فیصل آباد کے تھانوں کی بوگس انسپکشن: جعلی رپورٹس کا انکشاف


فیصل آباد( عاطف چوہدری)فیصل آباد ریجن کے اعلیٰ پولیس افسران کی طرف سے تھانوں کی بوگس انسپکشن کرنے اور جعلی رپورٹس بنا کر آئی جی پنجاب کو بھجوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بوگس انسپکشن میں ایس پی ‘ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی سطح کے افسران کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔نیوزلائن کے مطابق پولیس افسران کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ تھانوں کی ان فارمل اور فارمل انسپکشن (ملاحظہ و سرسری ملاحظہ ) کرتے رہیں اور اس کی رپورٹس آئی جی آفس کو بھجوائیں ۔ فیصل آباد ریجن میں طویل عرصہ سے افسران کی بہت بڑی تعداد کے تھانوں کی انسپکشن نہ کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد ریجن کے اضلاع فیصل آباد ‘ جھنگ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ میں اعلیٰ افسران تھانوں کی انسپکشن کرتے ہی نہیں ہیں۔ طویل عرصہ سے افسران نے تھانوں کی انسپکشن نہیں کی۔ نیوزلائن کے مطابق سابق سی پی او فیصل آباد افضال کوثر تھانوں کی انسپکشن کرتے رہتے تھے اور ریکارڈ کا خود جائزہ لیتے اور معاملات کی جانچ پڑتال کرتے تھے۔ ان کے بعد آنیوالے سی پی او فیصل آباداطہر اسماعیل نے صرف انسپکشن ہی نہیں بہت سے انتظامی اور مانیٹرنگ معاملات کو فراموش کئے رکھا۔ ان کے دور میں سی پی او کے اختیارات بھی آر پی او بلال صدیق کمیانہ استعمال کرتے رہے۔ بلال صدیق کمیانہ اور اطہر اسماعیل میں اختیارات کی جنگ عروج پر رہی ۔ تاہم بلال صدیق کمیانہ بھی تھانوں کی گاہے بگاہے انسپکشن کرتے رہتے تھے۔ موجودہ سی پی او فیصل آباد اشفاق خان نے ابھی تک کسی ایک تھانے کی بھی انسپکشن عملی طور پر نہیں کی۔ ان کے علاوہ موجودہ آر پی او غلام محمود ڈوگر ‘ ایس ایس پی آپریشن حیدر سلطان اور دیگر افسران بھی تھانوں کی انسپکشن سے دور ہی رہتے ہیں۔ ڈی پی او جھنگ شاکر داوڑ ‘ ڈی پی او چنیوٹ عبادت نثار ‘ ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اور دیگراعلیٰ افسران بھی لازمی قرار دئیے جانے کے باوجود انسپکشن نہیں کرتے ۔ ذرائع کے مطابق عملی طور پر تو افسران تھانوں کی انسپکشن نہیں کرتے مگر ریکارڈ میں ہر تھانے کی ماہانہ انسپکشن رپورٹ جمع کروائی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بہت بڑی تعداد میں انسپکشن رپورٹس بوگس تیار کی جاتی ہیں۔ تھانوں کے’’نکے منشی‘‘ کی تیار کی گئی رپورٹوں کو ایس ایچ اوز اعلیٰ افسران کو بھجوا دیتے ہیں اور انہی کو اعلیٰ افسران اپنی رپورٹ بنا کر آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھجوا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ پولیس افسران بہت بڑی تعداد میں انسپکشن رپورٹس بغیر عملی انسپکشن کے تیار کروا کر بھجوا دیتے ہیں۔ بہت سے افسران دستخط کرنے سے قبل رپورٹس پڑھنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے ۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ پولیس افسران ماہانہ انسپکشن رپورٹس بھی بوگس ہی تیار کرکے بھجوادیتے ہیں جو معاملات میں سدھار کی بجائے مزید خرابی کا باعث بن رہا ہے۔

Related posts