وزیر سائنس کا ایگریکلچرٹیکنالوجی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

فیصل آ باد (نیوز لائن) سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیرفواد احمد چوہدری نے کہا ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف کی قیادت میں کراپ و لائیوسٹاک تحقیق و تعلیم سے وابستہ ماہرین پر مشتمل قومی سطح کی ایگریکلچرٹیکنالوجی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہاہے جو فی کس سکڑتے زرعی رقبوں میں فی ایکڑ پیداوار اور منافع میں اضافہ اور ویلیو ایڈیشن و پراسیسنگ کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ زرعی برآمدات میں اضافہ اور اکیڈیمیا انڈسٹری و کسان کے روابط میں بہتری کی راہ ہموار کرے گی۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سنڈیکیٹ روم میں وائس چانسلرڈاکٹر محمد اشرف کے ہمراہ یونیورسٹی کے ڈینز و ڈائریکٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ انہوں نے وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی اداروں میں ریسرچ و ڈویلپمنٹ فنڈسے چونکہ مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہورہے لہٰذا اس کے متبادل انڈسٹری کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے وہی وسائل سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے مختص کئے جائیں تو چند ہی برسوں میں پاکستانی سائنس دان بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکیں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی ماہرین سے کہا کہ وہ فوڈ سیفٹی‘ بیجوں اور پیسٹی سائیڈکے سٹینڈرزپر جامع پلان ان تک پہنچائیں تاکہ قومی سطح پر ان کا یکساں نفاذ یقینی بنایا جا سکے جس سے ان شعبوں میں ملاوٹ و جعل سازی کا یکسرخاتمہ کرتے ہوئے بہترین کوالٹی کے بیج اور دوسرے زرعی مداخل کم قیمت میں کسان تک پہنچائے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ 1960ء کی دہائی میں ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں سوویت یونین سے زیادہ پیچھے نہیں تھے لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی کا وفاقی وزیرڈپٹی پرائم منسٹر کے طو رپر کام کرتا ہے تاہم وہ وزیراعظم عمران خان کے شکرگزار ہیں جنہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی کی اہم وزارت کیلئے ان کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ وزارت کو 43ارب روپے کے وافر فنڈز بھی فراہم کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چمڑے کی صنعت ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی انڈسٹری ہے جو دنیا کے نامور اور معتبراداروں کو چمڑا برآمد کررہی ہے لہٰذا وہ چاہیں گے کہ پاکستان سے حلال گوشت‘ پھل و سبزیاں بھی یورپ‘ امریکہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گھریلو‘ صنعتی اور زرعی سرگرمیوں میں پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے جس کیلئے نئے پروگرامز متعارف کروائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اگست یا اکتوبر میں قومی سائنس میلے کا انعقاد کر رہی ہے جس کے ذریعے سائنسی اختراعات کی رجسٹریشن اور آئی پی راٹیس کیلئے 15جولائی کے بعد ویب پورٹل کھول دیا جائے گااور وہ توقع رکھتے ہیں کہ اس سائنس میلے کے ذریعے قومی سطح پر کمرشلائزیشن کیلئے سینکڑوں ٹیکنالوجیز سامنے آئیں گی۔ انہوں نے یونیورسٹی قیادت پر زور دیا کہ نوجوانوں کو نوکریوں کی تلاش کے بجائے خودروزگار کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ ملازمت کی تلاش کے بجائے ملازمت دینے والے بن سکیں۔ انہوں نے یونیورسٹی قیادت پر زور دیا کہ بھارت کی طرز پر ایگریکلچرایجوکیشن‘ ریسرچ اور ایکسٹینشن کو باہم مربوط کرنے کیلئے اپنی تجاویز ان تک پہنچائیں تاکہ ان پر سیرحاصل بحث کے بعد مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ ان سے قبل یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف نے وفاقی وزیرکو بریفنگ میں بتایا کہ یونیورسٹی ماہرین چین کی طرز پر پاکستان کے چھوٹے کاشتکاروں کیلئے سمارٹ اور سستی زرعی مشینری متعارف کروانے جا رہے ہیں جس سے پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے کسان کی معاشی حالت میں بہتری لائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں سیڈپروڈکشن یونٹ کا قیام بھی جلد عمل میں لایا جائے گا تاکہ قومی سطح پر بیجوں کی درآمد پر خرچ ہونیوالا کثیرزرمبادلہ بچایا جا سکے۔ ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے فوڈ سائنس دانوں کو ویلیوایڈیشن اور پراسیسنگ کے چھوٹے ماڈل متعارف کروانے کی ہدایت کی ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ اس سے چھوٹے کاشتکار کوزراعت سے جوڑے رکھنے میں مدد حاصل ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے بعد ازاں وائس چانسلرڈاکٹر محمد اشرف کے ہمراہ فوڈ سائنس وٹیکنالوجی‘ ہارٹیکلچر اور سوائل سائنس کی تحقیقاتی لیبارٹریوں کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹی کوملک کابہترین گرین کیمپس بھی قرار دیا۔

Related posts