میڈیا مافیا بے وزگاری کا سیلاب لے آیا: کوئی ریسکیو کیلئے تیار نہیں


میڈیا انڈسٹری کے بحران پر پاکستان کی حکومت اور میڈیا مالکان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ، میڈیا مالکان کا جبر روز بروز بڑھ رہا ہے اور حکومت میڈیا کارکنوں کو اپنا شہری اور انہیں معاشی تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنے ریاستی فرض کی ادائیگی سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے ۔ یہ تبدیلی والی سرکار ہے اور تبدیلی کہیں دکھائی نہیں دیتی ؟ کیسے دکھائی دے ؟ تبدیلی کے عمل میں سارے کے سارے کیمیاوی عناصر وہی ہیں جو ماضی میں بھی حکومت سازی میں کلیدی کردار کے حامل تھے ایسے ہی عناصر کے بغیر عوامی مفاد میں ایسی تبدیلی لانے کا خواب دکھایا گیا تھا ؟جس کا اظہار ( حالانکہ ضمانت دی گئی ہے ) پاکستان کے دستور میں کیا گیا ہے لیکن چند چہرے تبدیل ہوئے باقی سب کچھ ویسا ہی ہے ۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کارکنوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کیلئے بند ہونے والے اشاعتی اور نشریاتی اداروں کے لائسنس اور ڈیکلیریشن منسوخ کردے اور ان اداروں سے منسلک اداروں کی سرکاری مراعات فوری طورپر معطل کردے ۔ اورساتھ ہی انکا ان کا فرانزک آڈٹ بھی کرائے مگر کیسے۔۔۔۔ ؟ کون کرے گا ؟ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ حمام نہیں سمندر ہے جس میں سبھی ننگے ہیں ، یہی ان کا لباس ہے اور انہیں چیتھڑے پہنے لوگ برہنہ دکھائی دیتے ہیں اور ان کے خلاف فحاشی کے مقدمات درج کرکے سزا دینے پر تُلے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ بھی بے لباس ہوجائیں اور وہ راستہ اختیار کریں جس سے اس حمام میں ان کے ساتھی بن سکیں ، یہ راستہ صرف اور صرف انارکی اور معاشرے کی تباہی ہے ۔
مجھے یاد ہے ، میں نے اپنے باکردار اکابرین کی تقاریر سنی ہیں اور میٹنگز میں شامل رہا ہوں جن میں یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ میڈیا مالکان کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے، ان سے حساب لیا جائے ، اب تو پی ایف یو جے بھی یہ مطالبہ نہیں دہرا رہی ، یہ مطالبہ کرنے والے میڈیا مالکان کے احتساب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتے تھے ۔ اب تو وزیر اعظم عمران خان بھی جنگ جیو کے مالک کا نام اس ادارے کے ذمے ٹیکسوں کی وصولی کے ساتھ ساتھ احتساب کی بڑھکیں بھول گئے ہیں ، یہ کونسا این آر او ہے ؟ کونسی تبدیلی ہے ، کونسا یو ٹرن ہے؟ اگر وہ جھوٹ بولتے رہے یا اپنے وعدے سے منحرف ہوگئے تو کیا ان کے صادق و امین نہ رہنیکی بنا پر ان کی نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جائے ؟ کیا کیا جائے ؟
مجھے یہاں وہ لمحہ،نم آنکھیں ، وہ کرب اور دکھ یاد آ رہا ہے جب نوائے وقت گروپ کے مالک مجید نظامی نے اپنے ہی بھتیجے اور اس ادارے کے بانی کے صاحبزادے عارف نظامی کو ادارے کی سیڑھیاں چڑھنے سے روک دیا تھا اور وہ پریس کلب میں یہ واقعہ سنا رہے تھے تب میں نے بھی ان کا دکھ بانٹا تھا اور یہ باور کرایا تھا کہ کارکن کو سیڑھیاں چڑھنے سے روکنے کا لمحہ کتنا کربناک ہے ؟ پھر مجید نظامی اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور لے پالک کو سب کچھ دے گئے جس نے سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ وقت نیوز بند کردیا ۔ اسی واقعے سے مماثلت بھلے نہ ہو مگر مجید نظامی اوررمیزا کے تعلق پر کراچی کے ایک دوست کی زندگی کا وقعہ یاد آگیا ہے ، ان صاحب نے
دن رات دولت کمائی ، شادی نہ کی ، ساٹھ برس کی عمر میں ایک لڑکی ان سے شادی کرنے میں کامیاب ہوگئی ، کچھ عرصے کے بعد وہ صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو ان کی بیوہ نے اپنے ڈرائیور سے شادی کرلی، دونوں ہنسی خوشی زندگی گذار رہے ہیں ۔ ایک روز دونوں میاں
بیوی میں تلخی ہوگئی ، بات محنت پر ہوئی تو خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے بڑی محنت سے یہ دولت حاصل کی ہے ، جس کے جواب میں ڈرائیور شوہر کا کہنا تھا یہ محنت تو ایک بیچارے نے ساری زندگی میرے لئے کی تھی ۔۔۔۔
میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو ا بھی سمجھ نہیں آرہی ، حکومت کو بھی احساس نہیں ہورہا ، حکومتی کارپرداز بھی اسی وقت سمجھیں گے جیسے ان دنوں جیل میں نواز شریف کو کچھ قوانین کے حوالے سے احساس ہورہا ہے حالانکہ خیال تھا کہ جب وہ سعودی عرب کے سرُور پیلس سے واپس آئے تھے تو بہتری کی جانب چلیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ نہ ہی اب باہر نلکنے کی صورت میں کریں گے ۔
میڈیا مالکان اس وقت ایک مافیا بنے ہوئے ہیں ان میں کچھ بیچارے ایسے بھی ہیں جو مجبوراً ان کے ووٹرز ہیں اور حالات پر کڑھ رہے ہیں ، مین ان کو جانتا ہوں ، وہ عشروں سے مافیا کے کردار پر شاقی ہیں ۔
اس میں کوئی شبہ اور دو رائے نہیں کہ پاکستان کی اصل وارث ، قوت اور طاقت کا منبع پاک فوج ہے ، فوج بھی میڈیا فرینڈلی نہیں ہے ، اسے بھی یاد ہے کہ اس کے آمرانہ اقدامات پر سیاسی کارکنوں سے زیادہ میڈیا ورکرز مزاحم رہے ہیں اور شائد وہ اسی مزاحمت کا بدلہ ان سے بھی لے رہی ہے جو بیچارے حقیقی معنوں میں صحافی بھی نہیں بلکہ صحافیوں کے نام پر مالکان کے کلرک ہیں ، صحافت تو کب کی ختم ہوچکی ، میڈیا انڈسٹری اب ان کی ہے جو میڈیا سے خائف تھے ۔ اشاعتی اور نشریاتی اداروں کیلئے خبر انہیں بھی نہیں چاہئے ، بس ٹارگٹ رپورٹنگ کی ضرورت ہے ۔
چلئے! اگر ٹارگٹ رپورٹنگ ہے تو حکومت اشاعتی اور نشریاتی اداروں کو ٹارگٹڈ لائسنس دیے جائیں ، یعنی جس نے جرائم کی خبریں چھاپنی یا نشر کرنی ہیں اسے دوسری خبریں شائع کرنے کی اجازت نہ دی جائے ، جس نے بزنس کی خبریں چھاپنی یا براڈ کاسٹ کرنی ہیں اسے دوسری خبروں سے روک دیا جائے ، لیکن اگر سب نے سبھی خبریں شائع اور نشر کرنی ہیں تو اس کیلئے اسی تناسب سے رپورٹنگ ٹیم رکھنے کا پابند بنایا جائے ، تاکہ ایکسپریس، دنیا اور نئی بات ، کی طرح دونوں اداروں کی ایک ٹیم سے دوگنی مشقت لینے کے جبرکا راستہ روکا جائے، اسی طرح جس شہر سے اخبار شائع ہوتا ہے ،اگر وہاں پر پوری ٹیم موجود ہے تو اس حساب سے اشتہارات دیے جائیں ، بصورت دیگر تمام اشتہارات ہر ایڈیشن میں چھاپنے کا پابند بنا کر ایک ہی اسٹیشن کے حساب سے پے منٹ کی جائے ۔ بصورت دیگر باقی اسٹیشن کے ڈیکلیریشن کے منسوخ کردیے جائیں ، جس روز ایسا کیا گیا ، کارکن بھی پریشانیوں سے بچ جائیں گے اور مالکان کی بلیک میلنگ بھی بند ہوجائے گی ۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک بار پھر پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے بارے میں رپورٹ چھاپی ہے، اس کے رپورٹرر ثقلین امام کا بنیادی تعلق پاکستانی صحافت ( پنجاب یونین آف جرنلسٹس ، اورلاہور پریس کلب کے سابق صدر ہیں)سے ہونے کے باوجود اس میں میڈیا مالکان کی سوچ کی حقیقی نفی مناسب الفاظ میں نہیں کی گئی بلکہ تاثر ابھرتا ہے کہ شائد حکومتی اقدامات ہی اس بحران کا باعث بنے ہیں ، بی بی سی سے یہ کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی وقت مفصل خبر دے گی کہ پاکستانی میڈیا انڈسٹری صرف سرکاری اشتہارات پر ہی کیوں انحصار
کرتی ہے ؟ کیا پوری دنیا میں اخبارات اور ٹی وی چینلز صرف سرکاری اشتہارات پر انحصار کرکے چلائے جاتے ہیں ؟
کارکنوں کی برطرفیوں پر عدلیہ سمیت خاموش حاکموں کیلئے اتنا ہی عرض کرنا ہے ۔۔۔
دیکھنا نہیں مجھے اپنا چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہر کے سب آئینے توڑ دو

محمد نواز طاہر

Related posts