فیصل آباد کے سیاستدانوں کا نئی حلقہ بندیوں پر اظہار اطمینان


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کے سیاستدانوں نے نئی حلقہ بندیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ضلع کے 31حلقوں میں صرف چار اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ ن ‘ پیپلز پارٹی ‘ تحریک انصاف سمیت کسی پارٹی کے مقامی رہنما نے فیصل آباد ضلع کی حلقہ بندیوں پر اعتراضات نہیں کئے۔ چار اعتراضات بھی غیرمعروف افراد نے کئے ہیں اور یہ اعتراضات بھی الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق نہیں ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے سیاسی رہنما میڈیا میں تو حلقہ بندیوں پر معترض ہیں مگر الیکشن کمیشن میں تمام بڑی جماعتوں کے رہنماؤں میں سے کسی ایک پارٹی کے رہنما نے بھی اعتراض داخل نہیں کیا۔ فیصل آباد شہر کے چار قومی اورنو صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں صرف ایک اعتراض آیا اور وہ بھی ایک غیرمعروف خاتون معمونہ حسین نے پی پی 115پر کیا ہے ۔ خاتون نے قواعد کے مطابق الیکشن کمیشن کا نقشہ لے کر اس میں حلقہ بندیاں کرکے جمع کروانے کی بجائے گوگل کے نقشے میں سیدھی لکیریں کھینچ کر نئے حلقے کی نشاندہی کی ہے۔جو کہ الیکشن کمیشن کے قواعد کے منافی ہے۔ ایک اعتراض این اے 103‘ این اے 104اور این اے 105پر کیا گیا ہے۔یہ اعتراض بھی ایک غیر معروف شخص غلام قادر کی طرف سے کیا گیا ہے۔اس اعتراض میں حلقے کے سیدھا کرنے کی بجائے این اے 105میں مرضی کے علاقے شامل کرنے پر فوکس رکھا گیا ہے۔ ضلع کے دیگر حلقوں بارے بھی مکمل تجاویز نہیں دی گئیں۔ ماہرین اس اعتراض کوقواعد کے مطابق قرار نہیں دے رہے۔ دو اعتراضات پی پی 102اور پی پی 103پر کئے گئے ہیں اس میں پی پی102میں مرضی کے علاقے شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اس اعتراض میں بھی دیگر حلقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ الیکشن ماہرین اس اعتراض کو بھی درست قرار نہیں دے رہے۔تاہم الیکشن کمیشن نے اعتراضات کرنے والوں کو سماعت کیلئے طلب کرلیا ہے۔

Related posts