مریم نواز کا فیصل آباد میں پاورشو ناکام: مقامی لیڈروں پر اظہار ناراضگی

فیصل آباد (احمد یٰسین) فیصل آباد میں مریم نواز کا تاریخی استقبال کرنے کے دعویدار ن لیگی رہنما اورموجودہ و سابق ارکان اسمبلی فیصل آباد کی 80لاکھ کی آبادی میں سے چند ہزار لوگوں کو بھی سڑکوں پر لانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔لیگی وہنماؤں کے استقبالیہ کیمپ نفوس سے خالی جبکہ رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر بھی لیگی قیادت بڑا اجتماع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔مریم نواز نے صورتحال پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور مقامی قائدین کو سخت سست سنادیں۔ نیوز لائن کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی ریلی فیصل آباد میں اپنا رنگ نہ جما سکی۔

مریم نواز کا تاریخی استقبال کرنے کے دعویدار بری طرح ناکام

ن لیگ فیصل آباد کے دو درجن سے زائد رہنمااور ارکان اسمبلی مل کر بھی مریم نواز کا شایان شان استقبال کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔شہر میں لگے کسی بھی استقبالیہ کیمپ میں لوگوں کی خاطر خواہ تعداد اکٹھی نہ کی جاسکی۔ مریم نواز کے ساتھ آنیوالے رہنماؤں اور کارکنوں کو استقبالیہ کیمپوں کے موقع پر گاڑیوں سے اتر کر کیمپ کے بھرنا پڑا۔ ن لیگی رہنماؤں کی طرف سے بھی استقبال کیلئے دئیے گئے پورے ہفتے میں اخباری بیان بازی کے سوا کوئی خاص سرگرمی نظر نہ آئی۔ استقبالیہ کیمپ لگانے والے لیگی رہنما استقبالیہ کیمپ لگا کر خود ہی سارا دن اپنے کیمپوں سے غائب رہے اور مریم نواز کی آمد سے چند لمحات پہلے اپنے کیمپ میں آئے۔ کیمپ لگانے والوں کی عدم موجودگی میں عوام اور کارکنوں میں بھی گہما گہمی کا فقدان رہا۔ مریم نواز کی آمد سے ایک روز قبل ن لیگی رہنماؤں نے اپنی گرفتاری دینے کیلئے بھی مہم چلائی مگر پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ان کی گرفتاری نہ ہوسکی۔ ن لیگی رہنما خود اپنے واقف کار پولیس افسران کو فون کر کر کے اپنی گرفتاری یا اپنے گھروں پر چھاپے کی درخواست کرتے رہے۔مگر اعلیٰ حکام کی طرف سے ن لیگی رہنماؤں کی گرفتاری نہ کرنے کی ہدایات کے پیش نظر ن لیگی رہنماؤں کے واقف کار ایس ایچ اوز بھی ان کی گرفتاری کا ڈرامہ رچانے میں بری طرح ناکام رہے۔

فیصل آباد بھر میں مریم نواز کے استقبال کیلئے صرف دو استقبالیہ کیمپ قابل ذکر قرار پاسکے۔ سمانہ پل پر یوتھ ونگ کے رہنما کاشف رندھاوا نے کیپٹن صفدر سے ذاتی دوستی کی وجہ سے قابل ذکر بندے اکٹھے کرکے استقبالیہ کیمپ کا رنگ جمایا۔ جبکہ سابق خاتون ایم پی اے ڈاکٹر نجمہ افضل چند درجن خواتین کو اکٹھی کرکے ویمن ونگ کی لاج رکھ سکیں۔ بلند بانگ دعوے کرنے والے سابق ایم پی اے نواز ملک‘ سابق میئر رزاق ملک‘ رکن پنجاب اسمبلی مہر حامد رشید‘ ن لیگ کے سٹی صدر شیخ اعجاز‘ سابق ایم این اے میاں عبدالمنان‘ خاتون ایم پی اے خالدہ منصور سمیت کوئی ن لیگی ”لیڈر“ مریم نواز کے استقبال کیلئے درجن بھر کارکن بھی اکٹھے نہ کرسکے۔ سابق ایم پی اے مدیحہ رانا‘ سابق وزیر رانا محمد افضل‘ الفاظ کے تیر چلانے کے ماہر طلال چوہدری‘ آزاد علی تبسم‘اجمل آصف‘ ظفر ناگرہ‘ اکرم انصاری‘ الیاس انصاری‘ میاں فاروق‘ عرفان منان‘ حاجی خالد سعید‘ خلیل طاہر سندھو‘ منے خان‘ راؤ کاشف سمیت کوئی بھی کارکنوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ساہیانوالہ انٹر چینج پر آزاد علی تبسم اور دیگر ”لیڈروں“ نے خصوصی طور پر استقبال کا پوائنٹ بنوایا مگر چند درجن کارکنوں کو لاکر عوام کے اکٹھا ہونے کا انتظار ہی کرتے رہے۔

سرگودھا روڈ پر بولے دی جھگی چوک‘جامعہ چشتیہ چوک‘چناب کلب چوک سمیت کسی مقام پر بھی مریم نواز کا خاطر خواہ استقبال نہ ہوسکا۔ فیصل آباد بھر کی قیادت مل کر بھی اتنے لوگ اکٹھے نہ کرسکی جتنے مریم نواز لاہور سے ساتھ لے کرآئی۔ رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر پنڈال سجانے کے ذمہ دار سابق ایم پی اے نواز ملک نے یہاں بھی”پولیس چھاپوں جیسا ڈرامہ“ کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ پارٹی نے رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر مریم نواز کا کارکنوں سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر ملک نواز قریبی پارک میں خود اپنے ہی کارپوریشن میں موجود ساتھیوں کی مدد سے پانی لگوا کر میڈیا کو اس کی تصاویر دکھاتے رہے۔جبکہ ڈیرے پر پنڈال سجا سکے نہ کارکنوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیگی رہنما مریم نوا زکے دورہ فیصل آباد سے ایک روز پہلے تک بلند بانگ دعوے کرتے رہے مگر دورے والے دن ناکامی کی شرمساری کے باعث چھپتے پھرتے اور مریم کی سکیورٹی کیلئے کئے جانیوالے پولیس کے اقدامات کو دکھا دکھا کر ریلی روکنے کی کوشش کا رونا روتے رہے۔ ن لیگی لیڈروں کی دہائی اور درخواستوں کے باوجود پولیس نے کسی ایک کو گرفتار کیا نہ کسی کو ریلی کی طرف جانے سے روکا مگر اس کے باوجود کوئی استقبالیہ کیمپ کامیاب ہو سکا نہ رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر جلسے کا ماحول بن سکا۔اس صورتحال پر مریم نواز نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور رانا ثناء اللہ کے گھر میں ملاقات کے دوران فیصل آباد کے بلند بانگ دعوے کرنے والے لیڈروں کی خوب کلاس لیتی رہیں اور سخت الفاظ میں ان کی سرزنش کی۔

رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی عوام اب بھی میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ میاں نواز شریف کے حوصلے پست نہیں ہوئے وہ جمہوریت مخالف قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ رانا ثناء اللہ بھی میں نواز شریف کے سپاہی ہیں انہیں بھی کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ ان کیخلاف جھوٹے مقدمات ہمارا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم ان کے سامنے جھکیں گے نہیں۔

مریم نواز کے خطاب سٹیج پر کھڑے ہونے کے تنازعے پر لیگی رہنما آپس میں جھگڑتے رہے۔ مسلم لیگ ن کے سٹی صدر شیخ اعجاز نے سٹیج پر سامنے کی طرف آنے پر سابق ایم این اے اعجاز ورک کو گلے سے پکڑ کر پیچھے دھکا دیدیا جس کے بعد انہیں آگے آنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ سٹیج پر اس کے علاوہ بھی مقامی ”لیڈر“آپس میں جھگڑتے رہے اور ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلتے رہے۔ شیخ اعجاز کے اعجاز ورک کو دھکے دینے کے واقعہ منظر نامے سٹیج پرقریب ہی موجود مصدق ملک‘ نواز ملک‘ مدیحہ رانا‘ عرفان منان اور دیگر رہنما خاموش کھڑے انجوائے کرتے رہے۔ کسی نے بدتمیزی کے مظاہرے پر شیخ اعجاز کو روکنے کی کوشش نہ کی اور نہ اعجاز ورک کو سٹیج پر جگہ ہونے کے باوجود کھڑے ہونے کا موقع دیا۔

Related posts