فیصل آبادپولیس جنسی ہراساں کے مقدمات درج کرنے سے گریزاں


فیصل آباد(نیوزلائن)فیصل آباد پولیس جنسی ہراسگی کے واقعات کے مقدمات درج کرنے سے گریزاں ہے۔ فیصل آباد کے 41تھانوں میں ڈیڑھ ہزار سے زائد جنسی ہراساں کئے جانے کی شکایات طویل عرصہ سے رکھی ہوئی ہیں اور ’’ تھانیدارمافیا‘‘ روائتی انداز میں ملزموں کیساتھ ملی بھگت کرکے مقدمات کے اندراج میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔جنسی حراساں کئے جانے کی شکایات میں صرف خواتین ہی نہیں کم سن بچے بھی متاثرہ ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے 41تھانوں میں جنسی ہراساں کئے جانے کی ڈیڑھ ہزار سے زائد شکایات مقدمہ کے اندراج کے بغیر ’’پینڈنگ‘‘ پڑی ہوئی ہیں۔بد خصلت افراد کے ہاتھوں جنسی ہراسگی کا نشانہ بننے والوں میں صرف خواتین ہی شامل نہیں ہیں بلکہ کم سن بچے بھی ان کا نشانہ بنے ہیں ۔ معاشرے کے تنگ نظر روئیے کے باوجود اپنے ساتھ جنسی ہراسگی کی شکائت کرنے کی ہمت کرنے والی خواتین اور بچوں کیساتھ پولیس روائتی رویہ اپنائے ہوئے ہے اور مقدمات کے اندراج کی بجائے انہیں تھانے کے چکر لگوا لگوا کر نظام انصاف سے عاجز کیا جا رہا ہے۔ جنسی ہراسگی کی شکایات کے حوالے سے پولیس کا روائتی سا جواب ہے کہ کونسا زیادتی یا بدفعلی کا ارتکاب ہوا ہے۔ جب بدفعلی یا زیادتی مکمل ہی نہیں ہوئی تو مقدمہ کا اندراج کیوں کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ملزمان کیساتھ ملی بھگت کرکے تھانیدار روائتی انداز میں مدعی کو مجبور کرتے ہیں کہ صلح کر لی جائے۔ کہ ایسے مقدمات میں ان کا کچھ بننا نہیں ہے۔ نیوزلائن کے مطابق جنسی ہراسگی کے پینڈنگ کیسز میں سرفہرست تھانہ صدر جڑانوالہ ہے اس فہرست میں دوسرے نمبر پرآکر تھانہ ملت ٹاؤن سلور میڈل کا حقدر ٹھہرا ہے تھانہ لنڈیانوالہ تیسری پوزیشن کیساتھ براؤنز میڈل لے سکتا ہے۔ حالات تھانہ گڑھ‘ تھانہ ساندل بار‘ تھانہ ٹھیکریوالہ‘ تھانہ مامونکانجن‘ تھانہ بلوچنی‘ تھانہ کھرڑیانوالہ‘تھانہ ساہیانوالہ‘ تھانہ صدر‘ تھانہ ڈجکوٹ کے بھی دگرگوں ہی ہیں ۔ کئی ماہ سے ’’پینڈنگ‘‘ کیساتھ رکھی ہوئی ان شکایات پر مقدمات کا اندراج تو نہیں ہو سکا لیکن تھانیداروں نے روائتی انداز میں ’’آؤ بھگت‘‘ کرکے اور گالیوں و طعنوں سے نواز کر مدعیوں کو پیروی سے ضرور روک رکھا ہے۔

Related posts

Leave a Comment