نشے کی لت اور نوجوان نسل: تحریر عزیر خان


میری امی ابو مہینے کے اختتام پر دروازے کی راہ دیکھتی رہتی ہے کہ اج یا کل ہمارا بیٹا ہاسٹل سے گھر آنے والا ھے اور میں جب گھر میں داخل ہوتا ہوں تو میری امی مجھے گلے لگا کر کہتی ہے …. ” ہائے تم کتنے کمزور ہوگئے ہو” … اور پھر طرح طرح کے نوازشات مجھ پر ہوجاتے ہیں اور دو دن میں میری والدہ پوری مہینے کی کمی پوری کر دیتی ہے …. یہ سب دیکھ کر مجھے خوشی بھی ہوتی ہے اور اپنے اپ کو خوش نصیب بھی سمجھتا ہو… اور یہی محبت اور توجہ مجھے اور طاقت بخشتی ہے …. کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ بچے والدین کے بڑھاپے کا سہارہ ہوتے ہیں …. لیکن …!!!
کل جب میں جامعہ پشاور سے ہاسٹل جارہا تھا جیسے ہی یونیورسٹی کے دروازے سے باہر نکلا تو سامنے میری نظر چند نوجوانوں پر پڑی جو بالکل مین سڑک کے کنارے ایک ٹولے کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے …. ایسا لگ رہا تھا جیسے گاوں میں لوگ شادیوں میں زمیں پر کھاناکھانے کے لے بیٹھتے ہیں لیکن جب قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ چند نوجوان ہیروین کے نشے میں دھت بیٹھے ہے اور نا ان کو اپنی خبر ہے نا دنیا کی … عجیب سالگا … کہ ھیروئینچی اور وہ بھی ایسی جگہ ….. جہاں روزانہ ہزاروں طلباء علم کی روشنی سے روشناس ہو نے کے لئے اتے ہیں. اس سب تناظر میں حیران کن بات یہ تھی کہ اس میں 20 سال سے کم عمر کے لڑکے بھی تھے اور اس کی حالت ایسی … کہ دھول سے ڈھلا ھوا چہرہ گندے کپڑے …. اپنے دنیا میں مگن نشہ کرنے میں مصروف تھے… مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ والدین اپنے بچوں سے کتنی امیدیں وابستہ کرتے ہے اور دعائیں کرتے ہیں کہ میرا بچہ اچھے سے اچھا تعلیم حاصل کریں تاکہ کل وہ کامیاب آدمی بن کر ہمارے بڑھاپے کا سہارا بن جائے.اور یہ نوجوانان اپنے آپ سے بے خبر سڑک کے کناری گندگی کے ڈھیر میں اس لعنت میں مبتلا ہیں. جنکو یہ پتہ نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے… مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ یہ لوگ آخر ھیروئین جیسے لعنت میں مبتلا کیسے ہو جاتے ہیں…. جو اسے اس حد تک زلیل بناتا ہے جو نہ دین کا رہتا ہے نہ دنیا کا….. مجھے یہ نوجوان دیکھ کر شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا شعر یاد آیا…
“محبت ھیں مجھے ان جوانوں سے”
“ستاروں پر جو ڈالتے ھیں کمند”
اگر آج علامہ اقبال زندہ ھوتا تو نا جانے ان پر کیا گزرتا دیکھ کر کہ وہ نوجوان جن کو میں اپنی خودی اور نگاہ بلند کے زریعے بلندی پر دیکھنا چاھتا تھا یہ تو آج اتنی بلندی پر گئے ھیں کہ اس کو واپس لانے کا تصور بھی ھم نہیں کرسکتے ھیں.
میں نے وھاں پر ایک بزرگ بھی دیکھا جو اس لعنت سے مستفید (معذرت کیساتھ) ہو رہا تھا.اس کے بھی بچے ہونگے وہ بھی یہ سوچتے ہونگے کہ بابا جان آج شام کو ھمارے پیٹ بھرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور لاینگے…. اس بے چاروں کو کیا پتہ کہ نا جانے بابا سے ایسی کونسی گناہ ہوئی ہیں جس کا اسے اتنی بڑی سزا مل رہی ہےلیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اپنے آپ سے بے خبر ہیں ان کو یہ نشہ کہاں سے ملتاہے… ان کے پاس کھانے پینے کیلئے ایک ٹکہ تک نہیں ہوتا, لیکن ھیروئین کیلئے پیسے کہاں سے آجاتی ھے…. خیر یہ تو الگ بات ہے لیکن انتظامیہ کیوں غفلت کی نیند سورہی ہیں,کیا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں…. کہ ایک تعلیمی ادارے کے سامنے کھلم کھلا لوگ ھیروئین اور طرح طرح کے نشے کرتے نظر ارہے ہیں…کیا اس سڑک پر دن میں ایک مرتبہ بھی کوئی خکومتی نمائندہ نہیں جاتا تاکہ اس کا نوٹس لیں یا اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں… پولیس بھی اس معاملے کی طرف کوئی حاص توجہ نہیں دے رہی.اگر اس طرح کے مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے ایئنگے ….ڈرگ فری ورلڈ ویب سائیٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 13.5 ملین لوگ منشیات کا عادی ہیں جن میں 9.2 ملین لوگ صرف ھیروئین استعمال کرتے ہیں.اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم ادارے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 6.7 ملین لوگ منشیات کے عادی ہیں. اور ری ھیبیلیٹیشن سنٹرز نہ ھونے کے برابر ہیں اور اگر ہے بھی تو ایکٹیو نظر نہیں آتے.اور اس کاثبوت یہ ہیں کہ اگر پاکستان میں اور خاص کر پشاور میں اگر ری ھیبلیٹیشن سنٹرز والے ایکٹیو ہوتے تو یہ لوگ کھلے عام ھیروئین اور طرح طرح کے نشے نہیں کرتے.

تحریر
عزیر خان طالب علم شعبہ صحافت یونیورسٹی آف پشاور

Related posts