فیصل آباد سے رجسٹرڈ واحد سیاسی پارٹی کا سربراہ کنگلا نکلا


فیصل آباد(نیوزلائن)الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں میں سے صرف ایک ہی ایسی ہے جس کا ہیڈآفس فیصل آباد میں ہے۔اور اس سیاسی جماعت کاسربراہ بھی انتہائی کنگلا ثابت ہوا۔ دو حلقوں سے الیکشن میں کودنے والے اس سیاسی جماعت کے سربراہ کی آمدن اتنی کم ہے کہ وہ خود اس کی جماعت کے کارکن حیران ہیں کہ الیکشن میں حصہ کیسے لیں گے اور اخراجات کیسے پورے کریں گے۔نیوزلائن کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے صرف ایک جماعت کا ہیڈ آفس فیصل آباد میں ہے۔ موو آن پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ اس سیاسی جماعت کی طرف سے آٹھ حلقوں میں ٹکٹ بھی جاری کئے گئے ہیں۔اس سیاسی جماعت کے سربراہ میاں محمد کامران خود بھی قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 102اور این اے 110سے امیدوار ہیں ۔ نیوزلائن کو دستیاب دستاویزات کے مطابق میاں محمد کامران اپنے ظاہر کردہ اثاثہ جات میں انتہائی کم آمدن والے شخص ہیں۔دستاویزات کے مطابق سال 2017میں میاں کامران کی اوسط ماہانہ آمدن 55ہزار 509روپے 75پیسے تھی۔ سال بھر میں وہ صرف 6لاکھ 66ہزار 117روپے کما سکے۔ ساڑھے 55ہزار روپے کی ماہانہ آمدن میں انہیں اپنی دو بیویوں اور چار بچوں کے اخراجات کے علاوہ اپنی تین قیمتی گاڑیوں کے اخراجات بھی پورے کرنا پڑتے ہیں۔ میاں محمد کامران قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے میدان میں تو اتر گئے مگر ان کیلئے انتخابی اخراجات پورے کرنا بھی چیلنج بنا ہوا ہے۔ وہ الیکشن کیلئے میدان میں اترے تو ان کے پاس صرف ایک لاکھ روپے نقد تھے جبکہ ان کے بنک اکاؤنٹ میں بھی صرف دو لاکھ اٹھاون ہزار 239روپے تھے۔ اتنے قلیل سرمائے کیساتھ وہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں کے انتخابی اخراجات کیسے پورے کریں گے یہ ان کے ساتھ ان کی پارٹی کے کارکنوں کیلئے بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

Related posts