واسا فیصل آباد نے راوی‘ چناب‘ سندھ کا پانی پینے کے قابل نہ چھوڑا


فیصل آباد(احمد یٰسین)واسا فیصل آباد نے دریائے راوی‘ دریائے چناب‘ دریائے سندھ کا پانی ناقابل استعمال کر دیا۔ واسا مسلسل 20سال سے کیمکل ملا انتہائی آلودہ پانی دریائے چناب اور راوی میں پھینک رہا ہے ۔ دونوں دریاؤں کا آلودہ پانی دریائے سندھ میں جا رہا ہے اور وہاں سے سمندر تک جاتا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق واسا فیصل آباد سالانہ ایک لاکھ ملین گیلن سے زائد کیمیکل ملا اور فیکٹریوں کا انتہائی آلودہ پانی دریائے راوی اور چناب میں پھینک رہا ہے اور یہ کام وہ مسلسل بیس سال سے کر رہا ہے۔ روزانہ 310ملین گیلن سے زائدانتہائی آلودہ اور مضر صحت پانی واسا دریاؤں میں پھینک کر لوگوں کو بیماریوں کا شکار کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ماہرین کے مطابق واسا فیصل آباد انتہائی آلودہ پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریاؤں میں پھینک کر بہت بڑے سوک کرائم کامرتکب ہو رہا ہے۔پنجاب حکومت نے بھی واسا فیصل آباد کو اس گھناؤنے کام سے روکنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔مسلسل بیس سالوں سے کیمکل ملا اور انتہائی آلودہ پانی دریاؤں میں پھینکے جانے سے ان کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں رہا اور بیماریوں کا بعث بن رہا ہے۔واسا کی ذمہ داریوں میں اولین ویسٹ واٹر کی محفوظ انداز میں تلفی شامل ہے لیکن واسا حکام نے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی بجائے اس انتہائی آلودہ و کیمیکل ملے پانی کو ڈائریکٹ دریاؤں میں پھینک کر ملک فیصل آباد‘ جنوبی پنجاب اور سندھ کی عوام میں بیماریاں بانٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔واسا کے اس گھناؤنے جرم بارے فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ بھی آگاہ ہے اور پنجاب حکومت بھی اس’’ سوک کرائم ‘‘بارے جانتی ہے مگر کسی نے واسا کو اس گھناؤنے جرم سے روکنے کی کوشش کی اور نہ واسا حکام کو ان کی بنیادی ذمہ داری ’’ویسٹ واٹر کی ٹریٹمنٹ ‘‘ یاد کروانے کی کوشش کی۔ فیصل آباد کے دونوں اطراف بہنے والے دریاؤں راوی اور چناب کو واسا مسلسل 20سال سے آلودہ کرنے کا مشن اپنائے ہوئے ہے اور اس میں انتہائی تیزی کیساتھ اضافہ کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ بیس سالوں میں واسا فیصل آباد نے دریائے راوی اور دریائے چناب کے پانی کوزہر آلود کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور اس مشن کو بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے مستقبل میں بھی واسا کو اس گھناؤنے مشن سے روکنے میں کوئی قانون ‘ کوئی ادارہ اور کوئی شخصیت حائل ہوتی نظر نہیں آتی۔

Related posts

Leave a Comment