عظیم صحافی رہنما منہاج برنا فیصل آباد میں اور شمس الاسلام ناز


شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر دو

ہاں ایسا ہی تو تھا شمس الاسلام ناز۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ماتھے کا جھومر۔ مارشل لاء کے دور میں پی ایف یو جے کی اظہار کی آزادیوں کیلئے جنگ میں فرنٹ پر ڈٹا رہا۔ 1979کی تحریک میں جیل بھی گیا۔ جیل سے باہر آیا تو ملک میں قحط الرجال تھا۔ صحافتی سیاست سے بہت سے نام تائب ہوکر چھپ چکے تھے۔ مگر اسی قحط الرجالی کے دور میں 1979میں منہاج برنا کی زیرقیادت ایپنک کا اسسٹنٹ سیکرٹری بنا۔ 1981میں پی ایف یو جے کا نائب صدر بنا۔ 1983میں بی بی شہید لائل پور آئیں تو شمس الاسلام ناز پی ایف یو جے کا نائب صدر تھا۔صحافتی ورکرز کیلئے تمام عمر عدالتوں میں جنگ لڑتا رہا۔ ملک میں اخباری مراکز میں بننے والی سی بی اے یونین کوبنوانے کا جرم اسی نے تو کیا تھا۔ نصف سے زائد صحافتی یونین اسی کی بنائی ہوئی ہیں۔اور پھر اچانک شمس الاسلام ناز صحافتی سیاست کے منظرنامے سے اوجھل ہوگیا۔ مسلسل بیس سال صحافتی سیاست کے منظر نامے سے غائب رہا۔ انہیں صحافتی سیاست کی یاد دلانے اور دوبارہ اس جنگ میں دھکا دینے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ فیصل آباد میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس بلا رہے تھے ۔ ذکر ہے 2006کا۔ پی ایف یو جے کے عظیم لیڈر منہاج محمد برنا ابھی زندہ تھے مگر صحافتی سیاست سے دور اپنی زندگی جی رہے تھے۔ شمس الاسلام ناز نے مجھے ‘ ایف یو جے صدر محمد یوسف اور ایف یوجے کے فنانس سیکرٹری غلام محی الدین کو اپنے آفس بلایا ۔ ”یار میں چاہتا ہوں کہ ایک مرتبہ پھر برنا صاحب کو مل سکوں’ ان کی میزبانی کرسکوں’ ان کے ساتھ باتیں کرسکوں’ تم لوگ ایف ای سی کروا رہے ہو اسی بہانے برنا صاحب کو بھی بلوا ‘ وہ بھی خوش ہو جائیں گے” یہ الفاظ تھے جو شمس الاسلام ناز نے ہمیں التجائیہ انداز میں کہے۔ حالانکہ ان کا کہہ دینا ہی ہمارے لئے حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ وہاں سے نکل کر خبریں کے آفس میں ہم نے آپس میں مشورہ کیا ۔ اس مشورے میں محترم ساجد علیم صاحب اور اعجاز انصاری صاحب بھی شامل تھے۔ اور قرعہ فال جاوید صدیقی صاحب کے نام نکلا کہ وہی لے کر آسکتے ہیں۔ یوسف صاحب نے جاوید صدیقی کو بلایا اور برنا صاحب سے بات کی۔ اور عین ایف ای سے کو دوسرے دن جاوید صدیقی صاحب کو بھجوایا گیا کہ وہ برنا صاحب کو لے کر آئیں۔ برنا صاحب ایف ای سی کے دوسرے دن کے سیشن کے دوران ہی فیصل آباد پہنچے۔پی ایف یو جے کی پوری قیادت کیلئے برنا صاحب کی آمد غیر متوقع اور سرپرائز تھی۔ اسلام آباد کے رہنے والے بھی برنا صاحب سے مدتوں رابطہ نہیں رکھتے تھے ۔ اسلام آباد کی ایف ای سی میں بھی انہیں شامل نہیں کیا جاتا تھا چہ
جائیکہ وہ ایف ای سی میں شامل ہونے کیلئے اسلام آباد سے فیصل آباد آچکے تھے۔ آخری مرتبہ وہ 1979میں ایف ای سی میں شرکت کیلئے ہی فیصل آباد آئے تھے۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ بھٹو نے میڈیا پر پابندیاں لگائیں تو منہاج برنا کی قیادت میں ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا۔ جنرل ضیا کیخلاف تو ملک گیر تحریک 1977میں بھی چلائی، 1979 میں بھی ۔

 

ایف ای سی کے تناظر میں ہی ساری عمر پریس کلب کے فنڈز میں گھپلوں کے الزامات نما طعنے برداشت کرنے والے شمس الاسلام ناز کے حوالے سے آنکھوں دیکھا واقعہ یاد آگیا۔ ایف ای سی کیلئے خطیر رقم درکار تھی، چند متوقع ڈونرز کے نام لکھے گئے تا کہ فنڈز حاصل کئے جائیں۔ شمس صاحب سے مشورہ کیا گیا ۔ انہوں نے ایف ای سی کے مہمانوں کے اعزاز میں ایک ڈنر اپنی طرف سے خود دینے کا وعدہ کیا اور پھر اس وعدے کو نبھایا بھی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک نام پر ٹک کیا اور کہا ” اس کے پاس جاؤ تو تم لوگ اپنا معاملہ اس سے کر لینا اس کے بعد فون پر میری بات کروا دینا ۔یہ شہر کا ایک نوجوان سرمایہ دار اور ایکسپورٹر تھا۔ سیاست میں بھی دلچسپی رکھتا تھا۔ ایف یو جے کا وفد اس کے پاس گیا ۔ اس وفد کے دو کردار آج بھی موجود ہیں۔ محمد یوسف اور ڈاکٹر طاہر ایم خالق ۔ ہم نے اس صنعتکار سے ایف ای سی کیلئے ڈونیشن کی بات کی ۔ بلا حیل و حجت اس نے 25ہزار روپے کی حامی بھرلی۔ 2005میں 25ہزار خطیر رقم تھی اور اتنی ہی توقع تھی اس سے ہمیں۔ اس نے اپنے اکاؤنٹ آفیسر کو انٹر کام پر 25ہزار روپے لانے کا حکم بھی دیدیااور ساتھ میں چائے کا بھی کہہ دیا۔مرحوم غلام محی الدین نے حسب الہدائت کہا کہ ہمیں شمس الاسلام ناز صاحب نے کہا تھا کہ بات کرنے کے بعد آپ سے ان کی بات کروا دوں۔ شمس الاسلام ناز کا سن کر اس صنعتکار کے کان کھڑے ہو گئے ۔ کہنے لگا آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ انکل شمس نے آپ کو بھیجا ہے۔ فوری انٹر کام اٹھایا اور اکاؤنٹ آفیسر کو کہنے لگا 25ہزار رہنے دو اور 50ہزار لے آؤ۔ اس دوران محی الدین نے اپنے موبائل سے شمس صاحب کو کال ملا لی تھی۔ہیلو کہا اور سپیکر آن کرکے اس شخصیت کی طرف فون بڑھا دیا ۔ شمس صاحب نے سلام کے جواب کے بعد اس شخصیت سے صرف اتنا کہا ۔” بیٹا یہ لوگ امید لے کرآپ کے پاس آئے ہیں۔ میں نے بھی انہیں امید دلا ئی تھی ۔ اور سناؤ ابو کیسے ہیں ”۔اس شخصیت کا جواب بھی دلچسپ تھا اورردعمل بھی ۔” ابو ٹھیک ہیں انکل ۔ میں کسی دن آپ سے ملنے آؤں گا”۔ شکریہ بیٹا کہہ کر شمس صاحب نے کال کاٹ دی ۔ اس شخصیت نے انٹرکام اٹھایا اور کہا یار وہ 50ہزار بھی رہنے اور ایک لاکھ کا چیک بنا کر لے آؤ۔ ایسے شخص پر حاسدین کلب کے فنڈز میں چند لاکھ کی پیرا پھیری کا الزام عائد کرتے رہے۔ جس کا جواب شمس الاسلام ناز نے کبھی نہیں دیا اور ہمیشہ کہا اس کا جواب میرا خدا دے گا۔ آفرین ہے کہ ساری عمر اپنے پر لگنے والے کسی بھی الزام کا جواب نہیں دیا اور ہمیں بھی روکتے کہ جواب نہیں دینا ۔ انہیں بھی سچ کاعلم ہے صرف دنیا کے تھوڑے سے مفاد کیلئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔میری نیت اور اعمال کا صرف خدا کا علم ہے اور وہی ان کو جواب دے گا۔

 

تحریر حامد یٰسین ۔ سابق اسسٹنٹ سیکرٹری ۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر ایک

Related posts