فیصل آباد کے 473 سکول صفحہ ہستی سے غائبٗ زمینوں پر قبضہ


فیصل آباد(احمد یٰسین)فیصل آباد کے 473سکول صفحہ ہستی سے ہی غائب کر دئے گئے۔ زمین پر ان کا وجود ہے اور نہ فائلوں میں ہی ان کے وجود بارے کوئی ریکارڈ مل رہا ہے۔ پراسرار موت کا شکار کئے جانے والے ان سکولوں میں سے متعدد کی ملکیتی اراضی کو مال مفت سمجھ کر مافیاز نے قبضہ جما لیا ہے۔سکولوں کی کئی بے نامی اراضی پر مافیاز آنکھیں لگائے بیٹھے ہیں اور مستقبل قریب میں اس پر بھی قبضہ جمانے کے تیاریاں کئے بیٹھے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق محکمہ تعلیم کے حکام کی ملی بھگت سے فیصل آباد کے 473سکول صفحہ ہستی سے ہی غائب ہو چکے ہیں۔ ان سکولوں کا زمین پر کوئی نام و نشان ملتا ہے نہ فائلوں میں ان کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔پراسرار طور غائب ہونے والے یہ سکول‘ انضمام کے نام پر موت سے ہمکنار کئے گئے سکولوں کے علاوہ ہیں۔ ان سکولوں کی موت کا سبب موجود ہے اور نہ ہی ’’باقیات‘‘ کے نشان ہی کہیں پائے جا رہے ہیں۔ پراسرار انداز میں صفحہ ہستی سے غائب کئے جانے کا ریکارڈ بھی ’’اعلیٰ‘‘ افسروں کی فائلوں میں دفن اور ماضی کا گم گشتہ راز بن چکا ہے۔اب یہ فائلیں بھی ڈھونڈے نہیں مل رہیں۔

نیوزلائن کے مطابق محکمہ تعلیم کے حکام نے ملی بھگت سے ان سکولوں میں کلاسز بند کروائیں اور اساتذہ و نگران عملے کو ہٹایا جس کے بعد مافیاز کو ان سکولوں کی اراضی پر قبضے جمانے کے مواقع فراہم کئے گئے۔ پراسرار طور پر غائب ہونے والے سکولوں کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے اور نہ ہی ان کو ای ایم آئی کوڈ لگایا گیا تا کہ مستقبل میں بھی کوئی ان کا نام و نشان نہ پاسکے۔ اراضی قبضہ مافیا کی سرپرستی میں ہونیوالے اس گھناؤنے عمل میں محکمہ تعلیم کے بڑے بڑے نام ملوث ہیں جبکہ فیصل آباد کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات کے نام بھی اس میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق ماضی میں ان سکولوں میں کلاسز بھی ہوتی تھیں اور اساتذہ کرام خدمات بھی سرانجام دیتے تھے۔ان سکولوں کیلئے فنڈز بھی مختص ہوتے رہے ہیں اور طلباء و طالبات کی بہت بڑی تعداد یہاں سے تعلیم حاصل کر کے مختلف محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔ صفحہ ہستی سے غائب کئے جانے سکولوں کی بے نامی زمینوں کے آثار قدیمہ اب بھی کہیں کہیں پائے جاتے ہیں مگر ان پر مافیاز قابض اور یہاں تعلیم و تدریس کی بجائے دیگر مختلف دھندے ہوتے نظر آتے ہیں۔

Related posts