لاہور جسم فروشی کی سب سے بڑی منڈی ‘پنجاب حکومت کی رپورٹ


فیصل آباد(احمد یٰسین)پنجاب میں جسم فروشی کاسب سے بڑا مرکز صوبائی دارالحکومت لاہور ہے۔پورے پنجاب کی جسم فروش خواتین کا ایک تہائی لاہور میں پایا جاتا ہے۔دوسرے نمبر پر موجود فیصل آبادکے حالات کو بہتر نہیں کہا جا سکتا لیکن لاہور کی نسبت یہاں انتہائی خوشگوار صورتحال اور اخلاقی تقاضوں میں لاہور کی نسبت فیصل آباد انتہائی بہتر پوزیشن پر ہے۔ جسم فروشی میں تیسری پوزیشن ملتان کی ہے تاہم آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ملتان میں لاہور کے بعد سب سے زیادہ حالات خراب ہیں۔یہ انکشافات کسی این جی او نے کئے ہیں اور نہ کسی سروے میں سامنے آئے ہیں۔ اس گھمبیر صورتحال کا انکشاف خود پنجاب حکومت نے اپنی ایک سرکاری رپورٹ میں کیا ہے ۔ روئیے اور بیالوجیکل معاملات پرسروے پنجاب حکومت نے اقوام متحدہ کے تعاون اور عالمی بنک کی فنڈنگ سے کیا۔کئے گئے اس سروے میں لاہور ‘ ملتان ‘ فیصل آباد‘ سرگودھا کا تفصیلی سروے کیا گیا۔ سروے میں فی میل سیکس ورکرز‘ میل سیکس ورکرز‘ ہم جنس پرستی اور دیگر سماجی خفیہ معاملات بارے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ سروے کے طریقہ کار اور معلومات حاصل کرنے کے ذرائع اس رپورٹ میں واضح نہیں کئے گئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی‘ اسلام آباد‘ لاہور ‘ کوئٹہ ‘ پشاور سمیت پورے پاکستان میں ایک لاکھ 49ہزار سے زائد خواتین جسم فروشی کو پیشہ بنائے ہوئے ہیں۔ صرف پنجاب میں 87ہزار خواتین اس کام سے وابستہ ہیں۔ صوبے کے چار بڑے شہروں لاہور‘ فیصل آباد‘ ملتان‘ سرگودھاکا حکومت نے خود تفصیلی سروے کیا تو سامنے آیا کہ ان چار شہروں میں 44ہزار ایک سو ساٹھ خواتین جسم فروشی کوروزگار بنائے ہوئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف لاہور میں 25ہزار 716خواتین جسم فروشی کے پیشے سے وابستہ ہیں۔فیصل آباد میں سات ہزار پانچ سو چھپن خواتین یہ کام کر رہی ہیں۔ ملتان ساڑھے چھے ہزار اور سرگودھا میں ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ خواتین جسم فروشی کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں۔ سروے میں خواتین کے اس کام کرنے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں صرف تعداد اور ان کی صحت کو فوکس کیا گیا ہے۔سروے کے نتائج خود حکومت کیلئے بھی حیران کن رہے اور خواتین کے اس کام سے وابستہ ہونے کی تعداد کے علاوہ ان کی صحت کے حوالے سے بھی تسلی بخش صورتحال سامنے نہیں آئی۔

Related posts