شہباز شریف دور میں جعلی مقابلے :20 پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ


فیصل آباد(نیوزلائن) شہباز شریف دور میں پولیس مقابلوں کے نام پر ٹارگٹ کلنگ کرنیوالے پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف جوڈیشل انکوائری میں جرم ثابت ہوگیا ۔ عدالت کے حکم پر آٹھ سال بعد 20پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ملزمان میں سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ کیخلاف جعلی پولیس مقابلوں میں بندے مروانے کا اعترافی بیان دینے والا سابق پولیس انسپکٹر رانا فرخ وحید بھی شامل ہے۔ تفصیل کے مطابق تھانہ فیکٹری ایریا پولیس نے اپنے بیس پیٹی بھائیوں کیخلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف آئی آر میں جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے شہرت حاصل کرنیوالے سابق ایس ایچ او فیکٹری ایریا رانا فر خ وحید ‘ انسپکٹر رانا عمردراز‘ انسپکٹر یاسر جٹ ‘ انسپکٹر منصور بلال چیمہ‘ سب انسپکٹر اظہر سندھو‘ اے ایس آئی زاہد سندھو‘جعلی پولیس مقابلوں میں رانا فرخ وحید کے دست راست طاہر کمانڈو‘ محمد وقاص اور دیگر پولیس اہلکاروں کو قتل کا ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر سیشن جج فیصل آباد کے حکم پر درج کی گئی ہے۔ سیشن جج نے اندراج مقدمہ کا حکم جوڈیشل انکوائری میں افتخار احمد نامی شہری کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کئے جانے کاجرم ثابت ہونے پر جاری کیا۔ ایف آئی آر میں مقتول افتخار احمد کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ ملزمان پولیس اہلکاروں نے دو اور تین جون 2011کی درمیانی رات ا ن کے گھر پر چھاپہ مارا اور مقتول افتخار احمد کو گھر سے سوتے ہوئے اٹھا لیا۔ موقع پر ہی پولیس اہلکاروں نے مقتول کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور اس کا گھٹنا توڑ دیا تھا ۔ موقع پر پولیس اہلکاروں نے اہل خانہ کو دھمکی دی تھی کہ انہیں اب افتخار کی لاش ہی ملے گی اس کو مقابلے میں پار کردیا جائے گا۔ مقتول کے اہل خانہ نے اگلے ہی دن سیشن کورٹ میں حبس بے جا کی رٹ دائر کردی جس میں پیش ہو کر ملزمان نے مؤقف اختیار کیا کہ افتخار ان کی حراست میں نہیں ہے جبکہ اسی رات ملزمان نے ایک جعلی پولیس مقابلے میں افتخار احمد کو پار کردیا اور اس کیخلاف پولیس مقابلے کی ایف آئی درج کرلی۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے دس سالہ دور میں سیاسی اور غیرسیاسی وجوہات کی بناء پر فیصل آباد میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کئے جانے کی متعدد رپورٹ سامنے آچکی ہیں۔ سابق میئر فیصل آباد اور میاں شہباز شریف کے قریبی عزیز چوہدری شیر علی بھی الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ پویس اور ٹارگٹ کلرز کو استعمال کرکے ٹارگٹ کلنگ کرواتے رہے ہیں۔ایف آئی آر کے مرکزی ملزم انسپکٹر رانا فرخ وحید کیخلاف جعلی پولیس مقابلوں میں کئی ایک شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کرنے کی ایک انکوائری ابھی تک زیر التواء ہے اور انسپکٹر رانا فرخ وحید کارروائی سے بچنے کیلئے بیرون ملک فرار ہیں۔ رانا فرخ وحید کی کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے جعلی پولیس مقابلوں کا اعتراف کیا اور راناثناء اللہ کے بارے میں بیان دیا کہ جعلی پولیس مقابلوں کے نام پر ان سے ٹارگٹ کلنگ وہ کرواتے رہے ہیں۔ ایف آئی آر کے دیگر ملزمان انسپکٹر منصور بلال چیمہ ‘ انسپکٹر رانا عمر دراز ‘ انسپکٹر یاسر جٹ اور دیگر اہلکاروں کے بارے میں بھی جعلی پولیس مقابلوں میں بندے مارنے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

Related posts