فیصل آباد میں جدید دور کے سلطانہ ڈاکو کی موجودگی کا انکشاف


فیصل آباد( احمد یٰسین )برصغیر میں انگریز کا راج تھا اور جاگیر دار و سرمایہ دار صرف وہ تھے جو انگریز سرکار کے ’’پٹھو‘‘ تھے۔ 1857کی جنگ آزادی کے بعد عام ہندوستانی اور خاص طور پر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہو چکا تھا ۔ مسلمان ہوں یا ہندو جاگیروں کے مالک صرف وہ تھے جنہوں نے اہل ہندوستان کیساتھ غداری کی داستانیں رقم کیں اور انگریز سرکار کا ہر ظلم و بربریت میں ساتھ دیا۔ انگریز کے ظلم کی داستانیں ہندوستان کے طول عرض میں پھیل رہی تھیں ۔ ایسے ہی وقت میں انگریز اور اس کے پٹھو جاگیرداروں کیخلاف ایک آواز اٹھی ۔ اپنے وقت کے حقیقی سلطان نے انگریزسرکار کے پٹھو جاگیرداروں کیخلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ سلطان کو انگریز نے سلطانہ ڈاکو کا خطاب دیا جسے سلطان نے ہنس کر سینے سے لگا لیا کہ بغاوت کرنے والوں کو خطابات سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ سلطان کی وجہ شہرت اس کا منفرد فلسفہ تھا جسے بعد ازاں انگریز نے اپنے ایک ڈاکو رابن ہڈ کے نام کرنے کی کوشش کی ۔ سلطانہ ڈاکو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے مال لوٹتا اور اسے غریب ہاریوں اور محنت کشوں میں تقسیم کرکے غائب ہو جاتا۔وہ کیا ہی ڈاکو تھا کہ جس کی کامیابیوں کیلئے ہزاروں محنت کش اور ہاری ہاتھ اٹھائے دعائیں کررہے ہوتے تھے۔ سطانہ ڈاکو ہندوستان میں ایک تاریخ رقم کی اور سالہا سال تک جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو لوٹتا رہا اور انگریزی پولیس کیلئے ایک چیلنج بنا رہا ۔انگریز سرکار چاہتے ہوئے بھی سلطانہ ڈاکو کے نام کیساتھ لگنے والی نیک نامی کو ختم نہ کرسکی۔اور غریب اریوں اور محنت کشوں کا استحصال کرنے والے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو لوٹنے کی داستانوں کیساتھ لوٹ کا مال غریبوں اور ہاریوں میں بانٹنے کی نیک نامی بھی سلطانہ ڈاکو کے نام کیساتھ نتھی ہو گیا۔سلطانہ ڈاکو کو پکڑنے کیلئے انگریز فوج اور پولیس بہت سرگرم رہی۔ مگراستحصالی نظام کو استحکام دینے والی انگریز سرکار کے تنخواہ دار افسر اور سپاہیوں کے ایسے درجنوں نام ہیں جو سلطانہ کو پکڑنے کا ٹاسک لے کر میدان میں آئے مگر سلطانہ کے ہی ہاتھوں مارے گئے۔
ایسے ہی ایک سلطانہ ڈاکوکا نام فیصل آباد میں گونج رہا ہے۔ سلطان کے ہی ہم وزن اس کا نام سلیمان بتایا جا رہا ہے۔سلیمان نام کا یہ ڈاکو حافظ قرآن بتایا جاتا ہے۔ فیصل آباد میں پہلی مرتبہ اس کا نام عوامی سطح پر اس وقت سامنے آیا جب جنرل بس سٹینڈ کے قریب ایک مقابلے میں دو سابق ایس ایچ او مدینہ ٹاؤن مہر ندیم انجم اور ان کے گن مین شہزاد کو شہید کر کے وہ پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہو گیا۔پولیس نے منڈی بہاؤالدین میں اس کا سراغ لگا کر کارروائی کی مگر وہاں بھی وہ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ فیصل آباد کے نواح میں ایک جیولر کو لوٹنے کی واردات اور وہاں پولیس مقابلے میں متعدد افراد کے مارے جانے میں بھی حافظ سلیمان کا نام سامنے آیا۔ ابھی تک حافظ سلیمان پولیس کے ہتھے نہیں چڑھ سکاتاہم فیصل آباد پولیس کی اب تک کی اپنی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ حافظ سلیمان اگرچہ فیصل آباد پولیس کیلئے ڈاکو ہے مگر درجنوں غریبوں اور بے سہارا افراد اور خاص طور پر خواتین کیلئے وہ زندگی کا پہیہ چلانے کیلئے زمین پر ایک بڑا سہارا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ’’ سلیمان ڈاکو‘‘صوم صلوٰاۃ کا پابند ہے۔ حافظ قرآن ہونے کیساتھ کلام مجید کی مسلسل تلاوت کرتا ہے۔ پانچ وقت کا نمازی جبکہ سرمایہ داروں سے لوٹا ہوا مال غریبوں میں تقسیم کرتا رہتا ہے۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متعدد غریب و بے سہارا خواتین کو وہ مسلسل رقوم دیتا رہا ہے۔ پولیس تفتیش کے حوالے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حافظ سلیمان ڈاکو کے مختلف ٹھکانوں کی تلاشی کے دوران اس کی متعدد دستاویزات ملی ہیں جن میں مختلف لوگوں کو رقوم تقسیم کرنے اور لوٹے ہوئے مال کی تقسیم اور خرچ کے معاملات لکھے ہوئے ہیں۔ ان دستاویزات کے علاوہ بھی پولیس کو دیگر ذرائع سے تفتیش میں بھی حافظ سلیمان کی لوٹ مار اور لوٹ کا مال غریبوں میں تقسیم کرنے ‘ پولیس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے‘ محنت کشوں کا استحصال کرنے والے سرمایہ داروں کو واردات میں نشانہ بنانے جیسے معاملات کا علم ہوا ہے۔ مکمل حالات تو حافظ سلیمان کی گرفتاری پر ہی سامنے آسکتے ہیں تاہم اب تک کی پولیس تفتیش اسے سلطانہ ڈاکوکے انتہائی قریب قریب پیش کررہے ہیں۔

Related posts