میاں عامر محمود کی یونیورسٹی کا فیصل آباد کیمپس غیرقانونی قرار



فیصل آباد (احمد یٰسین) ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے لاہور کے سابق ڈسٹرکٹ ناظم میاں عامر محمود کی یونیورسٹی کے فیصل آباد کیمپس کو باضابطہ طور پر غیرقانونی قرار دیدیا ہے اور اس میں داخلوں کے حوالے سے انتباہی نوٹس بھی جاری کردیا ہے۔ میاں عامر محمود نے فیصل آباد میں کچھ عرصہ سے یو سی پی کا غیرقانونی کیمپس بنا رکھا تھا جس میں باقاعدہ ایڈمشن کئے جارہے ہیں ‘ تدریسی عمل جاری رکھے ہوئے ہیںاور شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے علاوہ قانون سے کھلم کھلا کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ نیوز لائن کے مطابق قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے بھاشن دینے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والے میڈیا ہاؤس کے مالک اور سابق ڈسٹرکٹ ناظم لاہور میاں عامر محمود کی یونیورسٹی کے فیصل آباد کیمپس کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے باضابطہ طور پر غیرقانونی قرار دیدیا ہے۔ صرف فیصل آباد ہی نہیں ملک بھر میں یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے کیمپس غیرقانونی قرار دیدئیے گئے ہیں اور شہریوں انتباہی نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے لاہور مرکزی کیمپس کے علاوہ ملک بھر میں تمام غیرقانونی ہیں ۔ ان میں داخلہ نہ لیں۔ ایچ ای سی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یو سی پی کے ملک بھر کے تمام غیرقانونی کیمپسز میں پڑھایا جانا بھی قانونی طور پر غلط ہے اور کسی بھی کیمپس میں پڑھنے والے کی ڈگری کو درست نہیں مانا جائے گا۔ ایچ ای سی نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ یو سی پی کو کسی کالج کو الحاق دینے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ یو سی پی کے ساتھ الحاق رکھنے والے کالجز کی ڈگری بھی غیرقانونی تصور ہو گی اور ان کی ڈگری کو بھی تصدیق نہیں کیا جائے گا۔ یوسی پی کے حوالے سے واجح کیا گیا ہے کہ یو سی پی کو صرف لاہور میں اپنے مرکزی کیمپس میں ہی ڈگری پروگرام جاری کرنے کا حق حاصل ہے۔ ملک بھی میں کسی بھی جگہ یہ اپنے کیمپس نہیں بنا سکتی جبکہ کسی پرائیویٹ کالج میں بھی اس یونیورسٹی کا ڈگری پروگرام نہیں پڑھایا جا سکتا۔ ذرائع مطابق یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب سابق ڈسٹرکٹ ناظم لاہور میاں عامر محمود کی ملکیتی ہے اور وہ خود ہی اس کے چیئرمین کے طور اس کے تمام امور دیکھتے ہیں۔ یو سی پی کے ملک بھر میں تمام غیرقانونی کیمپس بھی ان کی منظوری سے اور ان کی نگرانی میں ہی بنائے گئے ہیں۔ جبکہ غیرقانونی طور پر متعدد پرائیویٹ کالجوں کو الحاق دے کر ان میں بھی یو سی پی کے ڈگری پروگرام پڑھائے جارہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایچ ای سی کو شکایات ملی تھیں کہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب نے ملک کے مختلف حصوں میں اپنے کیمپس بنا رکھے ہیں جن میں طلبہ کے داخلے کئے جارہے ہیں اور شہریوں سے ان کیمپسز میں بچوں کے داخلوں کے نام پر بھاری فیسیں بھی وصول کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ غیرقانونی طور پر یو سی پی نے پنجاب کالج ک ااور دیگر کالجز کا الحاق کررکھا ہے جہاں غیرقانونی طور پر یو سی پی کے ڈگری پروگرام پڑھائے جارہے ہیں۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ہائیر ایجوکیشن نے یو سی پی کے چیئرمین اور دیگر انتظامیہ سے جواب طلبی کی ہے اور عوام کیلئے انتباہی نوٹس بھی جاری کردیا تاکہ عوام ان غیرقانونی کیمپسز میں داخلے نہ لیں۔ ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے مالک میاں عامر محمود ایک میڈیا ہاؤس بھی چلے رہے ہیں ۔ ان کے میڈیا ہاؤس کے مختلف پروگراموں میں قانونی کی حکمرانی یقینی بنانے کے حوالے سے لمبے لمبے بھاشن دئیے جاتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ہرشعبہ زندگی میں قانونی کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے ۔ قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے اعلانات اور مطالبات کرنے والے میڈیاہاؤس کے مالک کی جانب سے اپنی ہی یونیورسٹی کے غیرقانونی کیمپس بنانا اور غیرقانونی طور پر پرائیویٹ کالجز کو پرائیویٹ یونیورسٹی میں الحاق دینے اور اپنے کالجز میں یو سی پی کے ڈگری پروگرام غیرقانونی طور پر پڑھانے کو ماہرین قول و فعل کا تضاد قرار دے رہے ہیں۔

فیصل آباد میں یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کا غیرقانونی کیمپس

Related posts