ونٹی لیٹر – تحریر شفقت ندیم


میرے ایک دوست چائے کا اس قدر شوق رکھتے ہیں کہ جب بھی چائے کے لئے کسی کیفے کارخ کرتے تو دو چار کپ پی کر اٹھتے ۔موصوف ون ٹی لیٹر کہہ کرچُسکیاں بھری گپ شپ کا ایسا سلسلہ شروع کرتے جورات دیر تک چلتا، میں نے ایک دن اتنی چائے کی وجہ پوچھی تو جناب نے ایک لمبی گرم سانس چھوڑتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ پہلی ایک دو باریاں تو صرف لہو گرم کرنے کے لئے ہوتی ہیں اصل ہنی مون تو بعد میں شروع ہوتا ہے مجھ جیسے ’’ان پاڑ‘‘ کو سمجھ آ گئی کہ سیاستدان باریاں کیوں نہیں چھوڑتے ۔پہلے ایک دو کپ تو صرف موڈ بنانے کی لیے ہوتے ہیں جس سے جسم کا درجہ حرارت اور خون تھورا گرم ہوتاہے بعد میں تو سانس کی ہوا بھی گرم محسوس ہوتی ہے جو سانس کی تمام نالیوں کو ایسے کھولتی ہے جیسے نیب آج کل صاحبان اختیار کی فائلیں کھول رہاہے۔جناب نے گفتگو کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ میں ملتان کا ہوں اور تم جانتے ہو کہ پچھلے سال ملتان کے ایک نوجوان قربان نے کمال قربانی کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دو سہیلیوں کے ساتھ اکٹھا نکاح کیا تھا مجھ میں اتنا حوصلہ تو نہیں کہ دو نکاح برداشت کر سکوں لیکن دو چارکپ چائے پی کر دل کو تسلی ضرور ہو جاتی ہے۔جہاں تک تسلی کی بات ہے تو شکر ہے کہ چائے سے ہو جاتی ہے وگرنہ ہمارے صاحبان اختیار کے پاس ہمارے لیے ہوائی تسلیوں ،جھوٹے دلاسوں کے علاوہ اگلے پانچ سال کے لیے مزید وعدے اور ٹھیکداروں سے نئے معاہدے کرنے کے سوا باقی کچھ نہیں ہوتا۔
ونٹی لیٹر کے لفظی معنی ہوا دینے کے ہیں لیکن یہ وہ ہوانہیں جو پنکھے سے آتی ہے کیونکہ پنکھے کی ہوا تو کافی عرصہ سے بجلی کے بحران کی وجہ سے عوام کے ساتھ آنکھ مچلولی کھیل رہی ہے۔ اورنہ یہ وہ ہوا ہے جو دو فریقوں کی لڑائی میں تیسرا فریق آگ کو مزید تیز کرنے کے لیے دیتا ہے یہ تو صحت بخش ہوا ہے جو زندگی بچانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ہوا سے یاد آیا آج کل تو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ہوا بھی گرم آرہی ہے جس نے صاحبان اختیار کے ساتھ ساتھ عوام کا پارہ بھی گرم کر دیا ہے ۔ اس گرم پارے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نہ تو ہمارے ملک میں زیادہ برف ہے اور نہ ہی پانی۔ہمارے دریاتو ایک ایک کر کے خشک ہورہے ہیں اور زرخیز زمینیں بھی پانی نہ ہونے کی وجہ سے بنجراور’’ خشک سالی‘‘ کا شکار ہیں۔ظاہر ہے اگرسالی خشک ہو گی تو سسرال میں ماحول بھی خشک ہی ملے گا۔
ونٹی لیٹر سے مراد روشن دان بھی ہے روشن دان نہ صرف تازہ ہوا کی سپلائی کو یقینی بناتا ہے بلکہ سورج کی روشنی بھی مہیا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گھر کی تعمیر میں روشن دان کی ایک مخصوص جگہ روشنی کے حصول کے لئے یقینی ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح سیاست دانوں ، بیوروکریٹس اور مختلف مافیاز کی اندھیر نگری پر روشنی ڈالنے کے لیے کچھ روشن دان قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور نیب کی صورت میں ہمارے ملک میں بھی موجود ہیں۔ آج کل توسب سے بڑی ٹارچ میڈیا کے ہاتھ میں ہے کہ بڑے بڑے ایشوزپر ہرروز شام کوٹاک شوز میں روشنی ڈالی جاتی ہے۔ہمارے ایک دوست نے کمال روشن خیالی کامظاہرہ کرتے ہوئے جس بہو کا انتخاب کیا اس کا نام روشنی تھا۔مقصد تھا کہ لوڈشیڈنگ کے دور ان گھر میں روشنی ہو گی۔ لیکن بہو صاحبہ نے آتے ہی ہر کام پر چاہے روشنی میں ہوںیااندھیرے میں ،روشنی ڈالنا شروع کردی۔ اب روشن خیالی کے ساتھ ساتھ نہ راشن ہے اور نہ روشنی سب کچھ روٹھ چکا ہے۔بہرحال امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمارے روشن ادارے روشن پاکستان کی بنیاد رکھیں گے جو آزادی کی ستر سال سے عام آدمی کا خواب بھی ہے اور خواہش بھی۔
ونٹی لیٹر ایک میڈیکل ٹول کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جو سانس لینے کے عمل میں مدد فراہم کرتاہے۔اس میڈیکل ٹول سے اگر کوئی مخلوق صحیح فائدہ اٹھاتی ہے تو وہ ہمارے صاحب اختیار بیوروکریٹس اور سیاست دان ہیں کیونکہ جب بھی ملک کے اندر پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یہ ’ہوائی مخلوق‘ علاج کی غرض سے کسی نہ کسی ملک کے ہوائی سفر پر روانہ ہو جاتی ہے اور لینڈنگ بھی سیدھی پارک لینڈکے کسی اچھے اور مہنگے ہسپتال میں ہوتی ہے ۔ اس ہوائی مخلوق کا ہوائی لینڈنگ کے بعد سب سے پہلا کام اپنی بیماری کی حالت میں بنی تصویر کو وائرل کرنا ہوتا ہے جس میں ونٹی لیٹرسب سے نمایاں نظر آتاہے۔اس لئے ونٹی لیٹر نہ صرف زندگی کی حفاظت کرتاہے بلکہ صاحب اختیار کی طرف سے لوٹی ہوئی دولت کو محفوظ بنانے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔یوں ونٹی لیٹرکا رول زمانہ حال کے لحاظ سے کرپشن کو دوام بخشنے اور سیاستدانوں کو صحت کے ساتھ ساتھ مال و دولت کو تحفظ دینے میں بھی پیش پیش ہے۔
ہمارے ایک دوست اقبال صاحب ونٹی لیٹر کو ہمیشہ ونٹ لیٹرکے معنوں میں لیتے ہیں ۔ان کا یہ وطیرہ ہے کہ آفس آٹھ کی بجائے دس بجے آنا ہے لیکن اگر کبھی بدقسمتی سے وہ بگ باس کے رڈار میںآ تے تو پھر سارا دن اس کے منہ پر بارہ بجے رہتے ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ ان کے معمول میں کوئی ردو بدل آئے ۔ حضور کی اپنی ایک فکس ٹائمنگ ہے جناب نے سن رکھا ہے کہ اقبال ہمیشہ لیٹ آتا ہے۔لیٹ سے یاد آیا کہتے ہیں کہ لیٹ آئے درست آئے عام فہم کے لیٹ کر نہ آئے جیسے آج کل ہماری ہاکی کا حال ہے۔ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے امید ہے کہ وقت آئے گا کہ یہی ٹیم ایک دن جیت کا تمغہ بھی اپنے سینے پر سجائے گی۔ کاش ہمارے تجربہ کارمعیشت دان کوئی ایسا ونٹی لیٹر بنانے میں کامیاب ہو جائیں جو ہماری معیشت کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کو بحال کر سکے۔

Related posts