فیصل آباد کے سرمایہ دار بھی پی ٹی آئی کے احتساب پروگرام سے خوفزدہ


فیصل آباد (احمد یٰسین ) پی ٹی آئی کے احتساب پروگرام سے فیصل آباد کے سرمایہ دار بھی خوفزدہ ہیں۔ معاشی ترقی پر اثرات کو بہانہ بنا کر حکومت سے احتساب مشن بند کرنے ‘ ٹیکس چوری کیخلاف اقدامات روکنے اور سرمایہ دار ٹولے و سیاستدانوں کی لوٹ مار کے سامنے بندھ باندھنے کا سلسلہ ٹھپ کردنے کا مطالبہ کیا جانے لگا ۔ فیصل آباد کے ایک مقامی اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں فیصل آباد کے سرمایہ دار ٹولے کے نمائندے اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں محمد ادریس نے اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور حکومت سے احتساب پروگرام بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے حکومت احتساب کے نام پر خوف وہراس پھیلانے کی بجائے معیشت کی مضبوطی پر فوکس کرے معاشی استحکام کے بعد جوڈیشل سسٹم کی اصلاح کی جائے اور پھر تیسرے نمبر پر کرپشن کے خاتمہ اور کرپٹ افراد کے محاسبہ کی ٹھوس پالیسی مرتب کی جائے۔ ایک طرف تو میاں ادریس حکومت کی خوشامد کے چکر میں اس کی سمت کو درست بھی قرار دیتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی حیلوں بہانوں سے احتساب پروگرام کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کی سمت درست نظر آرہی ہے مگر ناتجربہ کاری کے باعث مایوسی پھیل رہی ہے محکمانہ کارروائیوں اور خوف وہراس کی بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں کرپٹ اور کاروباری افراد میں فرق رکھنا ہوگا کاروباری افراد ہی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں مگر تمام محکمے انہی کے پیچھے چھری لیکر پڑ جاتے ہیں۔

فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ملز مالکان16ارب کی ٹیکس چوری میں ملوث

کرپٹ سرکاری افسران اور کاروباری افراد میں فرق کا مطالبہ کرتے ہوئے میاں ادریس فیصل آباد کے ایک معروف صنعتکار کی جانب سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور فیصل آباد کے معروف صنعتی گروپ ’’ستارہ گروپ‘‘ اور ’’چناب لمیتڈ‘‘ کی کروڑوں روپے کی ٹیکس چوریاں اور پنجاب بیوریج ‘ چن ون سمیت درجنوں صنعتی اداروں کے مالکان کے کرپشن اور لوٹ مار کی داستانوں اور العزیز ریسٹورنٹ و مسعود ٹیکسٹائل جیسے اداروں کی کروڑوں روپے کی گیس چوری کے معاملے کو بھی پس پشت ڈالنے کی حمائت کردیتے ہیں۔ ساتھ میں ہی میاں ادریس ماضی میں صنعتکاروں اور ایکسپورٹرز کو حکومت سے ملنے والی مراعات کا حساب لینے کا سلسلہ روک کر مزید مراعات کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ گیس اور بجلی کے ملنے والے ریلیف سے آئندہ دوتین سالوں میں ایکسپورٹ40 ارب ڈالر تک جانی چاہیے اگر حکومت صنعتکاروں کے اربوں روپے کے ای فنڈز ہی جاری کردے تو ایکسپورٹ میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے کئی بڑے ایکسپورٹ یونٹ صرف ری فنڈز نہ ملنے سے بند ہوسکے ہیں اگر حکومت بند صنعتی یونٹس کو چالو کردے تو لاکھوں لوگوں کو روزگار دینے کے حکومتی نعرہ کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے 22 ارب روپے سے زائد کا ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کس مرض کی دوا ہے ایکسپورٹ پراسینگ زون اور ہر بڑے شہر کے باہر انڈسٹریل سٹی قائم کی جائے۔

ماضی میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی آنکھ کا تارہ بن کر ستارہ انرجی سمیت متعدد منصوبوں میں مسلم لیگ ن سے غیر ضروری حمائت لینے اور متعدد معاملات میں حکومت کو چیمبر آف کامرس اور دیگر تنظیموں کے ذریعے بلیک میل کرکے ستارہ گروپ کیلئے خصوصی رعائتیں لینے والے میاں محمد ادریس مسلم لیگ ن کی حکومت کیخلاف بھی بولتے پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا مؤقف ہے کہ سابقہ حکومت کی ترجیحات میں ٹیکسٹائل سیکٹر شامل ہی نہیں تھا اسحاق ڈار چور سمجھتے تھے ۔

اربوں روپے کا فراڈ:چن ون گروپ کیخلاف نیب تحقیقات شروع

فیصل آباد کے لاکھوں مزدوروں کے حقوق غصب کرنے والے صنعتکاروں کو چیمبر آف کامرس کی چھتری تلے تحفظ فراہم کرنے والے میاں ادریس محنت کشوں کو ان کے حقوق دینے کی بات کرنے کی بجائے معاملے کو دوسرا ہی رنگ دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنر مند لیبر سے بھی معیشت کی مضبوطی کے ٹارگٹ حاصل کئے جاسکتے ہیں کپڑے کی طرح انسان کی فنشنگ ہونے سے بہت شاندار رزلٹ حاصل ہوسکتے ہیں ہر ضلع میں میڈیکل اور مینجمنٹ اینڈ سائنس وٹیکنالوجی کی یونیورسٹیز قائم کی جائیں ۔ مسلم لیگ ن سے غیر قانونی انداز میں فیسکو خریدنے کی کوششیں کرنے والے اب قومی ائیر لائن کی نجکاری کی بات بھی کرتے پوئے جاتے ہیں شائد ڈھکے چھپے انداز میں وہ فیسکو خریدنے کی ہی بات کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے سمیت خسارے میں جانے والے تمام اداروں کو پرائیوٹائز کردینا چاہیے ۔

ایمنسٹی سکیم : 55ہزارٹیکس چور ’’اپناکالادھن‘‘ سفید کرچکے

Related posts