میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی: قانون سازی میں ورکرز کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ


فیصل آباد (نیوز لائن) فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس نے وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر اطلاعات سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا مسودہ ورکرصحافیوں ‘ انکی نمائندہ تنظیموں اور حقیقی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر تیار کیا جائے۔ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے مسودہ کوقانون سازی سے قبل مالکان کی تنظیم اے پی این ایس اور مالکان کی ہی نمائندگی کرنے والی سی پی این ای کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس‘ ایپنک اور دیگر صحافتی تنظیموں کے ساتھ ساتھ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے نمائندوں کو دیا جائے اور انہیں اعتماد میں لے کر قانون سازی کی جائے۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر رشید‘ جنرل سیکرٹری ندیم جاوید ‘ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل شمس الاسلام ناز اور پی ایف یو جے کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری حامد یٰسین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اخبارات‘ الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کو سوشل میڈیا کے ساتھ ملانا مناسب نہیں ہوگا ۔سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ سائٹ کا نام ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کو اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا کیلئے الگ سے قانون سازی کی جائے ۔ دونوں کو اکٹھا کرنا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین میں سنسر شپ کی اجازت دینا کسی طور مناسب نہیں ہو گا تاہم حکومتی سنسر شپ کے ساتھ ساتھ میڈیا مالکان کی ذاتی سنسر شپ کا راستہ روکنا بھی ضروری ہے۔ اخبارات ۔ نیوز ٹی وی چینل ۔ اور ڈیجیٹل نیوز میڈیا آؤٹ لیٹ میں پروفیشل ایڈیٹر یا ڈائریکٹر نیوز کی موجودگی یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کی جائے۔ ایڈیٹرز کو مالکان کے تسلط سے آزاد رکھنے کیلئے بھی قانون سازی کی جائے۔ تینوں فارمیٹ کے میڈیا میں ورکرز کی بھرتی مستقل بنیادوں پر کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ میڈیا دفاتر میں ٹھیکیداری نظام ‘ کنٹریکٹ سسٹم‘ تھرڈ پارٹی بھرتی‘بیوروز کی فروخت اور اعزازی نمائندگی کا سلسلہ بند کرنے کیلئے بھی قانون سازی کی جائے۔ میڈیا دفاتر کو بیگار کیمپ بنانے والے میڈیا مالکان کیلئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کی جائیں۔ میڈیا دفاتر میں کم سے کم اجرت کے قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ اخبارات میں ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ لازمی قرار دیا جائے جبکہ نیوز ٹی وی چینل میں پی ٹی وی کی طرز پر سروس سٹرکچر کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ میڈیا ورکرز کی خفیہ بھرتی اور خفیہ مراعات کا سلسلہ بند رکھنے کیلئے بھی قانون سازی کی جائے۔ ورکر صحافیوں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ حکومت ‘ حکومتی عہدیداروں اور آئینی اداروں کا فرض ہے کہ پسے ہوئے طبقات کے حقوق کا تحفظ کرے۔ اس وقت ملک بھر میں میڈیا ورکرز سب سے مجبور اور پسا ہوا طبقہ ہے۔ میڈیا وکرز کے مسائل تو مسلسل شور مچانے والے نیوز چینل بھی پیش نہیں کرتے ۔ حکومت مجوزہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی میں میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے‘ اور میڈیا کے اداروں کو مالکان کے تسلط سے آزاد رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کرے۔ تمام میڈیا اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ورکرز کی فہرستیں اوپن کریں۔ ورکرز کی لسٹیں میڈیا ریگولیٹری اداروں(پیمرا‘ پی آئی ڈی وغیرہ) کو فراہم کریں اور ریگولیٹری ادارے بھی لسٹیں اوپن رکھیں اور اس تک سب کی رسائی ہونی چاہئے۔ میڈیا ورکرز کے نمائندوں نے کہا کہ ملک بھر کے میڈیا وکرز ایسے قوانین کی کھل کر مخالفت کریں گے جس میں وررکز کا تحفظ یقینی نہ بنایا گیا ہو گا۔ حکومت ورکرز کا تحفظ یقینی بنانے والے قوانین بنائے ملک بھر کے صحافی اور میڈیا وکرز اس کی حمائت کریں گے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان ‘ وفاقی وزیر اطلاعت فواد چوہدری‘ اور وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم مجوزہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے فیلڈ میں کام کرنیوالے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو اعتماد میں لیں۔ صرف میڈیا مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنیوالے کسی قانون کو ورکر صحافی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

Related posts