نیا پاکستان: جی سی یونیورسٹی میں خلاف میرٹ درجنوں تعناتیاں


فیصل آباد(نیوزلائن)گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں پروفیسر ز ،ایسوسی ایٹ پروفیسر ز ،اسسٹنٹ پروفیسر ز اور لیکچررز کی آسامیوں پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعیناتیوں کا انکشاف ہوا ہے یونیورسٹی انتظامیہ نے ایچ ای سی قوانین کے خلاف خود ساختہ سکرونٹی کروا کر اہلیت کے خلاف ہی نہ صرف مختلف افراد کو مختلف عہدوں پر تعینات کر دیا ہے ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ ان کو غیر قانونی ترقیوں کے بھی قابل قرار دیدیا ہے جس کی وجہ سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کانقصان پہنچنے کاخدشہ ہے ذرائع کے مطابق جی سی یونیورسٹی میں عہدوں کی بندربانٹ جاری ہے یو نیورسٹی انتظامیہ نے شعبہ کیمسٹری ، اپلائی کیمسٹری،بائیو کیمسٹری اورمختلف شعبوں میں ان افراد کو بھرتی کر رکھا ہے جنکی اہلیت متعلقہ سیٹ کے مطابق نہیں ہے یا ان میں سے اکثر کے پاس متعلقہ تجربہ ہی نہیں ہے لیکن ان کو مختلف عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب سکرونٹی کمیٹی کے اور مختلف شعبوں کے سربراہان نے ڈاکٹر شازیہ انور بخاری کو غیر قانونی طور پر 2014 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بائیوکیمسٹری تعینات کیا 2017 میں اس کوبائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کی چیئر پرسن لگا دیا گیا اور اب اس کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ نے خصوصی شفقت کر تے ہوئے پروفیسر آف بائیو کیمسٹری کی سیٹ نکال لی گئی اور پھر سکرونٹی کمیٹی نے اس کو پروفیسر آف بائیو کیمسٹری کی سیٹ کیلئے اہل بھی قرار دیدیا ہے حالانکہ یہ خاتون پروفیسر آف کیمسٹری کی سیٹ کے اہل نہیں ہے جبکہ اس کو پروفیسر آف کیمسٹری کیلئے بھی اہل قرار دیدیا ہے حالانکہ یہ خاتون دونوں سیٹوں کی اہل نہیں ہے کیونکہ شازیہ انور کی پی ایچ ڈی ڈگری کیمسٹری میں ہے اور اس کو بائیوکیمسٹری میں لگا دیا گیا ہے جبکہ ان کی ایم ایس سی کی ڈگری بھی کیمسٹری میں ہے ذرائع کے مطابق اس خاتون کو سکرونٹی کمیٹی نے خصوصی مہربانی کر تے ہوئے پروفیسر آف کیمسٹری ، پروفیسر آف بائیو کیمسٹری دونوں سیٹوں کیلئے اہل قرار دیدیا ہے اگر قانون کے مطابق دیکھا جائے تو یہ خاتون پروفیسر آف بائیو کیمسٹری کیلئے اس لیئے اہل نہیں کیونکہ اس کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کیمسٹری میں ہے بائیو کیمسٹری میں نہیں جبکہ خاتون پروفیسر آف کیمسٹری کے اہل اس لیے نہیں کیونکہ اس کاتجربہ بائیوکیمسٹری میں ہے اس لیے یہ دونوں عہدوں میں اہل نہیں ہے ذرائع کے مطابق بائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ فیکلٹی آف لائف سائنس میں شامل ہے جبکہ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ فیکلٹی آف ڈیپارٹمنٹ فزیکل میں شامل ہے اس لیے یہ دونوں شعبے ہی مختلف ہیں اور یونیورسٹی نے ان کی 2014 میں ہی تعیناتی غیر قانونی کی تھی اور اب ان کو پروفیسر کی سیٹ کیلئے بھی اہل غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر شازیہ انور کا پروفیسر کی سیٹ کے لیے پوسٹ پی ایچ ڈی اور مکمل تدریسی تجربہ بھی مکمل نہیں ہے۔کیونکہ پوسٹ پی ایچ کے لیے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد دس سال کا تجربہ ہونا چاہیے یا ٹوٹل ایم اے کی کلاسز کو پڑھانے کا پندرہ سالہ تجربہ ہونا چاہیے لیکن یہ خاتون دونوں تجربوں کے معیار پر پورا نہیں اترتی اس کا ریسرچ ایسوسی ایٹ کا ڈیڑھ سال کا تجربہ اس کے ٹوٹل تجربے میں شامل کیا گیا ہے جو کہ ایچ ای سی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے ایچ ای سی قوانین کے مطابق ریسرچ ایسوسی ایٹ کا تدریسی تجربہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اس خاتون پروفیسر کو پنجاب کی ایک اعلی سیاسی شخصیت کی شفارش پر ترقی دی گئی ہے۔جبکہ شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری کی چیئر پرسن تحسین گلزار کو بھی پروفیسر کے لئے اہل قرار دیدیا گیا ہے اور انہوں نے جب 2008 میں پروفیسر کیلئے اپلائی کیا تھا تو اس وقت انہوں نے اپنے تجربے کا جنرل پروف ریڈر کا لیٹر لگایا تھا اور اب جب انہوں نے دوبارہ پروفیسر کیلئے اپلائی کیا گیا تو انہوں نے تجربے کا جو لیٹر لگایا ہے وہ سینئر ریسرچ آفیسر کا لگا دیا ہے اور یہ دونوں لیٹر ایچ ای اے جے کے ادارے کے ہیں ذرائع کے مطابق اس ادارے سے ایک وقت میں کوئی آدمی دو کورس ہی نہیں کرسکتا اس لیئے ان کے ڈاکو منٹ جعلی ہیں جو انہوں نے ساتھ لگا ئے ہیں لیکن سکرونٹی کمیٹی نے ان کو بھی اہل قرار دیدیا ہے۔اس حوالہ سے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ۔

Related posts