واسا 40 سال میں بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا قابل نہ ہوا


فیصل آباد (نیوز لائن) واسا فیصل آباد40سال میں پاؤں پر کھڑا نہ ہوسکا۔ سبسڈی کی بیساکھیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ کرپشن‘ نااہلی‘ بدانتظامی ‘ افسران اور سیاسی شخصیات کی ناقص پلاننگ نے واسا کو پاؤں پر کھڑا ہونے کا لائق ہی نہیں چھوڑا۔ سالا نہ 60کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے جبکہ شہر کی 40فیصد آباد ی کو واٹر سپلائی اور سیوریج کی سہولت سرے سے فراہم نہیں کی جا رہی جبکہ جہاں سروس ہے اس کا معیار بھی انتہائی ناقص اور واسا سروسز کے بارے میں شکایات کے انبار اس کی کارکردگی کا پول کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ فیصل آباد کے ایک مؤقر جریدے کی انویسٹی گیشن رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ واسا فیصل آباد اپنے قیام سے لے کر اب تک کبھی بھی اپنے اخراجات کو آمدنی کے مطابق نہیں رکھ سکا۔ واسا فیصل آباد کا قیام 13اپریل 1978کو عمل میں آیا تھا اور اپنی 40سالہ زندگی میں اسے اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے حکومتی سبسڈی‘ ایف ڈی اے کی امداد یا سرمایہ داروں کی خیرات پر ہی گزارا کرنا پرا ہے۔ سرمایہ داروں سے انڈسٹریل اور کمرشل بلوں کی درست وصولی کی بجائے واسا حکام سال کے آخر میں خیرات اور امداد کے حصول کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق واسا فیصل آباد کو ہر مالی سال کے اختتام پر اپنا بجٹ ریوائز کرکے متعدد منصوبوں پر کام روکنا پڑتا ہے جبکہ آمدن کے تخمینہ جات کو بھی بدلنے پر مجبور ہوتی ہے۔ واسا رپورٹس کے مطابق گزشتہ مالی سال میں واسا کو حکومت سے پچاس کروڑ روپے کے لگ بھگ سبسڈی مانگنی پڑی۔ بھرپور ریکوری مہم اور اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ بلنگ وصولی کے باوجود وہ اپنے اخراجات پورے کرنے میں ناکام رہا۔ اور واسا کو اپنے اخراجات میں کٹ لگانا ہی پڑا۔ گزشتہ مالی سال میں اپنے بجٹ کے تخمینہ جات سے75کروڑ روپے کم ریونیو اکٹھا کرسکااس میں حکومت سے 54کروڑ روپے کی سبسڈی اور سرمایہ داروں سے لئے گئے امدادی پیکج شامل کرکے بھی اس قابل نہ ہوسکا کہ اپنے اہداف کو پورا کرسکے۔اس سال واسا کو اپنا بجٹ ریوائز کرنا پڑا اور اپنے 22کروڑ 10لاکھ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کو رول بیک کرنا پڑا اور اس’’ بچت‘‘سے ملازمین کی تنخواہیں اور افسران کے مراعاتی پیکج پورے کرسکا۔ ذرائع کے مطابق واسا فیصل آباد نے رواں مالی سال کیلئے چار ارب 88کروڑ 90لاکھ 11ہزار روپے آمدن اور چار ارب 86لاکھ کے اخراجات کا تخمینہ لگا رکھا ہے۔موجودہ ایم ڈی واسا فقیر محمد نے اپنے زپیشرو افسران کی روایات کے مطابق یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت سے سبسڈی نہیں لیں گے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر دکھائیں گے مگر اپنے اس دعوے کو پورا کرنے میں مکمل طور ناکام ہیں۔ واسا کو رواں سال ایک ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے۔ حکومت سے سبسڈی مانگنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی حکومت سبسڈی دینے کیلئے ابھی تک رضامند نہیں ہے۔ سرمایہ دار ٹولے سے امدادی رقوم کے حصول کیلئے بھی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ مگر اتنے زیادہ خسارے کو پورا کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ رپورٹس میں سامنے آیا ہے کہ انڈسٹریل اور کمرشل صارفین سے ان کے استعمال کردہ پانی اور سیوریج کے درست بل وصول کر لئے جائیں تو واسا فیصل آباد کا سب سے خوشحال اور خودمختار ادارہ بن سکتا ہے جبکہ ڈومیسٹک صارفین کو بھی واٹر سپلائی اور سیوریج کی سہولت مفت فراہم کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ مگر اس معاملے میں کرپشن کا جن اتنا بے قابو ہے کہ واسا کو ہر وقت جان پر بنی رہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق واساحکام نے خودمختاری کے نعرے پر یو ٹرن لیتے ہوئے سبسڈی مانگنا شروع کردی ہے جبکہ سرمایہ داروں کو بھی سال بھر کی رعائتیں گنوا کر امداد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مالی سال کے آخری تین ماہ میں ڈومیسٹک صارفین کی جان عذاب کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر ’’خصوصی فورس‘‘ تیارکی جارہی ہے۔ مگر ماہرین ایک ارب سے زائد کے متوقع بجٹ خسارے کو پورا کرنا کسی صورت ممکن قرار نہیں دے رہے اور توقع کی جارہی ہے کہ واسا اپنی چالیس سالہ تاریخ کے مطابق حسب روائت اس سال بھی سبسڈی اور امدادی پیکجز کے باوجود خسارے کا ہی شکار رہے گا اور اس کو اپنے متعدد منصوبوں کو ادھورا ہی چھوڑنا پڑے گا۔

Related posts