فیصل آباد میں جنرل پرویز مشرف کیخلاف تحریک اور شمس الاسلام ناز

شمس الاسلام ناز کی یاد میں۔۔۔۔قسط نمبر چھ

تحریر : حامد یٰسین

اگرچہ فیصل آباد کی صحافت اور صحافی جنرل پرویز مشرف کی آمریت ‘ سنسر شپ’ غیراعلانیہ سنسر شپ’ زرد صحافت کے جملوں جیسے حملے سے براہ راست متاثر نہیں ہوئے تھے مگر ملک بھر کے مجموعی حالات کے تناظر میں فیصل آباد میں جنرل پرویز مشرف کیخلاف موثر ترین آواز فیصل آباد سے بلند ہوئی۔ سال 2007میں ملک گیر تحریک چلی تھی مگرکوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ سب سے موثر آواز فیصل آباد سے بلند ہوئی۔ اس کی تفصیلات میں جانے سے بھی پہلے مشرف کی آمریت کیخلاف پہلی آواز بلند ہونے کاذکر ضروری ہے۔
مشرف کی آمریت کیخلاف پہلی آواز فیصل آباد سے بلند ہوئی

تاریخ گواہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت کیخلاف پہلی آواز فیصل آباد سے بلند ہوئی ۔ جنرل پرویز مشرف کی آمریت ملک بھر میں ملک کنٹرول تھا۔ آمریت کے سامنے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہیں تھی۔ وردی پہن کر انہیں صدر بنائے جانے کی باتیں زبان زدعام تھیں۔ جمہوریت کی چیمپئن مسلم لیگ ن ‘ پیپلزپارٹی اور ان باقی چیمپئن دم دبا کر بھاگ چکے تھے۔ ملک میں ہو کا عالم تھا ۔ ایسے میں آمریت کیخلاف پہلی آواز بلند ہوئی ۔ ضیاء الحق کی آمریت آئی تھی تو ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ آمریت کی مخالفت’ فوجی اقتدار کیناپسندیدگی یا اپنی حکومت جانے کے دکھ میں پی پی پی آمریت کے سامنے دٹ جانے کی علامت بن کر سامنے آئی۔ پیپلزپارٹی نے اس کیخلاف ملک گیر تحریک چلائی ۔ جیالوں نے آمریت کے خلاف مزاحمت کی نئی مثالیں قائم کیں۔ جنرل مشرف کی آمریت آئی تو ملک میں نواز شریف کا اقتدار تھا۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ مشرف کیخلاف مسلم لیگ ن مزاحمت نام کی کوئی چیز پیش نہ کرسکی۔ ملک بھر میں سکوت اور خاموشی سے بھاگ جانے کی روائت پیش کرکے آمریت کو کھل کھیلنے کا موقع دیا گیا۔ مشرف کی آمریت کیخلاف ن لیگ کی طرف سے پہلی گرفتاری اکتوبر 1999میں ہی پیش کی گئی ۔ یہ ن لیگ کے ایک ایم پی اے تھے جو کراچی میں گرفتاری دے گئے اور یہ بھی فیصل آباد سے تھے( یہ ایک الگ کہانی ہے کہ اقدار میں آنے کے بعد ن لیگ اور نواز شریف نے اپنے اس ایم پی اے کو پارٹی سے فارغ ہی کردیا)۔ مزاحمت کی دوسری مثال کلثوم نواز کا مزاحمتی مارچ تھا مگر یہ بھی فیملی بچاؤ تحریک سے زیادہ کچھ نہ نکلا اور اس مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں شریف فیملی جلاوطنی کا آپشن استعمال کرکے جدے پہنچ گئی۔ ایک کہانی اس تحریک کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ کلثوم نواز کی اس تحریک میں بھی فیصل آباد کی سیاست کے دو بڑے نام سب سے زیادہ متحرک تھے مگر ان کا کریہ کرم بھی مسلم لیگ ن نے خود ہی کردیا۔ مشرف آمریت کے دباؤ کو نظر انداز کرکے کلثوم نواز کے ہم رکاب رہنے والی یہ شخصیات دور اقتدار میں مسلم لیگ ن سے دور خود نواز شریف نے دھکیل دیں۔ فیصل آباد کی ہی ایک شخصیت کو نواز شریف کا بہروپ دینے کی مثال بھی دی جا سکتی ہے مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس میں حقیقت کتنی تھی اور ”حقائق” کیا تھے۔ اس بہروپ کے بعد یہ شخصیت بھی خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر گھر میں بیٹھ گئی تھی اور صرف اس موقع پر آواز بلند کی جب حالات نارمل تھے ۔ بات چلی تھی مشرف کیخلاف صحافتی سطح پر مزاحمت کی اور آگئی سیاسی میدان میں عدم مزاحمت تک۔ مشرف کی آمریت کیخلاف پہلی موژر آواز سال 2002میں فیصل آباد سے اس وقت بلند ہوئی جب جنرل پرویز مشرف اپنے تاریخی ریفرنڈم کیلئے نکل چکے تھے۔ سیاسی شخصیات انہیں وردی میں صدر بنانے کیلئے ابن کے ہم رکاب تھیں۔ لاہور میں لاہور کے میڈیا اور صحافیوں کیلئے نازیبا الفاط کہنے پر فیصل آباد میں مشرف کیخلاف آواز بلند ہوئی۔ جمہوریت کی چیمپئن اے پی این ایس ‘ سی پی این ای مشرف کی ایک ہی ”گھرکی”کی مار ثابت ہوئیں اور اس کے ممبران احتجاج سے الگ ہو کر ”جی حضوری” کا پرچم بلند کرنے کیلئے ایک دوسرے کو مات دینے لگے۔ فیصل آباد کے اخباری مالکان بھی اپنا بوریا بستر احتجاج سے دور ہٹا گئے۔ مگر فیصل آباد کے صحافیوں نے علم احتجاج بلند ہی رکھا۔ دو ماہ تک مسلسل احتجاجی آوازیں فیصل آباد سے بلند ہوتی رہیں۔ ہر روز احتجاجی کیمپ لگایا جاتا۔ اس احتجاجی تحریک کے سرخیل جاوید صدیقی کے علاوہ شمس الاسلام ناز بھی میدان میں پیش پیش تھے۔ اس وقت ایف یو جے کے صدر محمد یوسف ‘ راقم الحروف’ غلام محی الدین’ اعجاز انصاری اور متعدد دیگر نام بھی اس احتجاج کے نمایاں نام تھے۔ ہر طرح کے حکومتی دباؤ کے باوجود شمس الاسلام ناز نے پریس کلب سے احتجاج ختم کروانے سے انکار کئے رکھا۔ مشرف حکومت نے احتجاج ختم کروانے کیلئے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا مگر بے سود رہا۔ خود وزیر اطلاعات نثار میمن بعض اخباری مالکان کی حمائت کے ساتھ فیصل آباد آئے۔ اخباری مالکان کی طرف سے کارکنوں کو فارغ کئے جانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں مگر مشرف کیخلاف یہ احتجاج ختم نہ کروایا جاسکا۔ دو ماہ کے بعد مقامی سطح پر ہی اس احتجاج کو ایک مزاحمتی علامت کے طور پر یاد رکھنے کے فیصلے کے تحت بند کیا گیا۔

مشرف کیخلاف مزاحمت کی وسری بڑی تحریک سال 2007میں شروع ہوئی جب پیمرا کے ذریعے نیوز چینلز کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پیمرا کے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے الفاظ مزاحمت کے نشان کے طور پر ”پاکستان ائیر اینڈ ماؤتھ ریسٹریکشن اتھارٹی ” جیسے الفاظ کے ساتھ بدل کر احتجاج میں پیش کرنے کا اعزاز فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کو حاصل ہوا۔ یہ سلوگن بعد ازاں ملک گیر مقبولیت حاصل کرگیا۔ اس تحریک میں بھی میڈیا مالکان نے ہی حکومت ک سامنے گھٹنے ٹیکے میڈیا ورکرز آخری دم تک میدان میں ڈٹے رہے۔
تین نومبر 2007کو مشرف نے ”منی مارشل لائ” لگاتے ہوئے ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو ملک بھر کے پریس کلب اور بارز پر پولیس کا پہرہ لگا دیا۔ ایک مرتبہ پھر ”ہو” کا سناٹا چھا گیا۔ ٹی وی چینل کچھ دکھانے سے ڈر رہے تھے۔ اخبارات میں ہلکے پھلکے بیانات کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ملک میں اگر کوئی آواز تھی تو یہ بے نظیر بھٹو کی تھی جنہوں نے کھل کر ایمرجنسی کی مخالفت کی۔ فیصل آباد کی سیاسی شخصیات بیان جاری کرنے سے بھی خوفزدہ تھیں۔


تین نومبر کو ایرجنسی کا نفاذ ہوا اور ملک بھر کی بارز اور پریس کلبوں پر پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا۔ کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھا۔ حسب معمول چار نومبر کو پریس کلب پہنچا تو پولیس کا پہرہ لگا ہوا تھا۔فوری شمس الاسلام ناز کو کال کی ان کا آفس پریس کلب سے متصل تھا اور آفس آنے کیلئے وہ نکل ہی رہے تھے چند منٹ میں ہی وہ وہاں پہنچ گئے ۔ہم پولیس سے بحث کرہی رہے تھے کہ ندیم جاوید اور کاشف فرید بھی وہیں آگئے۔ چند منٹوں کی فون کالز کے نتیجے میں محمد یوسف’ غلام محی الدین’ اجمل ملک ‘ قدیر سکندر’ مرزا جاوید‘ راشد علی‘ رانا انجم اعلیٰ’ یونس چوہدری’ رانا امجد’ معراج خالد 25′ 30دوسرے ساتھی پریس کلب پہنچ گئے۔ موقع پر ہی احتجاج کا فیصلہ ہوا اور پریس کلب کے گیٹ کے سامنے پولیس کے نرغے میں ہی احتجاج شروع کردیا گیا۔ احتجاج کے ساتھ ہی سڑک بلاک ہوئی اور اوپر تک بات گئی تو سٹی ڈسٹرکٹ ناظم’ ڈی سی او’ سی پی او لائن پر آگئے۔ یہ ہماری کامیابی تھی کہ شام تک پریس کلب پولیس سے خالی ہو چکا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ لاہور’ کراچی ‘اسلام آباد’ ملتان’ پشاور’ کوئٹہ’ بہاولپور سمیت ملک بھر کے اہم پریس کلب کئی کئی روز بند رہے۔ تاریخ کی یہ بھی گواہی ریکارڈ پر موجود ہے کہ مشرف کی آمریت کے خلاف پانچ نومبر کو ملک بھر میں پہلا احتجاج فیصل آباد پریس کلب میں فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے کیاتھا۔ پریس کلب میں روزانہ احتجاج کرنا معمول بنا لیا تھا۔ دس نومبر کو احتجاجی مظاہرہ پولیس کو چکمہ دے کر پریس کلب سے باہر نکالا گیا اوراسے ریلی کی شکل دیدی گئی( یہ ایک الگ سے پوری کہانی ہے کہ کیسے پولیس کو چکمہ دیا گیا اور مکمل پابندی اور پہرے کے باوجود مظاہرین کو کلب سے نکال کر چند سو میٹر کی ریلی نکال لی۔ جب تک پولیس سنبھلی ریلی واپس کلب پہنچ چکی تھی)۔ جمہوریت کے تمام چیمپئن اس وقت لمبی تان کر سو رہے تھے۔چوہدری شیر علی’ رانا ثناء اللہ’ عابد شیر علی’ رانا افضل’ میاں منان’ راجہ ریاض’ خواجہ اسلام’ رانا فاروق سعید ‘ سعید اقبال’ رانا آفتاب ‘ راجہ صفدر’ مہر عبدالرشید’ سمیت جمہوریت کے کسی چیمپئن کو احتجاج کی ہمت نہ تھی۔ پی پی پی اور ن لیگ کے قائدین گھروں سے نکلتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ امینہ زمان’ نورالنساء ملک’ ریاض شاہد ‘ عارف ایازبس یہی چند نام تھے جو مشرف کیخلاف احتجاج میں شامل ہوتے اور سول سوسائٹی اور سیاستدانوں کی نمائندگی کرتے تھے۔بیس نومبر کو پہلی بار فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے احتجاج میں سابق ایم این اے رانا افضل اور سابق ایم پی اے خواجہ اسلام احتجاج میں شامل ہوئے۔ ان کی دیکھا دیکھی اکیس نومبر کو رانا افضل اور خواجہ اسلام کے علاوہ رانا ثناء اللہ اور متعدد دیگر لیگی” لیڈر” اور پی پی پی کے جیالے احتجاج میں آگئے۔ احتجاج میں سیاسی شخصیات آئیں تو پولیس نے پریس کلب کو گھیرے میں لے لیا۔ مطالبہ ایک ہی تھا کہ تمام سیاسی شخصیات کی گرفتاری۔ پولیس کو دیکھ کر سیاسی شخصیات دم دبا کر بھاگ گئیں۔ پریس کلب کی عقبی پچھلی دیوار کو پھلانگ کر سب بھاگ گئے۔ پولیس اندر آئی تو ایک بھی سیاسی شخصیت احتجاج کے میدان میں نہیں تھی۔ پولیس یہی سمجھ رہی تھی کہ سب کو اندر کمروں میں چھپا لیا گیا ہے۔ پولیس کلب کی تلاشی لینے اورکونوں کھدروں میں چھپے سیاستدانوں کو گرفتار کرنے کی خواہاں تھی۔ صحافیوں کا ایک ہی مؤقف تھا کہ کلب میں پولیس نہیں آئے گی کلب کے باہر سے جس کو چاہیں گرفتار کرلیں۔ پولیس آمریت کے اعلیٰ کل پرزوں سے اختیارات لے کر آئی تھی۔ لاٹھی چارج کے بعد آنسو گیس بھی ہوا۔ پریس کلب کے اندر کئی گھنٹے تک میدان کارزار جما رہا۔ درجن بھر صحافی شدید زخمی ہوئے۔19صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ کلب کی مکمل تلاشی ہوئی مگر وہاں جمہوریت کا چیمپئن کوئی سیاستدان ہوتا تو پولیس کو ملتا۔ جمہوریت کے تمام چیمپئن تو پولیس کے آتے ہی عقبی دیواریں پھلانگ کر میدان سے بھاگ چکے تھے۔پولیس گرفتار کرنے والوں کو لے کر نامعلوم مقام پر جا چکی تھی ۔ گرفتار ہونے والوں میں صرف ایک سیاستدان تھے اور وہ تھے سابق وزیر مملکت رانا افضل ۔ہم اپنے منتشر ساتھیوں کو اکٹھا کرکے فوری تھانہ سول لائن اور تھانہ ریل بازار پہنچے مگر وہاں صرف چھے ‘سات ساتھی تھے۔ باقی کہاں بند کئے ہیں اس کا جواب پولیس کے پاس بھی نہیں تھا۔ ایک مرتبہ پھر احتجاج کرنا پڑا اور اس دفعہ احتجاج تھانہ ریل بازار کے باہر تھا۔ سٹی ڈسٹرکٹ ناظم ‘ ڈی سی او ‘ سی پی او کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ تینوں مذاکرات کے دوران بار بار کہاں سے ہدایات لیستے رہے اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں تاہم ہمارے ساتھی شام تک رہا ہو گئے ۔ جو تھانے میں تھے وہ بھی مل گئے اور جو نامعلوم تھے وہ بھی پولیس سے ہی مل گئے ۔پولیس رانا افضل کو رہا نہیں کرنا چاہتی تھی مگر ہمیں یہ بھی گوارہ نہیں تھا کہ ہمارے احتجاج سے گرفتار کوئی بھی بندہ گرفتار رہے۔ (ہمارا سیدھا مطالبہ تھا کہ چونکہ وہ ہمارے احتجاج میں شامل تھے اس لئے ابھی رہا کریں پولیس نے گرفتار کرنا ہے تو خود کارروائی کرکے کسی دوسری جگہ سے دوبارہ پکڑ لے)۔ آخر کار انہیں بھی ساتھ لے کر آئے۔

فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کی تحریک کے سترہ روز اور لاٹھی چارج و آنسو گیس کی تواضع۔ گرفتار شدگان کی چند گھنٹوں میں رہائی سے حوصلہ پکڑتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بائیس نومبر کو وکلاء اور ڈسٹرکٹ بار کی انتظامیہ پہلی بار کچہری آئی اور دو ہفتوں سے بند پڑی ڈسٹرکٹ بار کو کھلوایا ۔ دو ہفتوں کی نگرانی کے بعد پولیس بھی پہرہ دے دے کر اکتا چکی تھی۔ اس ایک انٹری کے بعد جمہوریت کے تمام چیمپئن دوبارہ چھپ گئے اور چھپ کر حالات ٹھیک ہونے کا انتظار کرنے لگے ۔ مگر فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے بائیس نومبر کو دوبارہ پریس کلب میں احتجاج کیا۔ اس دن ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد کے عہدیدار اور وکلاء کی بڑی تعداد ہمارے احتجاج میں شامل ہوئی۔ ایمرجنسی کے اختتام تک یہ احتجاج بلاناغہ جاری رہی مگر ایک انٹری کے علاوہ جمہوریت کے کسی چیمپئن نے دوبارہ مشرف کیخلاف احتجاج میں شامل ہونے کی جرأت نہ کی۔

Related posts