غریبوں سے ہمدردی صرف نعرے:قومی اسمبلی پر کروڑ پتیوں کا قبضہ


اسلام آباد(احمد یٰسین)پاکستان کی قومی اسمبلی پر کروڑ پتی سرمایہ داروں کا قبضہ برقرار ہے۔ تبدیلی کے دعویداروں نے بھی کروڑ اور ارب پتی سرمایہ داروں کو ہی اسمبلی میں پہنچایا۔ غریب کی آواز بھی اسمبلی میں نہیں جاسکتی چہ جائیکہ غریب خود وہاں پہنچ سکے۔غریب عوام اور سفید پوش طبقات کی عدم موجودگی اور سرمایہ دار ٹولے کی موجودگی میں غریب عوام کے حق میں قانون سازی کیسے ہوگی اس پر پوری قوم کی نظریں رہیں گی۔ تبدیلی کا بلند بانگ نعرہ لگانے والے عمران خان خود ارب پتی ہیں ۔مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی ارب پتی ہیں۔ تبدیلی کے دعویدار حکومت بنانے میں تو کامیاب ہوگئے مگر سرمایہ دار اور بالادست طبقات کی موجودگی میں پسے ہوئے طبقات کے حق میں قانون سازی اور قدامات کیسے اٹھائیں گے یہ تبدیلی کا دعویٰ لے کر اقتدار تک پہنچنے والی جماعت کے سربراہ کا امتحان ہو گا۔نیوزلائن کے مطاق قومی اسمبلی میں ارکان اسمبلی کی اکثریت کروڑ پتی سرمایہ دار ہے اور بالادست طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔نیوزلائن کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی میں الیکشن 2018کے بعد کچھ چہرے تو بدل گئے مگر راج ابھی تک سرمایہ دار ٹولے کا ہی ہے۔ اسمبلی میں تمام جماعتوں کے ممبران کی اکثریت بالادست اور سرمایہ دار طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تحریک انصاف نے نعرے تو بہت لگائے مگر عام آدمی کو اسمبلی تک پہنچانے کی بجائے سرمایہ دار ٹولے کو ہی اسمبلی تک لے آئی ۔ صرف چہرے بدلے مگر سرمایہ دار ٹولے کی نمائندگی کم نہیں ہوسکی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان وزیر اعظم بننے جارہے ہیں ۔ ان کا تعلق بھی مظلوم اور پسے ہوئے طبقات سے نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے نامزد کردہ وزراء ‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنرز‘ سپیکرز کا تعلق بھی بالادست اور سرمایہ دار ٹولے سے ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان لوگوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے اثاثے ظاہر کریں اور ان کی مالیت عوام کے سامنے لائیں۔ وہ سیاستدانوں کے اپنے اثاثوں کی مالیت چھپانے کو بھی ہدف تنقید بناتے رہے ہیں مگر وہ خود بھی اس کی عملی تفسیر ثابت ہوئے ہیں۔عمران خان نے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں میں سے 9جائیدادوں کی مالیت ظاہر ہی نہیں کی ۔زمان پارک لاہور کے اپنے 148مرلے کے گھر کی مالیت ظاہر کرنا بھی انہوں نے گوارہ نہیں کیا۔ بنی گالا میں 6ہزار مرلے کے اپنے بنگلے کی قیمت انہوں نے محض 1900روپے فی مرلہ ظاہر کی ہے۔ جبکہ بنی گالا میں ہی اپنے خالی پڑے 136مرلے کے پلاٹ کی قیمت وہ 37ہزار روپے فی مرلہ ظاہر کرتے ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ میاں چنوں میں ان کے 530کنال ‘ 15مرلے کے پلاٹ کی قیمت محض 50ہزار روپے ہے۔
مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف بھی ارب پتی ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کو پانچ قیمتی جائیدادیں گفٹ کررکھی ہیں ۔ اور ان کی مالیت وہ ظاہر ہی نہیں کرتے۔ ان کی پہلی اہلیہ نصرت شہباز کے نام پر بھی انہوں نے متعدد قیمتی جائیدادیں کررکھی ہیں شہباز شریف نے لاہور شہر میں سینکڑوں کنال پر مشتمل 6جائیدادیں رکھی ہوئی ہے اور اس کی مالیت بھی ظاہر نہیں کرتے ۔ مری میں شہباز شریف اور انکی فیملی کے ملکیتی بنگلے 54ہال روڈ کے بارے میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک لاکھ آٹھ ہزار روپے مالیت کا ہے۔ مری میں ہی ہال روڈ پر واقع29مرلے کے پلاٹ 53سی ہال روڈ مری کی مالیت شہباز شریف کے خیال میں صرف 34ہزار روپے ہے۔میاں شہباز شریف نے اپنی بیٹی رابعہ عمران کے نام پرپانچ مختلف کمرشل بنکوں سے 30کروڑ روپے کے قرضے بھی حاصل کررکھے ہیں۔ میاں شہباز شریف نیب عدالت سے سزا یافتہ بھی ہیں ۔ اس سزا کو بعد ازاں ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔ سپریم کورٹ میں اس کی ریویو پٹیشن نیب نے دائر کررکھی ہے مگر کئی سالوں سے اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا۔ میاں شہباز نے اپنی وزارت اعلیٰ کے آخری سال بیرون ملک بھی کاروبار شروع کر لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ڈیڑھ ارب روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ ارب پتی پارٹی سربراہان نے اپنی جماعت کی طرف سے کروڑ اور لکھ پتی سرمایہ دار ہی اسمبلیوں میں پہنچائے ہیں ۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد چار کروڑ 64لاکھ جبکہ چوہدری پرویز الٰہی 19کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کر چکے ہیں۔
تحریک انصاف کے این اے 27سے نومنتخب ایم این اے نور عالم خان اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کے حساب سے موجودہ قومی اسمبلی میں سب سے امیر ہیں۔ ان کے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت تین ارب 25کروڑ روپے ہے۔ملتان کے حلقہ این اے 154سے منتخب احمد حسین دو ارب روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ این اے 9سے منتخب شیر اکبر خان کے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت ایک ارب پانچ کروڑ روپے ہے۔ جبکہ این اے 39سے منتخب ہونیوالے محمد یعقوب شیخ ایک ارب چار کروڑ 36لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ پی ٹی آئی کے نامزد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی کروڑ پتی ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک 17کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔این اے 28سے نومنتخب ارباب عامر ایوب کے اثاثے 30کروڑ سے زائد کے ہیں۔ این اے 33سے منتخب ہونیوالے خیال زمان 65کروڑ 60لاکھ کے اثاثے رکھتے ہیں۔ این اے 43سے منتخب نور الحق قادری 52کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ پی ٹی آئی کے سرگرم رہنما اسد عمر 50کروڑ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ اٹک سے نومنتخب رکن اسمبلی طاہر صادق 35کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ این اے 64چکوال سے منتخب ہونیوالے ذوالفقار علی خان 60کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔ خانیوال سے منتخب ظہور حسین قریشی 40کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی 28کروڑ 36لاکھ کے اثاثے رکھتے ہیں جبکہ ان کے 24بنک اکاؤنٹ ہیں جن میں کروڑوں روپے رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے صاحبزادے زین قریشی بھی کروڑ پتی ہیں۔ ملتان سے ہی منتخب محمد ابراہیم خان 82کروڑ 66لاکھ جبکہ رانا محمد قاسم نون 40کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ لودھراں کے حلقہ این اے 161سے منتخب میاں محمد شفیق 50کروڑ کے اثاثے رکھتے ہیں۔ وہاڑی سے پی ٹی آئی کے منتخب رکن اسمبلی طاہر اقبال 47کروڑ 90لاکھ جبکہ اورنگ زیب کھچی 35کروڑ 90لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ بہاولپور کے مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی اپنے اثاثے تو 19کروڑ 26لاکھ کے کہتے ہیں مگر ایک ایرب روپے کی جائیدادیں ظاہر کرکے ان کی مالیت کو اپنے اثاثوں کی کل مالیت میں شامل نہیں کرتے۔ لیہ کے حلقہ این اے 187سے منتخب عبدالمجید خان کے اثاثے 98کروڑ 50لاکھ روپے کے ہیں۔
پی ٹی آئی کے فیصل واؤڈا 30کروڑ‘ علی خان جدون 50کروڑ ‘ حیدر علی خان چار کروڑ ‘ سلیم رحمان 9کروڑ 50لاکھ ‘ صاحبزادہ صبغت اللہ پانچ کروڑ ‘ محبوب شاہ ساڑھے چار کروڑ‘ محمد بشیر خان 10کروڑ‘ جنید اکبر 35کروڑ ‘ محمد نواز خان 17کروڑ 80لاکھ ‘ صالح محمد97کروڑ 28لاکھ ‘ سابق صدر مملکت ایوب خان کے پوتے عمر ایوب خان 11کروڑ 38لاکھ ‘ اسد قیصر چار کروڑ 15لاکھ ‘ عثمان خان تین کروڑ 61لاکھ ‘ مجاہد علی ڈیڑھ کروڑ ‘ علی محمد آٹھ کروڑ ‘ انور تاج ایک کروڑ تیس لاکھ ‘ فضل محمد خان پچاس کروڑ ‘ عمران خٹک تین کروڑ‘شیر علی ارباب چار کروڑ 93لاکھ ‘شوکت علی دو کروڑ 87لاکھ ‘ شہریار آفریدی ایک کروڑ 60لاکھ ‘ شاہد احمد دو کروڑ ‘ علی امین گنڈا پور 9کروڑ 63لاکھ ‘ گل داد خان آٹھ کروڑ‘ خود کو چائے فروش ظاہر کرنیوالا گل ظفر خان تین کروڑ 14لاکھ ‘ ساجد خان تین کروڑ‘ محمد اقبال خان دو کروڑ گیارہ لاکھ ‘ جواد حسین دو کروڑ 87لاکھ کے اثاثے ظاہر کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے این اے 52اسلام آباد سے منتخب راجہ خرم شہزاد 19کروڑ ‘ مری میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو شکست دینے والے صادقت علی خان 10کروڑ 12لاکھ ‘ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کو شکست دینے والے غلام سرور خان پانچ کروڑ 9لاکھ ‘ عامر محمود کیانی 15کروڑ 37لاکھ ‘ فواد چوہدری 6کروڑ 52لاکھ ‘ چوہدری فرخ الطاف 6کروڑ 57لاکھ ‘ سید فیض الحسن 10کروڑ‘ منڈی بہاؤالدین کے حاجی امتیاز احمد 6کروڑ 39لاکھ ‘ حافظ آباد میں سابق وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کو شکست دینے والے شوکت علی بھٹی 12کروڑ 98لاکھ 34ہزار ‘ خوشاب کے عمر اسلم خان پانچ کروڑ 78لاکھ ‘ ملک احسان اللہ ٹوانہ 20کروڑ 55لاکھ‘ سابق وفاقی وزیر شیرافگن نیازی کے بیٹے امجد علی خان ساڑھے تین کروڑ‘ بھکر کے محمد افضل خان چار کروڑ 34لاکھ‘ شیخوپورہ کے راحت امان اللہ ایک کروڑ‘ لاہور سے منتخب سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر 27کروڑ62لاکھ ‘ لاہور سے ہی منتخب شفقت محمود 6کروڑ 58لاکھ کے اثاثوں کے مالک جبکہ نصف درجن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے‘ ملک کرامت علی 18کروڑ 54لاکھ ‘ بہاولپور کے مالک فاروق اعظم خان 6کروڑ 88لاکھ ‘ رحیم یار خان کے مخدوم خسرو بختیار 20کروڑ 49لاکھ ‘ جاوید اقبال 21کروڑ 56لاکھ ‘ لیہ کے نیاز احمد 9کروڑ‘ ڈیرہ غازی خان کے خواجہ شیراز محمود 25کروڑ‘ امجد فاروق کھوسہ ایک کروڑ 59لاکھ ‘ سردار محمد خان لغاری آٹھ کروڑ 36لاکھ ‘ سردار نصراللہ خان دریشک 10کروڑ‘ سردار ریاض محمد خان مزاری 29کروڑ 80لاکھ ‘ جیکب آباد سے منتخب محمد میاں سومرو ایک کروڑ 90لاکھ ‘ کراچی سے اسمبلی میں پہنچنے والے علی زیدی چار کروڑ 34لاکھ ‘ عامر لیاقت حسین چار کروڑ 90لاکھ ‘ عبدالشکور شاد ایک کروڑ 67لاکھ ‘ عارف علوی پانچ کروڑ 18لاکھ ‘ آفتاب جہانگیر دوکروڑ 69لاکھ ‘ محمد اسلم خان چار کروڑ 41لاکھ ‘ محمد خان جمالی 20کروڑ‘ محمد قاسم خان سوری ایک کروڑکے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔
چنیوٹ کے حلقہ این اے 99سے پی ٹی آئی کے منتخب رکن اسمبلی غلام محمد لالی اپنے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ روپے ظاہر کرتے ہیں جبکہ 22کروڑ روپے کی جائیدادیں ظاہر تو کرتے ہیں مگر ان کی مالیت کو اپنے اثاثوں میں شامل کرنا گوارہ نہیں کرتے۔ جڑانوالہ سے منتخب نواب شیر وسیر کے اپنے اثاثے تو ایک کروڑ کے ہیں جبکہ ان کے بیٹے عرفان وسیر کے نام بھی کروڑوں کی جائیدادیں اور کاروبار ہے ۔رضا نصراللہ گھمن 18کروڑ 22لاکھ ‘ خرم شہزاد 10کروڑ‘ فیض اللہ کموکا ایک کروڑ 14لاکھ‘ راجہ ریاض احمد ایک کروڑ 16لاکھ ‘ کمالیہ سے منتخب محمد ریاض فتیانہ پانچ کروڑ 12لاکھ ‘ جھنگ سے منتخب محبوب سلطان اپنے اثاثے تو 29کروڑ کے ظاہر کرتے ہیں مگر 125کنال اراضی کی مالیت اس میں شامل ہی نہیں کرتے۔ غلام بی بی بھروانہ ایک کروڑ 43لاکھ کے اثاثے طاہر کرتی ہیں مگراپنی ملکیتی 13کروڑ روپے مالیت کی 1354ایکڑ اراضی کی مالیت کو اپنے اثاثوں میں شامل کرنا گوارہ نہیں کرتیں۔محمد امیر سلطان 15کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔
کروڑ پتی ارکان اسمبلی کی مسلم لیگ ن میں بھی کمی نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف کے علاوہ حمزہ شہباز بھی کروڑوں روپے کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔این اے 169بہاولپور سے جیتنے والے مسلم لیگ ن کے نورالحسن تنویر ایک ارب 25کروڑ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ رحیم یار خان کے حلقہ این اے 176 سے جیتنے والے ن لیگی رہنما شیخ فیاض الدین 94کروڑ 22لاکھ 17ہزار سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔ پاکپتن کے حلقہ این اے 145سے منتخب ن لیگی ایم این اے احمد رضا مانیکا 46کروڑ کے اثاثے ظاہر کر چکے ہیں۔جبکہ خانیوال سے منتخب چوہدری افتخار نذیر 55کروڑ روپے سے زائدکے اثاثوں کے مالک ہیں۔ بہاولنگر کے حلقہ این اے 167سے منتخب رکن اسمبلی عالم داد لالیکا 59کروڑ جبکہ احسان الحق باجوہ 35کروڑ کے ظاہر کردہ اثاثو ں کے مالک ہیں۔
سیالکوٹ کے رانا شمیم احمد خان 18کروڑ 70لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں۔ سرگودھا کے سید جاوید حسنین 25کروڑ 18لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ چنیوٹ سے منتخب قیصر احمد شیخ پانچ کروڑ 42لاکھ کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں جبکہ اپنا 22کروڑ مالیت کا گھر ظاہر کرکے بھی اس کی مالیت اپنے اثاثوں کی مالیت میں شامل نہیں کرتے۔ سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان سات کروڑ 84لاکھ کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی اکلوتی صاحبزادی اور داماد کے الگ سے کروڑوں روپے کے اثاثے ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ سے منتخب چوہدری خالد جاوید وڑائچ کے 16کروڑ 83لاکھ کے ظاہر کردہ اثاثے ہیں۔ سمندری سے منتخب رکن اسمبلی شہباز بابر کے 9کروڑ 92لاکھ 14ہزار روپے کے اثاثے ہیں۔ ٹوبہ کے جنید انوار چوہدری کے 11کروڑ 72لاکھ ‘ ننکانہ صاحب کے برجیس طاہر کے چار کروڑ 9لاکھ روپے ‘ رانا تنویر حسین کے 17کروڑ 44لاکھ ‘ سردار محمد عرفان ڈوگر کے ایک کروڑ 30لاکھ کے ظاہر کردہ اثاثے ہیں خانیوال کے محمد خان ڈاہا 14کروڑ 12لاکھ ‘ لودھراں کے عبدالرحمان کانجو 14کروڑ 35لاکھ ‘ وہاڑی کے چوہدری فقیر احمد چار کروڑ 95لاکھ اور ساجد مہدی پانچ کروڑ سے زائد کے اثاثے رکھتے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ دوکروڑ کے اثاثے رکھتے ہیں۔
سابق وزیر مملکت دانیال عزیز کی اہلیہ 10کروڑ 43لاکھ روپے کے اثاثوں کی مالک ہیں جبکہ انہوں نے اپنے مکان کی مالیت کو ان اثاثوں میں شامل نہیں کیا۔ محمود بشیر ورک 12کروڑ‘ اظہر قیوم ناہرہ 13کروڑ 36لاکھ ‘ لاہور سے منتخب محمد ریاض ملک دو کروڑ 63لاکھ‘ وحید عالم خان آٹھ کروڑ‘ علی پرویز ملک آٹھ کروڑ 55لاکھ ‘ شیخ روحیل اصغر 15کروڑ 68لاکھ ‘ سردار ایاز صادق چار کروڑ 47لاکھ ‘ محمد پرویز ملک چار کروڑ 52لاکھ ‘ محمد افضل کھوکھر 10کروڑ 75لاکھ ‘ قصور کے رشید احمد خان ایک کروڑ 82لاکھ ‘ بہاولپور کے میاں نجیب الدین اویسی تین کروڑ 18لاکھ ‘ این اے 10شانگلہ سے منتخب عباد اللہ خان تین کروڑ 31لاکھ ‘ مانسہرہ کے محمد سجاد ڈیڑھ کروڑ‘ سیالکوٹ کے چوہدری ارمغان سبحانی ایک کروڑ 70لاکھ ‘ خواجہ محمد آصف ایک کروڑ 37لاکھ ‘ سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے بیٹے علی زاہد ایک کروڑ 15لاکھ ‘ احس اقبال ایک کروڑ 38لاکھ ‘ گوجرانوالہ کے نثار احمد چیمہ دو کروڑ 81لاکھ ‘ خرم دستگیر ایک کروڑ 28لاکھ کے اثاثے مگر اپنی دوجائیدادوں کی مالیت اس میں شامل نہیں کرتے‘ ذوالفقار احمد 12کروڑ 12لاکھ ‘ ناصر اقبال بوسال دو کروڑ 18لاکھ ‘ محسن نواز رانجھا دوکروڑ 33لاکھ ‘ حامد حمید ایک کروڑ 17لاکھ کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔ رانا مبشر اقبال 16کروڑ 81لاکھ کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں مگر 70کروڑ روپے مالیت کی زمین ظاہر کرکے بھی اس کی مالیت اپنے اثاثوں میں شامل نہیں کرتے۔

پاکستان مسلم لیگ (مسلم لیگ ق)کے صرف تین لوگ قومی اسمبلی میں پہنچے اور تینوں ہی کروڑ پتی ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے 19کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کئے ۔ وہ دو حلقوں سے جیت کر قومی اسمبلی پہنچے مگر دونوں سے مستعفی ہو کر پنجاب اسمبلی کی نشست انہوں نے اپنے پاس رکھ لی۔ این اے 68سے منتخب ہونیوالے حسین الٰہی تین کروڑ 43لاکھ کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں مگر اپنی ظاہر کردہ پانچ جائیدادوں کی مالیت اس میں شامل نہیں کرتے۔ بہاولپور سے جیتنے والے چوہدری طارق بشیر چیمہ آٹھ کروڑ 19لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے صرف دو ہی لوگ اسمبلی میں پہنچ سکے اور دونوں ہی کروڑ پتی ہیں۔سابق سپیکر فہمیدہ مرزا 16کروڑ 19لاکھ اور غوث بخش مہر ایک کروڑ 33 لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ڈیڑھ ارب کے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں ۔ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونیوالے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری 75کروڑ 86لاکھ 69ہزارروپے مالیت کے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ این اے 231سجاول سے منتخب پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی سید ایاز علی شاہ شیرازی 79کروڑ 79لاکھ کے اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔ این اے 203سے کامیاب پی پی پی پی کے میر عامر علی خان مگسی 42کروڑ 23لاکھ سے زائد کے اثاثے رکھتے ہیں۔ این اے 220سے منتخب ہونیوالے نواب محمدیوسف تالپور 20کروڑ سے زائد کے اثاثے رکھتے ہیں۔ این اے 228سے کامیاب سید نوید قمر 20کروڑ 33لاکھ ‘ غلا م علی تالپور 18کروڑ 98لاکھ خیبر پختونخواہ کے حلقہ این اے 46سے جیتنے والے پی پی پی پی کے ساجد حسین طوری آٹھ کروڑ 62لاکھ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ایک کروڑ 52لاکھ کے ثاثے رکھتے ہیں۔ رحیم یار خان سے جیتنے والے سید مصطفی محمود 10کروڑ 38لاکھ جبکہ سید مرتضیٰ محمود 11کروڑ 44لاکھ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ پیپلزپارٹی کے احسان الرحمان مزاری تین کروڑ73لاکھ ‘ آفتاب شعبان میرانی دو کروڑ 21لاکھ ‘ خالد احمد خان پانچ کروڑ‘ خورشید شاہ تین کروڑ 59لاکھ ‘ نفیسہ شاہ دو کروڑ 39لاکھ ‘ پیر سید فضل علی شاہ گیلانی اڑھائی کروڑ‘ سید جاوید علی شاہ جیلانی 6کروڑ 17لاکھ ‘ ذوالفقار علی ایک کروڑ 53لاکھ ‘ سید غلام مصطفی شاہ 10کروڑ 71لاکھ ‘ نوید ڈیرو دو کروڑ 69لاکھ ‘ روشن دین جونیجو تین کروڑ 10لاکھ ‘ پیر منور علی تالپور چار کروڑ پچاس لاکھ ‘ پیر نور محمد شاہ جیلانی تین کروڑ 95لاکھ ‘ مہیش کمار ملانی دوکروڑ 90لاکھ ‘ مخدوم جمیل الزمان دو کروڑ 59لاکھ ‘ ذوالفقارباچانی دو کروڑ ‘ سید حسین طارق تین کروڑ 91لاکھ ‘ سکند علی راہوپوتو سات کروڑ 33لاکھ ‘ عرفان علی لغاری دو کروڑ‘ رفیق احمد جمالی 9کروڑ 33لاکھ ‘ جام عبدالکریم بجار 6کروڑ 52لاکھ‘ عبدالقادر پٹیل ایک کروڑ 58لاکھ کے ظاہر کردہ اثاثوں کے مالک ہیں۔
ایم کیو ایم کے محمد اکرم پانچ کروڑ 83لاکھ ‘ اقبال محمد علی دوکروڑ 26لاکھ‘ عثمان قادری ایک کروڑ‘ کے اثاثے رکھتے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبدالواسع دوکروڑ 28لاکھ روپے کے اثاثے رکھتے ہیں اور انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں سے دوکروڑ 10لاکھ روپے نقد ان کی تجوری میں موجود ہیں۔این اے ایک چترال سے منتخب مولانا عبدالاکبر چترالی ایک کروڑ 31لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ این اے 11کوہستان سے جیتنے والے آفرین خان6کروڑ کے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کا صرف ایک ہی ممبر امیر حیدر اعظم خان ہے اور وہ ایک ارب روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں
این اے 13مانسہرہ سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر جیتنے والے صالح محمد کے ظاہر کردہ اثاثے 97کروڑ 28لاکھ روپے سے زائد ہے۔ این اے 101فیصل آباد سے آزاد حیثیت میں مسلم لیگ ن کی حمائت سے پی ٹی آئی امیدوار کو شکست دینے والے عاصم نذیر جیت کر پی ٹی آئی میں ہی شامل ہوگئے انہوں نے آٹھ کروڑ 77لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔ ‘این اے 150سے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لے کر پی ٹی آئی امیدوار کو پچھاڑنے والے سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے 15کروڑ 18لاکھ کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔ این اے 205سے آزاد جیتنے والے علی محمد خان مہر چار کروڑ 68لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ این اے 218سے کامیاب ہونیوالے علی نواز شاہ چار کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔
جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی دو کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل تین کروڑ 42لاکھ کے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کروڑوں روپے کی جائیدادیں رکھتی ہیں مگر وہ ان کی مالیت ظاہر کرنے سے گریزاں ہیں۔ قومی اسمبلی کے آخری حلقہ این اے 272سے جیتنے والے محمد اسلم بھوتانی دو کروڑ 30لاکھ کے اثاثے رکھتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر جیتنے والی خواتین کی اکثریت بھی کروڑ پتی اور سرمایہ دار فیملیز سے تعلق رکھتی ہیں۔ خاص طور پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے چن چن کر بالادست طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اسمبلی میں پہنچایا ہے۔

Related posts