فیصل آباد میں سینکڑوں جعلی تھانیدارتھانوں میں تعینات ہونے کا انکشاف


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد میں سینکڑوں جعلی تھانیدار تھانوں میں تعینات ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ خودساختہ تھانیدار تھانوں میں سرکاری امور سرانجام دیتے اور تھانیداروں کی طرح تفتیش و انکوائریاں کرتے ‘ چالان تیار کرتے ‘ مثل کی ضمنیاں بھرتے اور پارٹیاں ڈیل کرتے ہیں۔ اصلی اور ’’وڈے‘‘ تھانیداروں کے حصے کے نذرانے اور جرائم پیشہ عناصر کیساتھ ڈیل بھی انہی جعلی تھانیداروں کے توسط سے کی جاتی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے 41تھانوں اور درجن بھر سی آئی اے سنٹرز میں سینکڑوں پرائیویٹ افراد کے ’’تھانیدار‘‘ بن کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ہر تھانے کے تفتیشی حصے میں جعلی تھانیدار تفتیشی عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ مقدمات کی تفتیش کرتے ہیں‘ ضمنیاں مرتب کرتے اور چالان تیار کرتے ہیں۔ ایس ایچ اوز کے کارخاص کا بھی عوام میں تعارف ’’تھانیدار‘‘ کا ہی ہوتا ہے۔ تھانے کے تفتیشی حصے میں خدمات سرانجام دینے والے تھانیدار کی آفیشل نشست استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ٹیبل کرسی اور سٹیشنری بھی میسر ہوتی ہے جبکہ تھانے کا سرکاری ریکارڈ بھی ان کے ہی قبضے میں ہوتا ہے۔اصلی تھانیداروں ‘ انچارج تفتیشی اور ایس ایچ اوز کے نام پر نذرانے بھی یہی جعلی تھانیدار وصول کرتے ہیں اور حصہ بقدر جثہ اپنے لئے بھی رکھ لیتے ہیں۔عام آدمی کیلئے تھانے تک میں خدمات سرانجام دینے والے جعلی تھانیداروں اور اصلی تھانیداروں میں تمیز کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا تھانے میں اصلی سے زیادہ جعلی تھانیدار متحرک ہوتا ہے ‘ تھانے کے منشی اور فرنٹ ڈیسک سمیت تمام افراد کیساتھ جعلی تھانیدار کی ڈیلنگ ایسے ہی ہوتی ہے جیسا اصلی اور وڈا تھانیدار وہ ہی ہے۔ ایس ایچ اوز ‘ ایس ڈی پی اوز‘ ایس پیز ‘ سی پی اواور آر پی او تک ان جعلی تھانیداروں کی تھانوں میں موجودگی اور کردار سے آگاہ ہیں مگر کبھی کبھار میٹنگ میں ان کا کردار محدود کرنے کی ہدائت کرنے کے علاوہ کوئی آفیسر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ضروری نہیں سمجھتا کیوں ان کے بل بوتے پرتھانوں کا 80فیصد نظام چل رہا ہے اور انہیں ہٹانے سے تھانوں کی کارکردگی کا پہاڑ دھڑام سے نیچے آگرے گا۔اور تھانیداروں کی آمدنی کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا احتما ل ہے ۔

Related posts