فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کا اخباری مالکان کیخلاف تحریک کا اعلان



فیصل آباد (نیوز لائن) فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے قوانین پامال کرنے اور رجسٹریشن آف پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والے اخباری مالکان کیخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے ۔ ایف یو جے کے صدر طاہر رشید اور جنرل سیکرٹری ندیم جاوید نے نئے سال کیلئے الیکشن نتائج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اخباری مالکان نے غیرقانونی چھانٹیاں کرکے‘ دفاتر کی غیرقانونی تالہ بندی کرکے ورکرز کو بے روزگار کرنے کا غیراخلاقی اور غیرقانونی کام شروع کررکھا ہے یہ صورتحال کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ روزنامہ جنگ ‘روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد‘ روزنامہ دنیا فیصل آباد‘ روزنامہ طاقت فیصل آباد‘ روزنامہ 92نیوز فیصل آباد‘ روزنامہ نئی بات فیصل آباد‘ روزنامہ بزنس رپورٹ‘ روزنامہ پیغام اور دیگر تمام مقامی و قومی اخبارات اور ان کے پرنٹنگ پریس کی طرف سے رجسٹریشن آف پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کی خلاف ورزیوں کو سامنے لایا جائے گا۔ غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کرکے گزشتہ دس برسوں کے دوران سرکاری اور غیرسرکاری اشتہارات کے حوالے سے لوٹ مار کرنے اور سرکولیشن و پرنٹنگ کے حوالے سے تمام غیرقانونی اقدامات کو سامنے لایا جائے گا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ‘ ڈی جی پی آر ‘ پریس رجسٹراراور اے بی سی دفاتر میں چھپی کالی بھیڑوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ اخباری مالکان اور ان سرکاری دفاتر کی کالی بھیڑوں کے کرپشن گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جائے گا۔ فیصل آباد کی آبادی سے چار گنا زائد اخبارات کی سرکولیشن کا دعویٰ کرنیوالوں کے ورکرز دشمن روئیے کو پوری دنیا کے سامنے لائیں گے اور گزشتہ دس سالوں کے دوران کی گئی لوٹ مار کا حساب ان سے لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002اور پیمرا رولز 2007کی خلاف ورزی کرنیوالے ٹی وی چینلز کیخلاف بھی ایف یو جے میدان میں آئے گی۔ میڈیا مالکان اور ا ن کے پروردہ فرعونوں کے ورکرزدشمن روئیہ کا جواب قانون کو متحرک کرکرے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد سے شائع ہونیوالے اخبارات کے مالکان کو ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں انہوں نے چھانٹی کئے گئے تمام ورکرز کو بحال نہ کیا تو ان کی قانون کی خلاف ورزیوں کو پوری دنیا کا سامنے لانے اور ان کیخلاف راست اقدام کرنے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔ میڈیا مالکان کیخلاف تحریک کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ قانون سے کھلواڑ کرنے والے اخباری مالکان کیخلاف نیب‘ ایف آئی اے ‘ سپریم کورٹ سمیت کہیں جانا پڑا تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایف یو جے ورکرز کے حقوق کا تحفظ کرے گی اور میڈیا مالکان کے قانون سے کھلواڑ کو پوری دنیا کے سامنے لاتی رہے گی۔

Related posts