میرے مزدوروں کا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔: تحریر زیبا حسن


اس وقت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ اتوار کے روز ایک بڑے وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔ پاکستان پہنچنے پر انکا فقیدالمثال استقبال ہوا اور وزیراعظم پاکستان ہوائی اڈے سے خود انکی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے پی ایم ہاؤس لے گئے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ کے موقع پر وزیراعظم نے ان سے کچھ خصوصی التجا ئیں کیں جن کا سوشل میڈیا پر بڑا چرچا رہا۔ وزیراعظم پاکستان نے ان سے التجا کی کہ ”سعودی عرب میں کام کر نے والے میرے پاکستانی مزدوروں کا بہت خیال رکھنا، یہ بہت سپیشل لوگ ہیں اور میرے دل کے بہت قریب ہیں”
انہوں نے سعودی عرب میں قید تین ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی درخواست کی اور عازمین حج کو سہولیات دینے کی بات کی۔
اسکے جواب میں سعودی شہزادے کا جواب انتہائی حوصلہ افزاء تھا۔ انہوں نے پاکستانی وزیراعظم کو تسلی دیتے ہوئے یقین دلایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں
”آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں”۔ اگلے ہی روز سعودی ولی عہد نے وزیراعظم کے لفظوں کی لاج رکھتے ہوئے سعودی جیلوں میں قید دو ہزار سے زائد پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ یہ خبر غریب متاثرہ خاندانوں اور تمام پاکستانیوں کے لئے نہایت ہی حوصلہ افزاء تھی۔ اس پیشرفت کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب میں خون پسینہ بہانے والے تقریباََ پچیس لاکھ پاکستانی مزدوروں کے لئے بھی جلد کوئی ریلیف پیکیج آئے گا۔
وزیراعظم پاکستان کی سعودی عرب میں مقیم لیبر فورس کے بارے میں تشویش کا اظہار دیکھکر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے وہ ویڈیو کلپ بار بار دیکھا جو لاکھوں کی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین نے شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم کے لئے توصیفی کلمات کہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ کاش وزیراعظم پاکستان اپنے ملک کے اندر بھی محنت کش طبقات کے لئے اسی جذبے سے کام کریں جو انہوں نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کے لئے دکھایا۔
ابھی چند ہی دن پہلے پاکستان میں کان کن مزدوروں کی معلومات جمع کرتے ہوئے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے جو انتہائی مضر صحت ماحول میں کام کرنے کے باعث ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک اور مسلسل زہریلی گیسوں کے اخراج سے سانس، پھیپھڑوں،دل کی اور دیگر جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ برس یعنی 2018 میں بھی ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں درجنوں کان کن مزدور ہلاک ہوئے۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2018 میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 6 مزدور دم گھٹنے اور دھماکوں سے ہلاک ہوئے۔ مارچ میں یہ تعداد 2 تھی، اپریل میں 19 ، مئی میں 23 ، جون میں 4 اگست میں 20 ، ستمبر میں 9، اکتوبر میں 3 جبکہ نومبر اور دسمبر میں بھی کئی کان کن مزدور جان سے گۓ۔ یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد وزیراعظم پاکستان کی توجہ اس سنگین نوعیت کے مسئلے کی طرف دلانا ہے جس نے ہزاروں محنت کشوں کی زندگیاں نگل لیں۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے علاوہ دوسری جگہوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی زندگیاں بھی کسی المیہ سے کم نہیں۔ خاص طور پر کارخانوں میں کام کرنے والے اور اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بھٹہ مزدور۔ انتہائی مضر صحت غیر انسانی ماحول میں کام کرنے والے ان محنت کشوں کا دوسرا بڑا مسئلہ قلیل تنخواہیں ہیں۔ دس سے پندرہ ہزار تنخواہ میں یہ اپنی زندگی کا پہیہ نہیں گھما سکتے۔ ایسے میں جب پاکستانی کرنسی بے وقعت اور مہنگائی کا طوفان برپا ہو تو انکی قوت خرید جواب دے جاتی ہے اور ان کے خاندان فاقہ کشی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ فاقوں سے بچنے کے لئے یہ محنت کش اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں تھمانے کی بجائے کشکول تھما دیتے ہیں یا پھر اپنے ساتھ کام پر لگا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ غربت اور غلامی کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔
میں وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے یہ التجا کروں گی کہ ان محنت کشوں کا خیال کریں یہ واقعی بہت سپیشل ہیں۔ یہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں۔ یہ اگر ایک دن کام چھوڑ ہڑتال پر بیٹھ جائیں تو معیشت کا پہیہ گھومنا بند ہو جائے لیکن افسوس کہ ملکی معیشت کا پہیہ گھمانے والے یہ محنت کش اپنی زندگی کا پہیہ نہیں گھما پا رہے۔ یہی وہ مظلوم ترین طبقہ ہے جسکو سب سے زیادہ ریلیف کی ضرورت ہے۔ ان کو بھی باوقار زندگی جینے کا حق ملنا چاہیے۔۔۔۔ خدارا ان کے لئے قانون سازی کریں، انکو کام کرنے کے لئے موافق ماحول فراہم کریں، کام والی جگہوں پر حفاظتی اقدامات سے جان اور صحت کا تحفظ یقینی بنائیں، انکی بھی تنخواہیں بڑھائیں، مراعات دیں ، انکے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں۔۔۔۔
میں وزیراعظم سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ ملک کے اندر جیل نما کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی فوری رہائی ‘بھٹہ مالکان کی قید میں جبری مشقت کا شکار بھٹہ مزدوروں’ وڈیروں، صنعت کاروں، سرداروں کی ”نجی جیلوں” میں قید غلاموں کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں اور کان کن مزدوروں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

تحریر : زیبا حسین

Related posts