فیصل آباد کی 21سڑکوں کی تعمیر میں ناقص تارکول کا استعمال



فیصل آباد(نیوزلائن)ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سڑکوں کے 21منصوبوں میں ٹیسٹنگ کے بغیر تارکول کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے اور ناقص تعمیر کے باعث پونے دوسال کے قلیل عرصہ میں کارپٹ کی گئی سڑکیں پھٹ چکی ہیں اور گاڑیوں کی روانی میں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں محکمہ مواصلات وتعمیرات کی گائیڈ لائینز اور مراسلہ نمبریPA/SECY(C&W)بتاریخ 25/09/2009کے تحت روڈ کنٹرکشن ‘مرمت ودیکھ بھال اور تعمیر میں استعمال ہونیوالی تارکول(لک) روڈ ریسرچ اینڈ میٹریل ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ سے تصدیق شدہ اور ٹیسٹ شدہ ہونی چاہیے لیکن سابق دفتر ڈسٹرکٹ آفیسر کی جانب سے سرگودھا روڈ‘ستیانہ روڈ‘جھنگ روڈ‘سمندری روڈ‘نڑوالا روڈ‘ملت روڈ اور شیخوپورہ روڈ پر سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے دوران استعمال ہونے والی تارکول کی ٹیسٹنگ مذکورہ لیبارٹری سے نہ کروائی گئی۔ ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سڑکوں کی تعمیر میں مقامی گھٹیا سٹینڈرڈ کی حامل فرموں سے پروکیورمنٹ کی گئی جوکہ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف سٹیٹ ہائی وے اور ٹرانسپورٹیشن ایسوسی ایشن کے مقررہ سٹینڈرڈ پر پورا نہ اترتی تھیں محکمہ ہذا ٹیسٹنگ کے بغیر قانونی طریقے سے 9کروڑ 41 لاکھ اور69ہزار روپے مالیت کی تارکول خریدی جوکہ 2017میں پہلی بارش کے ساتھ ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی۔

Related posts