فیصل آباد میں لگے تمام اشتہاری بورڈ غیرقانونی‘ کروڑوں کی کرپشن


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد میں لگے تمام جہازی سائز اشتہاری بورڈز غیرقانونی ہیں ۔ کوئی ایک بھی بورڈ پی ایچ اے کے اپنے قوانین اور قواعد کے مطابق درست نہیں ہے۔ صورتحال کا علم ہونے کے باوجود پی ایچ اے کے ڈی جی آصف چوہدری ‘ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اور دیگر حکام ان کیخلاف کارروائی کیلئے تیار نہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں ساڑھے سات سو زائد جہازی سائز اشتہاری بورڈز لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پی ایچ اے رولز کے مطابق درست نہیں ہے۔ خود پی ایچ اے کی رپورٹس ثابت کرتی ہیں کہ اشتہاری بورڈز غیرقانونی لگائے گئے ہیں اور انہیں لگانے والوں نے قانون سے کھلواڑ کیا ہے جبکہ انہیں لگوانے والوں نے بھاری نذرانے لے کر ان کی اجازت دی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق شہر میں غیرقانونی جہازی سائز اشتہاری بورڈز لگانے کا معاملے طویل عرصے سے چل رہا ہے۔
پی ایچ اے سے قبل بھی شہر میں لگنے والے جہازی سائز تمام بورڈز غیرقانونی تھے جبکہ 2015میں پی ایچ اے کو اختیار ملنے کے بعد بھی کوئی ایک بھی بورڈ قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ پی ایچ قواعد کی رو سے غیر قانونی بورڈ ایک دن بھی نہیں لگا رہ سکتا اور اس کٰخلاف فوری کارروائی یقینی بنانا ڈائریکٹر مارکیٹنگ اور ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے کی ذمہ داری ہے مگر وہ ازخود ان غیرقانونی بورڈ کیخلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق غیرقانونی ہورڈنگز ‘ سکائی سائن‘ وال سائن‘ نیون سائن ‘ موپیز کیخلاف درجنوں شکایات اور تحریری درخواستیں ملنے کے باوجود ڈی جی پی ایچ اے آصف چوہدری‘ ڈائریکٹر مارکیٹنگ رانا غلام دستگیرکارروائی سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابق ڈائریکٹر مارکیٹنگ پی ایچ اے محمد سرور کیخلاف غیرقانونی بورڈز لگوانے کے معاملے میں لاکھوں روپے رشوت لینے کی درخواست انٹی کرپشن میں زیر سماعت رہی جس کے مدعی کی اچانک وفات کی وجہ سے معاملہ دب گیا۔ اشتہاری بورڈز کے ایک سپیشل آڈٹ میں کروڑوں روپے کا ہیر پھیر ثابت ہو چکا ہے مگر کسی نے ایکشن لینے کی جرأت نہ کی۔ نیوزلائن کے مطابق اربوں روپے کی ہیرا پھیری کے اس معاملے میں کئی سابق ڈی سی او اور متعدد ڈسٹرکٹ آفیسر سپیشل پلاننگ اور ای ڈی او میونسپل سروسز ملوث پائے جاتے ہیں۔ سابق ڈی جی پی ایچ اے یاور حسین اور سابق ڈائریکٹر مارکیٹنگ پی ایچ اے طارق نیازی بھی اس معاملے میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس بارے متعدد انکوائریاں ہو چکیں اور معاملہ کئی فورمز پر زیر سماعت ہونے کے باوجود حتمی کارروائی کسی نے نہ کی۔ ذرائع کے مطابق پی ایچ اے کے سابقہ قواعد مبہم اور بورڈ اتارنے کے حوالے سے اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے انسدادی کارروائی کرنے میں پی ایچ اے حکام کا بہانہ تھا مگر نئے قواعد میں اس حوالے سے اختیارات ملنے اور قواعد بالکل واضح ہونے کے باوجود پی ایچ اے حکام نے کسی ایک بھی غیرقانونی اشتہاری بورڈ کیخلاف کارروائی نہیں کی۔

Related posts