فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ملز مالکان16ارب کی ٹیکس چوری میں ملوث

فیصل آباد (ندیم جاوید) فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ملزم مالکان سولہ ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری میں ملوث نکلے۔ ٹیکس چوری ایف بی آر کی کسی کارروائی میں سامنے نہیں بلکہ خود ٹیکسٹائل ملز کی جمع کروائی گئی ریٹرنز کے جائزے میں ہی چوری سامنے آگئی ہے۔ بااثر صنعتکار ٹیکس چوری کا اعتراف کرنے اور قومی خزانے کو پہنچائے جانے والے نقصان کو پورا کرنے کی بجائے ایف بی آر حکام کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کی ٹیکسٹائل ملوں نے زیروریٹ سیلز ٹیکس کے چکر میں بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرکے مقامی مارکیٹوں میں فروخت کردی ہے۔ خود ٹیکسٹائل سیکٹر کی فیکٹریوں کی جمع کروائی گئی ریٹرنز میں انکشاف ہوا ہے کہ فیصل آباد ٹیکسائل ملز نے مالی سال 2015-16میںایک کھرب ساٹھ ارب روپے سے زائد کی ٹیکسٹائل مصنوعات مقامی مارکیٹ میں نان فائلرز کو فروخت کیں۔ مالی سال 2016-17میں یہ حجم بڑھ کر ایک کھرب 76ارب ہو گیا۔ یہ اعدادو شمار ایف بی آر نے کسی دوسرے ذریعے سے حاصل نہیں کئے بلکہ خود ٹیکسٹائل ملز کی جمع کروائی گئی ریٹرنز میں سامنے آئے ہیں۔ مقامی مارکیٹ میں فروخت کی گئی اشیاء پر بھی صنعتکاروں نے ٹیکس ادا نہ کیا۔ جو ایف بی آر کے قوانین کی رو سے 16ارب روپے سے بھی زائد بنتا ہے۔ ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس آفس فیصل آباد نے اس چوری کے پکڑے جانے پر ٹیکس چوری میں ملوث بڑے صنعتی یونٹوں کے خلاف ایکشن شروع کیا تو صنعتی تنظیمیں احتجاج و ہڑتال کا اعلان کرکے بلیک میلنگ پر اتر آئیں۔ معاملہ وفاقی حکومت تک گیا۔ ٹیکس چوری کا علم ہونے پر صنعتکاروں کو اسلام آباد میں بھی منہ کی کھانی پڑی تاہم حکومت نے سیاسی حالات کے پیش نظر صنعتکاروں کو خود احتسابی کا موقع دیا اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادائیگی کا موقع دیا ۔ مگر مہلت گزرنے کے باوجود صنعتکاروںنے اس میں سے ایک پائی بھی جمع نہیں کروائی اور آئیں بائیں شائیں کرکے ایف بی آر حکام کو ٹال رہے ہیں۔

Related posts