مریم نواز کا دورہ فیصل آباد: ن لیگ کے اجلاس میں ہلڑبازی‘ مارکٹائی

فیصل آباد (نیوز لائن) مریم نواز کے دورہ فیصل آباد کے انتظامات کا جائزہ لینے بارے مسلم لیگ ن کا اجلاس ہلڑبازی اور مارکٹائی کی نذر ہوگیا۔سابق وفاقی وزیر طلال چوہدری‘ رکن پنجاب اسمبلی مہر حامد رشید‘ سابق ایم پی ایز نواز ملک‘ حاجی خالد سعید‘ الیاس انصاری اورمنے خان سمیت کئی رہنما اور کارکن اپنے ہی ساتھیوں کے گھونسوں‘ مکوں اور دھکم پیل کا نشانہ بن گئے۔ہلڑ بازی کے بعد لیگی رہنماؤں نے باہم صلح صفائی کروا دی مگراس کے باوجود ن لیگی رہنما مریم نوا ز کی ریلی کیلئے مشترکہ اقدامات اور مل کر استقبال کرنے پر رضامند نہ ہوسکے۔نیوز لائن کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز متوقع طور 21جولائی کا فیصل آباد آئیں گی۔ مریم نواز کے دورہ کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے اور استقبالیہ پروگرام مرتب کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کی ضلع وسٹی تنظیموں‘ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس مقامی ہوٹل میں ہوا۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق میئر چوہدری شیر علی اور ان کے گروپ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔چوہدری شیر علی خود بھی اجلاس میں نہیں آئے جبکہ عابد شیر علی‘ عمران شیر علی‘ میاں طاہر جمیل اور ان کے گروپ کے متعدد دیگر رہنما بھی اس اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ اجلاس میں شہباز بابر‘ طلال چوہدری‘میاں عبدالمنان‘ اکرم انصاری‘خالدہ منصور قاسم فاروق‘راؤ کاشف رحیم‘ شیخ اعجاز احمد‘رانا علی عباس‘مہر حامد رشید‘فقیر حسین ڈوگر‘نوازملک‘میاں ضیاء الرحمن‘ میاں عرفان منان‘اسرار احمد منے خان‘حاجی خالد سعید‘الیاس انصاری‘شمائلہ چوہدری‘رانا منور سمیت دیگر تنظیمی عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلا س کے آغاز میں ہی حاجی خالد سعید اور منے خان میں توتکار ہوگئی۔ توتکار سے شروع ہونیوالا جھگڑا کارکنوں کی ہاتھ پائی کے باعث طول پکڑ گیا۔ سینئر رہنماؤں نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی مگر اس دوران سابق وفاقی وزیر طلال چوہدری‘ رکن پنجاب اسمبلی مہر حامد رشید‘ سابق ایم پی ایز نواز ملک‘ حاجی خالد سعید‘ الیاس انصاری اورمنے خان سمیت کئی رہنما اور کارکن اپنے ہی ساتھیوں کے گھونسوں‘ مکوں اور دھکم پیل کا نشانہ بن گئے۔سینئر رہنماؤں کے سمجھانے مریم نواز کی آمد کا مسئلہ درپیش ہونے کے باعث لیگی رہنما ٹھنڈے ہوئے تاہم غصے کے آثار آخر تک نظر آتے رہے۔ سینئر رہنماؤں کے سمجھانے کے باوجود لیگی رہنما اور کارکن مریم نواز کی ریلی اور استقبال کا مشترکہ پروگرام بنانے پر رضامند نہ ہوئے اور ہر رہنما نے مریم نواز کے روٹ پر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا لازمی قرار دیا۔ مشترکہ پروگرام اور بھرپور ریلی و جلسہ کا پروگرام بنانے میں ناکامی پر ہر رہنما کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کی تجاویز کے ساتھ ہی مریم نواز کا استقبال کرنے کو فائنل کرلیا گیا۔

Related posts