نوازشریف جلسہ:31ارکان اسمبلی 5ہزار کرسیاں بھرنے میں ناکام


فیصل آباد(احمد یٰسین)جڑانوالہ میں مسلم لیگ ن کا جلسہ فیصل آباد کے ارکان اسمبلی اور لیگی قیادت کیلئے چیلنج بنا رہا۔ بھرپور کوششوں کے باوجود فیصل آباد کی لیگی قیادت اور 31ارکان اسمبلی مل کر بھی پانچ ہزار کرسیوں کی جلسہ گاہ بھرنے میں ناکام رہے۔ ن لیگ یوتھ ونگ اپنی قیادت کیلئے بندے اکٹھے کرنے میں ناکام رہی۔فیصل آباد کے قریبی علاقوں ننکانہ صاحب‘ شاہکوٹ کے علاقوں سے بھی ارکان اسمبلی اور لیگی رہنما جلسہ گاہ میں آئے مگر جلسہ بھرنے میں انکا ساتھ بھی معاون ثابت نہ ہو سکا۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں چار وزیر مملکت‘ ایک انتہائی پاور فل صوبائی وزیر(وزیر قانون رانا ثناء اللہ) ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کو جڑانوالہ میں اپنی مرکزی قیادت جلسہ چیلنج سے کم نہ رہا۔ ن لیگ کے رہنماؤں نے بھرپور کوششیں کیں مگر عوام کی بہت م تعداد کو جلسہ گاہ میں لایا جا سکا۔وزیر مملکت خزانہ پورے سین میں کہیں نظر ہی نہ آئے۔ وزیر مملکت ٹیکسٹائل کی نمائندگی بھی صرف کی نام کی رہی۔ عابد شیر علی بھی آخری دو دن نظر آئے مگر بندے وہ بھی نہ اکٹھے کر سکے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے ساتھ بھی گنتی کے چند لوگ ہی جڑانوالہ گئے۔ وزیرمملکت خزانہ طلال چوہدری کے اپنے حلقے میں جلسہ تھا مگر بندے لانے وہ انہیں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جلسے میں سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد نظر آ رہی تھی۔شہر کے گنجان آباد علاقے میں ہونے والے جلسے میں 4ہزار 930کرسیاں بھرنا بھی ن لیگی قیادت ممکن نہ بنا سکی۔ساہی برادران نے جلسے کی طرف توجہ ہی نہ کی اور مکمل لاتعلق بنے ہے۔ انتہائی قریب ہونے کے باوجود تاندلیانوالہ کے بلوچ برادران بھی جلسے کیلئے بندے لانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ سمندری سے شہباز بابر آئے مگر خالی گاڑی کیساتھ اور وہ بھی فوٹو سیشن کی حد تک جلسے میں شامل ہوئے۔ چیئرمین ایف ڈی اے شیخ اعجاز احمد بھی جلسہ گاہ بھرنے کی طرف توجہ نہ کرسکے اور اپنے چند ساتھیوں کی ہمراہی میں آئے فوٹو سیشن کروایا اور پھر غائب ہو گئے۔حاجی خالد سعید اور الیاس انصاری کسی قطار شمار میں ہی نہ نظر آئے۔ چوہدری شیر علی نے عابد کو تو بھجوا دیا مگر جلسے میں ان کے ساتھی نظر آئے اور نہ وہ خود اس کا حصہ بنے۔ ن لیگ یوتھ ونگ کے صوبائی صدر کاشف نواز رندھاوا بھی میڈیا مینجمنٹ کیساتھ ہی جلسے میں انٹری دیتے رہے ۔ عملی طور پر ان سے بھی بندے اکٹھے نہ ہوسکے۔ درجن بھر لوگوں کیساتھ وہ جلسہ گاہ میں آئے اور پورے جلسے میں انکا کردار اسی تک محدود رہا۔ میڈیا میں بڑے بڑے اعلانات کے بوجود نواز شریف کے جلسے کیلئے بندے اکٹھے کرنا ان کیلئے بھی ممکن نہ ہوسکا۔رانا ثناء اللہ جلسے سے پہلے پریس کانفرنسیں تو کرتے رہے مگر جلسے میں بندے لانے کی ان کی کوشش نظر آئی اور نہ وہ کسی کو اپنے ساتھ جلسہ گاہ لائے۔جلسے کے انتظامات اور جلسہ کی کامیابی میں ان کا صرف زبانی جمع خرچ ہی نظر آیا۔ میئر فیصل آباد کی انٹری بھی صرف نواز شریف کا استقبال کرنے تک محدود رہی۔ جلسہ بھرنے کی طرف ان کی بھی توجہ نہ ہوئی۔چیئر مین ضلع کونسل چوہدری زاہد نذیر طلال چوہدری سے مخالفت کے باوجود جلسہ کیلئے کسی حد تک بندے اکٹھے رتے نظر آئے اور چند بسیں بھر لائے۔جلسے میں شرکاء کو کھانا کھلانے کا بھی انتظام تھا مگر اس کی خاطر بھی بندے اکٹھے نہ ہوئے۔ ارد گرد کے علاقے کے لوگ اور سرکاری ملازمین جلسے میں نظر آرہے تھے ۔ جلسے میں انتظامات بھی بڑی حد تک ناقص تھا۔ سٹیج پر چڑھنے کی دھکم پیل آغاز سے لے کر اختتام تک جاری رہی۔ میڈیا انکلوژر پر غیرمتعلقہ لوگوں کا قبضہ نظر آیا۔جلسہ گاہ میں خالی کرسیاں ن لیگ کی قیادت کا منہ چڑھا رہی تھیں اور سٹیج سے تقریروں میں بڑے بڑے دعوے اور اعلانات ہوتے رہے۔ ن لیگ نے 20ہزار کرسیاں لگانے کا دعویٰ کیا مگر یہ بھی جھوٹا دعویٰ ثابت ہوا۔ میڈیا نے گنتی کی تو صرف 4ہزار 930کرسیاں تھیں اور ان میں سے بھی بڑی تعداد میں خالی پڑی تھیں۔

Related posts