے۔ کاٹے گئے درخت کوئی معمولی اور چھوٹے موٹے درخت نہ تھے ان میں کئی کئی فٹ چوڑے درخت بھی تھے جو سالہا سال سے نہر اور سڑکنارے لگے تھے۔ ان کو لگانے پر محکمہ نہر‘ ہائی وے اور محکمہ جنگلات نے لاکھوں روپے خرچ کئے تھے اور درجنوں انسانوں کی محنت ساتھ شامل تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں درختوں کا قتل عام روکنے کیلئے ضلعی انتظامیہ ٗ محکمہ جنگلات ٌ محکمہ انہار سمیت کسی کسی نے آواز تک بلند نہ کی۔ سات ہزار درختوں کے کاٹنے کے منصوبے پر کسی نے اعتراض بھی نہ لگایا اور میان شہباز شریف کے شاہی فرمان پر تمام محکموں کے افسران نے آنکھیں بند کرکے مہر قبولیت لگا دی۔ ان میں کئی ایک درخت تو دہائیوں کے اتار چڑھاؤ کے امین تھے ۔ محکمہ انہار اور ہائی وے والے ایگزیکیوشن پلان اور دیگر معاملات پر تو پنجاب حکومت کیساتھ جھگڑتے رہے لیکن سات ہزار درختوں کا قتل عام کسی کی توجہ حاصل نہ کرسکا۔ نیوزلائن کے مطابق اس سڑک کی منظوری خود وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے قلم سے دی۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد نور الامین مینگل بھی اس قتل عام میں شریک جرم رہے۔ افتتاح کے شوق میں وزیر قانون رانا ثناء اللہ درختوں کے قتل عام کے منصوبے کا حصہ بنے ۔تمام محکموں نے بھی وہی کیا جو وزیر با تدبیر کہہ چکے۔ ظلم در ظلم یہ کہ سات ہزار درختوں کے قتل عام پر پیسہ بھی سرکار کا خرچ کردیا گیا۔ سات ہزار درختوں کو کاٹنے کا قومی نقصان کرنے پر قومی خزانے سے 76لاکھ ہزار79ہزارروپے کا بل وصول کر لیا گیا۔اکاؤنٹ آفس نے بھی کوئی اعتراض نہ لگایا اور درختوں کو کاٹنے کا بل پونے ستتر لاکھ روپے بغیر کسی آڈٹ اور اعتراض کے ادا کردیا گیا۔درخت کاٹ کر حکومت نے ایسے ہی پھینک دئیے۔ کروڑوں روپے مالیت کے سات ہزار درخت پڑے پڑے اچانک ہی ’’چھومنتر‘‘ ہوگئے۔ انیں فروخت کرکے خزانے میں پیسے جمع کروائے گئے اور نہ ہی کروڑوں روپے کے درختوں سے منصوبے کی لاگت پر کوئی فرق پڑا بلکہ منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہی ہوا۔

Related posts