فاٹا کی قومی و صوبائی اسمبلی میں نمائندگی بڑھانے کا بل منظور

اسلام آباد (نیوز لائن) قومی اسمبلی میں 26 ویں آئینی ترمیم کا بل متفقہ طور پر شق وار منظور کر لیا گیا۔ 288 ارکان نے ترمیمی بل کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ کسی ارکان نے بل کی مخالف نہیں کی۔  26 ویں آئینی ترمیم کا بل رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایوان میں پیش کیا، پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی آئینی ترمیمی بل حکومت و اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعد قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں 16 سے بڑھ کر 24 ہو جائیں گی جبکہ قومی اسمبلی کی 12 نشستیں برقرار رہیں گی، 26 ویں آئینی ترمیم کو اب سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا فاٹا کے لوگ بہت مشکل وقت سے گزرے ہیں، فاٹا کےعوام کی آواز اب ہر جگہ سنی جائے گی، پوری قوم فاٹا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، فاٹا کو 10 سال کیلئے ہر صوبہ این ایف سی ایوارڈ سے 3 فیصد دے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا فاٹا میں دہشتگردی سے بہت تباہی ہوئی، ڈویلپمنٹ فنڈز سے اس تباہی کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا، ہماری زندگی میں پاکستان کیساتھ بہت برا حادثہ ہوا، مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہوا، پاکستان کے دشمن احساس محرومی کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، فاٹا سے متعلق بل پر تمام جماعتوں پر اعتماد کیا ہے۔

اس سے پہلے جنوبی پنجاب صوبے کیلئے آئینی ترمیمی بل کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کی گئی۔ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم نظر آئیں۔نون لیگ نے بل کی مخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور صوبہ بنانے کی بھی حمایت کی۔ اجلاس کے دوران شور شرابہ بھی ہوا۔

Related posts