غریبوں کیلئے حکومتی امداد کا حجم 10سال سے جمود کا شکار


فیصل آباد (احمد یٰسین) غریب‘ لاچار اور بے سہارا افراد کیلئے پاکستان بیت المال سے مالی امداد کا حجم 10 سال سے جمود کا شکار ہے۔ مستحقین کیلئے امداد کو زرداری حکومت نے 40ہزار روپے سے بڑھا کر60 ہزار روپے فی کس مقرر کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس معاملے گور ہی نہیں کیا جبکہ پی ٹی آئی حکومت بھی اس معاملے کو نظر انداز کئے ہوئے ہے۔نیوزلائن کے مطابق پیپلزپارٹی نے اپنی حکومت بنتے ہی 2008میں بیت المال سے مستحقین کیلئے امداد کا حجم بڑھایا تھا اور اسے 40ہزار سے بڑھا کر 60ہزار روپے فی کس کردیا تھا۔ زرداری حکومت میں اس کے بعد امداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ میاں نواز شریف حکومت سے مسلسل بیت المال کی امداد میں اضافے کا مطالبہ کیا جاتا رہا مگر حکومت نے اس معاملے کو نظر انداز ہی کئے رکھا۔ مہنگائی کے تناسب سے حکومتی امداد ایک لاکھ روپے تک کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے مگر یہ صرف مطالبہ ہی رہا اس مسلم لیگ ن کی حکومت نے پذیرائی نہ بخشی۔ اس دوران ہی پاکستان بیت المال کی بحالی روزگار سکیم اور جہیز فنڈ سکیم بھی ختم کردی گئیں۔ پی ٹی آئی حکومت قائم ہونے کے بعد سے دوبارہ وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر ابھی تک حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ مہنگائی اور افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے مستحقین کیلئے مالی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مطابق قرار دی جارہی ہے۔ مگر حکومت اس معاملے کو سنجیدہ لینے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔

Related posts