قانون پر عمل درآمد کی بین بجانے والے خود قانون شکنی میں ملوث

فیصل آباد(احمد یٰسین) قانون پر عمل درآمد کی بین بجاکر عوام کے گندگی چلان کرنے والے ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی خود قانون شکنی میں ملوث پائے گئے۔ محکمہ ایکسائز نے ایف ڈبلیو ایم سی کیخلاف قانون شکنی پر کارروائی کی تو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ذمہ داران مزید قانون شکنی پر اتر آئے۔ نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے حوالے سے رپوٹ سامنے آئی ہے کہ وہ قانون شکنی میں ملوث ہے۔ ایک طرف تو ایم ڈی سالڈ ویست مینجمنٹ کمپنی کاشف رضا اعلانات کرتے پائے جارہے ہیں کہ وہ گندگی پھیلانے والوں کیخلاف قانونی کارروائیاں کریں گے ۔ انہوں نے گندگی پھیلانے کے جرم میں شہریوں کے چالان بھی کرنا شروع کردئیے ہیں۔ مگر دوسری جانب ایف ڈبلیو ایم سی کی گاڑیاں بغیر ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کئے قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔کمپنی کے ایم دی کاشف رضا اپنے محکمے کی قانون شکنی سے آگاہ ہونے کے باوجود اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور قانون شکنی کرنیوالے اپنی کمپنی کے کسی ذمہ دار کیخلاف انہوں نے ایکشن نہیں لیا۔ صرف یہی نہیں قانون کی خلاف ورزیوں سے روکنے پر ایف ڈبلیو ایم سی کے ذمہ داران نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کیخلاف راست اقدام کیا۔ ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ کاشف رضا براہ راست اس غیرقانونی راست اقدام میں ملوث پائے گئے ۔ ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنیوالی ایف ڈبلیو ایم سی کی گاڑیوں کیخلاف ایکشن لیا گیا تو ایف ڈبلیو ایم سی کے ذمہ داران نے کوڑا کرکٹ سے بھرے ٹرک ایکسائز آفس کے سامنے لاکھڑے کئے ۔ ذرائع کے مطابق اس تمام کارروائی میں ایم ڈی سالڈ ویسٹ کاشف رضا’ جی ایم آپریشنز عماد گل” منیجر آپریشنز اعجاز بندیشہ سمیت کمپنی کے متعدد افسران ملوث پائے گئے۔ نیوزلائن کے مطابق ٹوکن ٹیکس کی عدم ادائیگی کے ساتھ گاڑیاں چلاکر قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے ایف ڈبلیو ایم سی کے حکام نے اپنی قانون شکنی پکڑے جانے پر الٹا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ کئی گھنٹے تک راستہ بند کرکے بھی قانون شکنی کی گئی۔ اس تمام قانون شکنی کی نگرانی خود ایم ڈی سالڈ ویسٹ کاشف رضا’ جی ایم آپریشنز عماد گل او ر منیجر آپریشنز اعجاز بندیشہ کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر سیف اللہ ڈوگر نے اس معاملے میں کود کر وقتی طور پر معاملہ حل کروایا تاہم ابھی تک ایف ڈبلیو ایم سی حکام نے ٹوکن ٹیکس ادا نہیں کیا اور معاملہ کسی بھی وقت دوبارہ خراب ہونے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔

Related posts