فیصل آباد کی صحافت:میڈیا مالکان کے ہاتھوں یرغمال


فیصل آباد(ندیم شہزاد)ملک کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی صحافت کو میڈیا مالکان نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ صحافت کو مقدس پیشے کی بجائے لوٹ مار اور ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کرنے کا وطیرہ ہے۔ چند ایک کے سوا تمام اخبارات اور ٹی وی چینل اسی ڈگر پر چل رہے ہیں اور صحافت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں صحافت کے نام پر لوٹ مار کے لائسنس جاری کرنے کا سلسلہ عروج پر پہنچا ہوا ہے۔چند کے ناموں کے سوا کوئی اخبار اور ٹی وی چینل اپنے ورکرز کو تنخواہ اور مراعات نہیں دے رہا۔ روزنامہ خبریں‘ روزنامہ پاکستان‘ روزنامہ جنگ‘ روزنامہ ایکسپریس‘ روزنامہ دنیا‘ روزنامہ دنیا ‘ روزنامہ 92نیوز‘شہر میں تو اپنے ورکرز کوکسی حد تک تنخواہ دے رہے ہیں مگر مضافات میں اس کے ورکرز کا بھی وہی حال ہے جو ان کے علاوہ دیگر اخبارات کے نمائندوں کا فیصل آباد شہر اور مضافات میں ہے۔ انہیں تنخواہ ملتی ہے اور نہ کوئی دوسرا حق دیا جاتا ہے۔ لوٹ مار کرکے اپنی کھا لو ہماری دفتر بھیج دو کا سلسلہ عروج پر پہنچا ہوا ہے۔فیصل آباد کی حد تک دیکھا جائے تو ایک دہائی قبل تک تمام اخبارات اسی ڈگر پر تھے مگرملک کے چوٹی کے بزنس مین سلطان لاکھانی نے روزنامہ ایکسپریس کو فیصل آباد سے شائع کرکے فیصل آباد میں تبدیلی کی بنیاد رکھی ۔پیسے کی بجائے ایکسپریس نے قاری اور خبر کے رشتے کو مضبوط کیا۔ یہ فیصل آباد کے پیسے کی دوڑ میں لگے صحافتی سماج میں بڑی تبدیلی تھی ۔ایکسپریس سے پہلے فیصل آباد کے اخباری نمائندگان خبر کی بجائے اشتہارات اور مالکان کی روٹی روزی کا انتظام کرنے میں سرگرداں رہتے تھے مگر سلطان لاکھانی نے ایکسپریس لانچ کرکے صحافی کے خبر کے پیچھے سرگرداں ہونے کی روائت ڈال دی۔ تبدیلی آئی ضرور مگر مختصر عرصے کیلئے۔اور پھرفیصل آباد کے صحافتی سماج کا پرانارنگ ایکسپریس پربھی غالب آگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایکسپریس کی پالیسیوں میں بھی تبدیلی آتی گئی اور خبر اور قاری کی بجائے پیسہ ۔پیسہ اور بس پیسہ اس کا موٹو بن گیا۔ روزنامہ خبریں نے بیوروز کی فروخت کا سلسلہ شروع کیا اور ابھی تک تمام اخبارات اسی سیلاب میں بہتے جا رہے ہیں۔ شائد ہی کوئی اخبار ایسا ہو جو بیورو فروخت کرنے میں ملوث نہ ہو۔ اخباری مالکان اپنے ذاتی مفادات کیلئے فیصل آباد کی صحافت اور صحافتی نیک نامی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ صرف اخبارات ہی کیا ٹی وی چینل نے تو اس سلسلے کو دوام بخش دیا ہے اور لوٹ مار کے لائسنس تھما دئیے ہیں۔جیو نیوز‘ ایکسپریس نیوز‘ سماء نیوز‘ دنیا نیوز‘ بول نیوز‘ 92نیوز‘ اے آر وائی نیوز ‘ آج نیوز‘ نیو ٹی وی اور پھر بس۔ان کے علاوہ کوئی ٹی وی چینل فیصل آباد میں اپنے ورکر کو تنخواہ نہیں دیتا۔ فیصل آباد کے مضافاتی علاقوں میں جیو نیوز‘ ایکسپریس نیوز‘ سماء نیوز‘ دنیا نیوز‘ بول نیوز‘ 92نیوز‘ اے آر وائی نیوز ‘ آج نیوز‘ نیو ٹی وی کے حالات بھی ابتر ہیں۔ نمائندے ہر چھوٹے بڑے علاقے میں رکھے ہوئے ہیں مگر تنخواہ نہیں دی جاتی۔ میڈیا مالکان تنخواہ تو دیتے نہیں مگر کام پورا لیا جاتا ہے۔اب پیسے کے بغیر تو کسی کا گھر چلتا نہیں ہے۔ میڈیا مالکان کام کے باوجود تنخواہ نہیں دیتے تو ورکر نے کہیں سے تو اپنا گھر چلانا ہے۔ بغیر تنخواہ کے کام کرنے والے کہاں سے مال بناتے ہیں یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ان نمائندوں میں درجنوں نہیں سینکڑوں ایسے ہیں جو باعزت روزگار چاہتے ہیں مگر میڈیا مالکان کی مجرمانہ سوچ اس سب کے بیچ حائل ہے۔ زرد صحافت کا ذمہ دار سب سے زیادہ میڈیا مالک ہے ۔ جو تنخواہ کے بغیر کام لیتا ہے اور ہاتھ میں مائیک کا ہتھیار تھما کر کہتا ہے جا اپنی کھا آ اور میرے لئے لیتا آ۔

Related posts