شہباز شریف کے پنجاب میں غربت نے مردوں سے بھی جسم فروشی کروائی


فیصل آباد(احمد یٰسین)مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف کے سنہرے دور کے دوران پنجاب غربت اور بے روزگاری کے چکی میں پستے ہوئے ایک لاکھ خواتین کے علاوہ 41ہزار مرد بھی جسم فروشی کرتے رہے۔ جسم فروشی کرنیوالوں میں 15سے 30سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد زیادہ تھی۔ جسم فروشی کے دھندے میں ملوث 35ہزار ہیجڑے اور شوقیہ ہم جنسی پرستی کرنیوالے مرد اور خفیہ جنسی سرگرمیوں میں ملوث خواتین اس کے علاوہ ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق میاں شہباز شریف کی بلند پایہ اور صوبے میں ’’دودھ کی نہریں بہا دینے والی‘‘ حکومت کے دوران بھی شہریوں کی بہت بڑی تعداد غربت کی چکی میں پستی رہی۔ بے روزگاری کا عفریت بھی عوام کیلئے عذاب جاں بنا رہا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران پنجاب میں غربت اور بے روزگاری کے ستائے لوگ غیر اخلاقی سرگرمیوں کا بھی بہت بڑے پیمانے پر شکار ہوئے۔ شہباز شریف کے پنجاب میں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر غیراخلاقی سرگرمیوں کا شکار ہونے والوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہو جو سروے میں سامنے آچکی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق سروے میں سامنے آیا ہے کہ میاں شہباز سریف کے سنہری دور حکومت کے دوران پنجاب میں ایک لاکھ سات ہزار سے زائد خواتین جسم فروشی کرتی تھیں۔ غربت اور بے روزگاری کے ستائے 41ہزار مرد بھی جسم فروشی کرتے رہے۔ 35ہزار 4سو ہیجڑے بھی اس دھندے میں ملوث پائے گئے۔نیوزلائن کے مطابق یہ اعداوشمار جسم فروشی کرنیوالوں کے ہیں ۔ اس میں شوقیہ ہم جنسی پرستی کرنیوالے مرد اور خفیہ جنسی سرگرمیوں میں ملوث لڑکیاں شامل نہیں ہیں۔

نیوزلائن کے مطابق میاں شہباز شریف کے ’’سنہری دور‘‘ کو گہنانے کیلئے یہ اعدادوشمار پی ٹی آئی کی حکومت نے جاری نہیں کئے اور نہ ہی یہ اعدادوشمار کسی پاکستانی این جی او‘ کسی عالمی ادارے ‘کسی انٹرنیشنل تنظیم کے جاری کردہ ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سنہری دور میں غربت اور بے روزگاری کے ستائے لوگوں کی مجبوری کی یہ داستان خود ’’خادم اعلیٰ پنجاب‘‘ میاں شہباز شریف نے بیان کی ہے۔ یہ اعداو شمار خود سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی نگرانی میں ان کی حکومت کے ایک اہم ادارے کے کئے گئے سروے میں سامنے آئے ۔اور میاں شہباز شریف نے ہی ان اعداوشمار کے مطابق پالیسی بھی ترتیب دی تھی۔اور اس دھندے میں ملوث افراد کی صحت کا خیال رکھنے کیلئے میاں شہباز شریف نے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کئے تھے۔نیوزلائن کو دستیاب دستاویزات کے مطابق میاں شہباز شریف کی حکومت نے مختلف اوقات میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں تھرڈ پارٹی سروے کروائے۔ مگر ان کے نتائج سے میاں شہباز شریف مطمئن نہیں ہوئے۔ آخری سروے میاں شہباز شریف نے اپنی نگرانی میں حکومت پنجاب کے سرکاری ادارے ’’ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن حکومت پنجاب‘‘سے کروایا۔ پنجاب کے مختلف شہروں کئے گئے اس سروے میں یہ نتائج سامنے آئے تو میاں شہباز شریف کی حکومت نے اس گھناؤنے فعل کی روک تھام کیلئے اس کی وجوہات کا تدارک کرنے کی بجائے ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کی صحت کیلئے فنڈز مختص کر دئیے تا کہ ان سرگرمیوں میں ملوث ہو کر وہ مختلف سنگین قسم کی بیماریوں کا شکار نہ ہوجائیں۔سال 2016کے اواخر میں کئے گئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن حکومت پنجاب کے سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ لاہور جسم فروش خواتین کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں 25ہزار 716خواتین سروے کے دوران جسم فروشی میں ملوث پائی گئیں ۔ سروے میں جو خواتین جسم فروشی میں ملوث ہونے کے باوجود سامنے نہ آسکیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ذرائع کے مطابق جسم فروشی کے دھندے میں ملوث نوجوان لڑکیوں کی بھی بہت بڑی تعداد بھی ملوث پائی گئی ۔ سروے کے دوران جسم فروشی میں ملوث مردوں اور ہیجڑوں کے پنجاب میں 1610ٹھکانے سامنے آئے جہاں 41ہزار مرد اور 35ہزار 4سو ہیجڑے جسم فروشی میں ملوث پائے گئے۔ جسم فروشی کرنیوالے مردوں میں نوجوان لڑکوں کی تعداد زیادہ تھی۔ہیجڑوں کی جسم فروشی کا دھندا اس کے علاوہ تھا۔نیوزلائن کے مطابق شہباز شریف حکومت نے اس سروے کے دوران 2008اور 2011کے سروے بھی سامنے رکھے اور ان کا تقابلی جائزہ بھی لیا جس سے یہ بھی سامنے آیا کہ2010کے بعد سے پنجاب میں ایسی سرگرمیوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق خراب معاشی حالات اور غربت کے ہاتھوں مجبور و کر اس مکروہ سرگرمی میں ملوث ہوجانے والوں کی تعداد میں شہباز شریف کے اگلے دوسالوں میں مزید اضافہ ہی ہوا۔

Related posts