میں کہاں ہوں ؟ —– تحریر: فرزانہ کرسٹوفر


ایک منٹ ایک منٹ میں آپ سے کہہ رہا ہوں میں اپنی خوتین ( خواتین ) سے کہہ رہا ہوں تبدیلی کسی اور نے نہیں آپ نے لانی ہے
پی ٹی آئی کی نومنتخب حکومت تبدیلی کے بھرپور نعرے اور منشور کے ساتھ طاقت میں آ چکے ہیں اور بلاشبہ اس تبدیلی میں خواتین کا بھر پور عمل دخل ہے ، پہلے پی ٹی آئی دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تیسری قوت بن کے ابھری اور اب حکومت بنا کے ثابت کر چکی کہ پی ٹی آئی اصل طاقت ہے گو کہ اس کے پیچھے جن کا ہاتھ ہے اس پر بہت بات ہو رہی ہے لیکن اس ان تمام باتوں سے ہٹ کر پی ٹی آئی نے جن طبقات میں سیاسی شعور بیدار کیا اور انہیں کھینچ کے الیکشن کے عمل میں لائے ان میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور شاید ان ہی کے ووٹ سے آج پی ٹی آئی مسندِ اقتدارپر براجمان ہے ۔ ایک عورت ہوتے ہوئے میرا سوال یہ ہے کہ تبدیلی کے نعرے اور تبدیلی کے عمل میں روز اول سے میں جدوجہد کر رہی ہوں ، چاہے وہ ممبر سازی کی مہم ہو، پارٹی الیکشن ہوں ، کارنرز میٹنگ ہوں، ورکرز کنونشن ہو، جلسے ہوں ، جلوس ہوں ریلیز ہوں ،ا لیکشن کمیشن کے باہر ہفتہ وار احتجاج ہو ، لا ک ڈاؤن ہو، لانگ مارچ ہو،ایک سو بیس دن کا دھرنا ہو، اس دھرنے میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کا سامنا ہو، پھر الیکشن کی تیاری، ووٹ ڈالنے کے لئے لمبی قطار ہو ، میں ہر جگہ تبدیلی کے لیئے نئے پاکستان کے لیئے موجود ہوں ، لیکن اگر کہیں نہیں ہوں تو وہ حکومت بن جانے کے بعد فیصلہ سازی کے عمل میں ۔ فیصلہ سازی میں میرا کردار23 ممبران میں ایک ہے ۔ باقی جگہوں پر تو اتنی اہمیت دینا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔ کہیں آپ کو بھی خواتین کی صلاحیتوں پر شک تو نہیں ، کیا تبدیلی کے دعویدار بھی ابھی پرانی سوچ کے اسیر تو نہیں، دعوے تو اور تھے لیکن عمل تو اسی اسیری کا پتہ دیتے ہیں۔ اب روئے سخن اس عورت کی جانب ہے جو تبدیلی کے سفر میں روزِ اول سے شانے سے شانہ ملائے جدوجہد کر رہی ہے ، جو باشعور بھی ہے اور جس کے لب بھی آذاد ہیں ، کہ کیا آپ کا کام نہیں کہ اپنی منتخب حکومت سے پوچھیں کہ فیصلہ سازی میں میرا کردار اہمیت اور مقام کیاہے؟ میں آج کہاں ہوں؟ تبدیلی کا نعرہ کم از کم خواتین کو طاقتور اور مضبوط بنانے کی حد تک تو کہیں نظر نہیں آتا ، آپ کو مجھ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مجھے یہی تبدیلی نظر آ رہی ہے کہ اور وہ اس دعوی میں ہے جو عمران خا ن بار ہا کرتے نظر آئے ہیں کہ ’’ میں اپنی خواتین سے کہنا چاہتا ہوں‘‘ خان صاحب کا اقتدار میں آ کر یہ نظریہ بدل گیا ہے اور کابینہ میں عورتوں کی شمولیت ( جو موجودگی ہے اسے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں کہا جاسکتا) کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اور ان کے ساتھ ساتھ اقلیت کے نمائندے بھی کابینہ میں نظر نہیں آ رہے ، وزیر اعظم کے قوم سے پہلے خطاب کو سن کر کابینہ میں ان کی موثر نمائندگی کی آس بھی بندھی تھی جو دم توڑتی محسوس ہو رہی ہے۔ الغرض جہاں امیدیں توٹی ہیں وہیں وعدے بھی وفا نہیں ہوئے جس سے باعث پہلے ہی مرحلے میں مایوسی کا سامنا ہے خیر دوبارہ موضوع کی طرف آتے ہوئے کہنا چاہتی ہوں کہ جو عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر ان کا تقابلی جائزہ کینیڈا کے زیراعظم سے کر رہے تھے ان سے گزارش ہے کہ ان دونوں کی کابینہ کا بھی تقابلی جائزہ لے لیتے جسٹن ٹروڈ کی کابینہ میں جہاں پچاس فیصد خواتین کے ساتھ ہر رنگ نسل اور مذہب کا نمائندہ موجود ہے اگر ایسی تبدیلی ہوتی تو میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتی کہ’’ تبدیلی آ نہیں رہی ، تبدیلی آ گئی ہے‘‘ تبدیلی نہیں آئی چہرے تبدیل ہوئے ہیں ۔ کے پی کے جہاں تبدیلی کا نعرہ دوسری دفعہ گونج رہا ہے اگر اس کی کابینہ کی بات کی جائے تو ، خواتین کے تناظر میں کیا کی جائے ۔ الغرض وفاق میں ایک شیری مزاری ( اگر زبیدہ جلال اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا نام آپ کے ذہن میں دل کی تسلی کے لئے آئے تو درست ورنہ جان لین کہ یہ نام مصلحت کا تقاضا ہیں اور ان کے نام یقیناًان کی پارٹی نے منتخب کیے ہوں گے نہ کہ پی ٹی آئی نے) ، پنجاب میں ایک یاسمین راشد، کے پی کے ایک بھی نہیں ، کے پی کی نگران حکومت کی محدود اور مختصر کابینہ میں ایک مشیر او ایک وزیر خاتون تھیں لیکن تبدیلی کے دعویدار خیر ۔ لیکن اس سے بڑا افسوس یہ کہ اس صنفی امتیاز اور اقلیتی نمائندہ کابینہ میں نہ ہونے پر مذہبی امتیاز پر کوئی قابل زکر اور مسلسل آواز سننے کو نہیں مل رہی ۔ تم ہی بتاؤ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے لیکن ایک آواز آج بھی بار بار کانوں میں گونج رہی ہے اور وہ یہ کہ

ایک منٹ ایک منٹ میں آپ سے کہہ رہا ہوں میں اپنی خوتین ( خواتین ) سے کہہ رہا ہوں تبدیلی کسی اور نے نہیں آپ نے لانی ہے۔

 

فرزانہ کسٹوفر ایک سماجی کارکن ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھتی ہیں لیکن سوشل سروسز کے شوق میں رحیم یار خان سے اسلام آباد آ چکی ہیں۔ متعدد این جی اوز اور اداروں میں خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ ہیومن رائٹس اور ڈویلپمنٹ سیکٹر ان کا خاص شعبہ ہے۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ رہیں۔ آٹھ برس تک تدریس کے شعبے میں خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔

Related posts