فیصل آباد میں ویمن پولیس ہیلپ لائن ختم: ٹال فری نمبر 1213بند

فیصل آباد ( احمد یٰسین) تبدیلی کے نعرے کا ساتھ اقتدار میں آنیوالی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے ”تبدیلی ”کے مظاہرے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ تبدیلی کا ثبوت دیتے ہوئے پنجاب حکومت نے فیصل آباد میں ویمن پولیس ہیلپ لائن ختم کردی ہے اور ہیلپ لائن کیلئے مختص ٹال فری نمبر 1213کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ نیوز لائن کے مطابق فیصل آباد میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور جنسی ہراسگی’ گھریلو تشدد’ زیادتی ‘ اغواء ‘ لڑکوں کی چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بننے والی خواتین کو تحفظ دینے کیلئے ویمن پولیس ہیلپ لائن سال 2014میں مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت نے قائم کی تھی۔ ہیلپ لائن سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قائم کردہ ویمن پولیس سٹیشن کے باہر بنائی گئی اور اس میں ٹال فری نمبر 1213لگا کر اسے 24گھنٹے آپریشنل رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ پانچ برس تک قائم رہنے والی ویمن پولیس ہیلپ لائن کا افتتاح گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی اہلیہ پروین سرور نے کیا تھا۔ خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلئے ٹال فری نمبر کے ساتھ بنائی گئی ویمن پولیس ہیلپ لائن کے قیام کا پنجاب پولیس اور صوبائی حکومت نے خوب ڈنکا بجایا اور اسے فیصل آباد میں خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کی طرف اہم سنگ میل قرار دیا۔ ویمن پولیس ہیلپ لائن کے قیام کو گورنر پنجاب کی برطانیہ پلٹ اہلیہ پروین سرور اپنا کارنامہ قرار دیتی رہیں اور اس کو عالمی سطح پر پاکستان کے روشن چہرے سے تعبیر کرتی رہیں۔ پنجاب کی موجودہ حکومت نے بغیر کسی اعلان کے خواتین کے عالمی دن پر اچانک ختم کردیا ۔ ٹال فری نمبر بھی بند کردیا گیا اور ہیلپ لائن کیلئے مختص جگہ کو تھانہ کوتوالی کے مرد اہلکاروں کے حوالے کردیا گیا۔پنجاب حکومت نے پاکستان کا روشن چہرہ عالمی سطح پر پیش کرنے والی ویمن پولیس ہیلپ لائن کو عین اس دن بند کیا جب گورنر پنجاب کی اہلیہ پروین سرور فیصل آباد کے دورے پر آئی ہوئی تھیں اور فیصل آباد میں ہی مختلف تقاریب میں خواتین کو حقوق دینے اور ان کے خلاف جرائم کی روک تھام کیلئے بلند بانگ دعوے اور وعدے کررہی تھیں۔ویمن پولیس ہیلپ لائن بند کرنے کے حوالے سے تھانہ ویمن فیصل آباد کی ایس ایچ او عشرت رشید کا کہنا ہے کہ یہ اعلیٰ سطحی فیصلہ کے تحت بند کی گئی ہے ۔ اس کی بندش کی وجوہات سے وہ آگاہ نہیں ہیں۔ اچانک ہی اسے بند کرنے کا حکم آیا اور بند کرکے تالے لگا دیئے گئے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں اس بارے اعلیٰ افسران یا حکومتی نمائندے ہی بتا سکتے ہیں۔

Related posts